الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ النَّهْي عَنْ كَشْفِ السَّيْرِ أَوِ النَّظْرِ مِنْ قَبْلِ الاذن وَ وَعِيدِ فَاعِلِهِ
پردہ اٹھانے، اجازت سے پہلے دیکھنے اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8289
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ كَشَفَ سِتْرًا فَأَدْخَلَ بَصَرَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَقَدْ أَتَى حَدًّا لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا فَقَأَ عَيْنَهُ لَهُدِرَتْ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى بَابٍ لَا سِتْرَ لَهُ فَرَأَى عَوْرَةَ أَهْلِهِ فَلَا خَطِيئَةَ عَلَيْهِ إِنَّمَا الْخَطِيئَةُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی پردہ کھولے اور اجازت سے پہلے کسی کے گھر میں نظر ڈالے، اس نے حد جتنا جرم کیا، اس کے لئے ایسا کرنا حلال نہیں تھا، اور اگر کوئی آدمی اس کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے، تو اس کی آنکھ رائیگاں اور ہدر ہے، اگر کوئی آدمی اس دروازے پر سے گزرتا ہے، جس پر پردہ نہیں اور وہ اس گھر کی پردہ والی چیز دیکھ لیتا ہے تو اس پر غلطی کا الزام نہیں لگایا جائے گا، بلکہ ایسی صورت میں غلطی گھر والوں کی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8289]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني في الصحيحة، أخرجه الترمذي: 2707، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21359 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21686»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 8290
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سِتْرِ حُجْرَتِهِ وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى فَقَالَ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ هَذَا يَنْظُرُنِي حَتَّى آتِيَهُ لَطَعَنْتُ بِالْمِدْرَى فِي عَيْنِهِ وَهَلْ جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ إِلَّا مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ پر لٹکے ہوئے پردے سے دیکھا، آپ کے ہاتھ میں کنگھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں جانتا ہوتا کہ یہ مجھے دیکھ رہا ہے تو میں اس کے قریب آ کر اس کی آنکھ میں یہ کنگھی مار دیتا، نظر کی وجہ سے ہی اجازت لینے کو مشروع قرار دیا گیاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8290]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23221»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2156
حدیث نمبر: 8291
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ اطَّلَعَ عَلَى قَوْمٍ فِي بَيْتِهِمْ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يَفْقَئُوا عَيْنَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے گا، ان کو اجازت ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8291]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2158، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7605»
وضاحت: فوائد: … قرآن و حدیث میں کسی کے گھر داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے پر زور دیا گیا ہے، حتی کہ اپنے ماں باپ کے گھر میں بھی اجازت طلبی کے بغیر داخل ہونا ممنوع ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2158