الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَعِيدِ الشَّدِيدِ لِمَنْ نَسِيَ الْقُرْآنَ أوْ بَعْضَهُ بَعْدَ حِفْظِهِ أَوْ نَرَى بِقَرَاء تِهِ أَوْ نَاكُلَ بِه أَولَمْ يَعْمَلْ بِمَا فِيهِ
حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8394
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ قرآن مجید ضرور پڑھیں گے، لیکن اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8394]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2312»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8395
عَنْ بَشِيرِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكُونُ خَلَفٌ مِنْ بَعْدِ سِتِّينَ سَنَةً أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا [سورة مريم: ٥٩] ثُمَّ خَلَفٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَفَاجِرٌ قَالَ بَشِيرُ فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ مَا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ فَقَالَ الْمُنَافِقُ كَافِرٌ بِهِ وَالْفَاجِرُ يَتَأَكَّلُ بِهِ وَالْمُؤْمِنُ يُؤْمِنُ بِهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ساٹھ سال بعد ایسے نااہل لوگ پیدا ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کر دیں گے اور شہوات کی اتباع کریں گے، ارشادِ باری تعالی ہے: {اَضَاعُوا الصَّلَاۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوَاتِ فسَوْفَ یُلْقَوْنَ غَیًّا} … پھر ان کے بعد ایسے نالائق جانشین ان کی جگہ آئے جنھوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے تو وہ عنقریب گمراہی کو ملیں گے۔ پھر ان کے بعد نااہل ہوں گے، جو قرآن مجید تو پڑھیں گے، لیکن وہ ان کی ہنسلی کی ہڈی سے نیچے نہیں اترے گا، قرآن مجیدکی تلاوت تین قسم کے لوگ کرتے ہیں: مومن، منافق اور فاجر۔ بشیر راوی نے کہا: میں نے ولید سے پوچھا: یہ تین آدمی کون ہیں؟ انھوں نے کہا: منافق بھی دراصل قرآن مجید کا منکر ہوتا ہے،فاجر اس کے ذریعے کھاتا ہے اور مومن اس پر ایمان لاتاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8395]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن حبان: 755، والحاكم: 2/ 374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11360»
وضاحت: فوائد: … تیر اتنی تیزی سے شکار کو زخمی کر کے نکل جاتا ہے کہ اس پر خون کے اثرات بھی نظر نہیں آتے، حالانکہ وہ اپنا کام کر چکا ہوتا ہے، اسی طرح قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے بعض لوگ دعوی تو اسلام کا کریں گے، لیکن وہ ایسے فتنوںمیںمبتلا ہو جائیں گے کہ جن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہو گا، اکثر محدثین اور شارحین کے نزدیک ایسے لوگوں سے مراد خوارج ہیں، جن کا ذکر اگلے ابواب میں آئے گا۔ لیکن اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں، جو تلاوت ِ قرآن مجید میں بڑا شہرہ رکھتے ہیں، لیکن عملی طور پر اسلام کے تقاضوںسے کوسوں دور ہوتے ہیں اور اکثر میں واضح طور پر ریاکاری کا بھی اندازہ ہو رہا ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8396
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِيئًا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ وَلَا يَدْعُو إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبوک والے سال لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کھجور کے درخت کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بدترین وہ آدمی ہے جو فاجر ہو اور جرات مند ہو، جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے، لیکن وہ اس کی کسی چیز کی طرف دعوت نہ دیتا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8396]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه النسائي: 6/11، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11570»
وضاحت: فوائد: … ایسے ہی ہوا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،۶۰ھکےبعدشرّوفساداورقتلوغارتگری بڑھ گئی اور مسلمانوں میں اختلاف زیادہ ہو گیا۔ رجب ۶۰ھکےاوائلمیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی، اسی دن یزید برسرِ اقتدار آ گیا تھا۔ قرآن مجید کے تعلیم و تعلّم سے متعلقہ افراد کو چاہیے کہ وہ بار بار اپنے عزائم کا جائزہ لیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8397
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَى قَوْمٍ فَلَمَّا فَرَغَ سَأَلَ فَقَالَ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَسْأَلِ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ بِهِ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ لوگوں پر قرآن مجید پڑھ رہا تھا، جب وہ فارغ ہوا تو اس نے لوگوں سے سوال کیا، انھوں نے یہ صورتحال دیکھ کر کہا: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو قرآن مجید پڑھے، وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے سوال کرے، پس عنقریب ایسے لوگ آئیں گے، جو قرآن مجید تو پڑھیں گے، لیکن لوگوں سے اس کے ذریعے سوال کریں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8397]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 2917، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:19944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20186»
وضاحت: فوائد: … وَلَا یَدْعُوْ کی بجائے سنن نسائی اور مستدرک حاکم کی روایات کے الفاظ یہ ہیں: لَا یَرْعَوِیْ اور اس لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ وہ اس قرآن مجید کی روکی ہوئی چیز سے رکتا نہیں ہے۔ بعض لوگوں کو شرعی علوم کا مطالعہ کرنے کا بڑا شوق ہوتا ہے اور وہ اس شوق کو پورا کرنے کے لیے مختلف تفاسیر قرآن اور شروح احادیث کا مطالعہ بھی کرتے ہیں، لیکن ان میں عمل کی کوئی رغبت پیدا نہیں ہوتی، ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنے کا صرف یہ مقصد ہونا چاہیے کہ ان پر عمل کیا جائے۔ ان کی طرف لوگوں کو بلایا جائے تاکہ وہ بھی عمل کریں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8398
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ وَلَا تَجُفُّوا عَنْهُ وَلَا تَغْلُوا فِيهِ
۔ سیدنا عبد الرحمن بن شبل انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید پڑھا کرو، نہ اس کو کھانے کا ذریعہ بناؤ، نہ اس کے ذریعے مالِ کثیر جمع کرو، نہ اس کے معاملے میں سنگدل ہو جاؤ اور نہ اس میں غلوّ اور تشدد کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8398]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في الاوسط: 2595، والبزار: 2320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15620»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے معنی و مفہوم کو سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۶۱۴۱)والا اور اس کی احادیث کی شرح۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8399
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے اکثر منافق قراء ہوں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8399]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 841، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17501»
وضاحت: فوائد: … غلوّ میں نہ پڑو: الفاظ اور معنی کے اعتبار سے اس سے تجاوز نہ کرو، یعنی نہ اس کی قراء ت میں زیادہ مشقت کرو اور نہ اس کی باطل تاویلیں کرو۔ سنگدل نہ ہو جاؤ: اس کی تلاوت سے دور نہ ہو جاؤ۔ ان دو جملوں کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید کے حقوق کو سمجھو، اس کے معاملے میں افراط و تفریط سے بچو اور میانہ روی اختیار کرو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8400
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8400]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 228، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6633»
وضاحت: فوائد: … ہم ذاتی مشاہدے کی بات کرنا چاہیں گے کہ زیادہ تر قاری حضرات مقاصد ِ قرآن، احکامِ قرآن اور روحِ قرآن سے غافل ہوتے ہیں، تشریحاتِ نبویہ اور اسلامی آداب سے محروم ہوتے ہیں، صرف اس بنا پر لمبے لمبے سانسوں اور خوش الحانی کی مشق کرتے ہیں کہ لوگ ان کی تلاوت سن کر بلّے بلّے اور عش عش کر اٹھیں۔
قارئین کرام! اگر آپ اتفاق نہ کریں تو ہمارا سوال یہ ہو گا کہ ایک قاری تلاوت کر رہا ہے، سات آٹھ آیات پر مشتمل سورت ایک سانس میں تلاوت کرنا چاہی، سانس لمبا کرنے کی وجہ سے چہرہ سرخ ہو چکا ہے، اپنے مقصودِتک پہنچنے کے لیے کبھی ٹانگ کو حرکت دیتا ہے، کبھی سر ہلاتا ہے، پیشانی کو ہاتھوں سے دبایا ہوا ہے، منہ کا عجیب ڈیزائن بن چکا ہے، آیات کے معانی سے بالکل غافل ہے، سامعین داد دینے کے لیے دونوں ہاتھ بلند کر چکے ہیں۔ کس نے یہ تکلف کرنے پر مجبور کیا؟ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اندازِ تلاوت کافی نہیں ہے؟
کئی قراء کرام سے واسطہ پڑا، شعبہ حفظ کے کامیاب استاد ہوتے ہیں، لیکن نمازوں تک سے غافل اور اخلاقی جرائم میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ سچ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ اکثر قاریوں میں نفاق ہوتا ہے، بظاہر قرآن مجید کے ساتھ اپنے تعلق کا بڑا اظہار کرتے ہیں، لیکن حقیقت میںنزولِ قرآن کے مقصد سے غافل ہوتے ہیں۔
بہرحال نیک سیرت اور حسن کردار والے قاری حضرات موجود ہیں، اللہ تعالی ان کی تعداد میں اضافہ فرمائے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ علم، فقاہت فی الدین اور عمل پر توجہ دینی چاہیے۔ خطبا کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو علم و عمل اور اصلاح و تقوی کی بھی تعلیم دیں، جو شریعت کا اصل مقصود ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
قارئین کرام! اگر آپ اتفاق نہ کریں تو ہمارا سوال یہ ہو گا کہ ایک قاری تلاوت کر رہا ہے، سات آٹھ آیات پر مشتمل سورت ایک سانس میں تلاوت کرنا چاہی، سانس لمبا کرنے کی وجہ سے چہرہ سرخ ہو چکا ہے، اپنے مقصودِتک پہنچنے کے لیے کبھی ٹانگ کو حرکت دیتا ہے، کبھی سر ہلاتا ہے، پیشانی کو ہاتھوں سے دبایا ہوا ہے، منہ کا عجیب ڈیزائن بن چکا ہے، آیات کے معانی سے بالکل غافل ہے، سامعین داد دینے کے لیے دونوں ہاتھ بلند کر چکے ہیں۔ کس نے یہ تکلف کرنے پر مجبور کیا؟ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اندازِ تلاوت کافی نہیں ہے؟
کئی قراء کرام سے واسطہ پڑا، شعبہ حفظ کے کامیاب استاد ہوتے ہیں، لیکن نمازوں تک سے غافل اور اخلاقی جرائم میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ سچ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ اکثر قاریوں میں نفاق ہوتا ہے، بظاہر قرآن مجید کے ساتھ اپنے تعلق کا بڑا اظہار کرتے ہیں، لیکن حقیقت میںنزولِ قرآن کے مقصد سے غافل ہوتے ہیں۔
بہرحال نیک سیرت اور حسن کردار والے قاری حضرات موجود ہیں، اللہ تعالی ان کی تعداد میں اضافہ فرمائے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ علم، فقاہت فی الدین اور عمل پر توجہ دینی چاہیے۔ خطبا کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو علم و عمل اور اصلاح و تقوی کی بھی تعلیم دیں، جو شریعت کا اصل مقصود ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح