Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَاب رَأي ابْنِ مَسْعُود بَل فِي مَصَاحِفِ عُثْمَانَ
مصحف عثمانی کے بارے میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8409
عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُمِرَ بِالْمَصَاحِفِ أَنْ تُغَيَّرَ قَالَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَغُلَّ مُصْحَفَهُ فَلْيَغُلَّهُ فَإِنَّ مَنْ غَلَّ شَيْئًا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ثُمَّ قَالَ قَرَأْتُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً أَفَأَتْرُكُ مَا أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةٍ قَرَأَ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً وَإِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَهُ ذُؤَابَةٌ فِي الْكِتَابِ
۔ خمیر بن مالک کہتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں مصاحف کو تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے جو آدمی اپنے مصحف کی خیانت کر سکتا ہے، وہ کر لے، کیونکہ جو آدمی جس چیز کی خیانت کرے گا، وہ قیامت کے دن اس کو اپنے ساتھ لائے گا، پھر انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے ستر (۷۰) سورتیں سنی ہیں، کیا میں انہیں چھوڑ دوں۔ایک روایت میں ہے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے اس وقت ستر (۷۰) سورتیں سن لی تھیں، جب زید بن ثابت رضی اللہ عنہ لکھنے کے معاملے میں ابھی تک بچہ تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8409]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، خمير بن مالك، لو يوثقه غير ابن حبان، وانفرد بالرواية عنه ابو اسحاق السبيعي۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 8434، وابوداود في المصاحف: ص 15، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:3929 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3929»
وضاحت: فوائد: … جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے امت کو اختلاف سے بچانے کے لیے قرآن مجید کی صرف ایک قراء ت کو برقرار رکھنے اور باقی قراء توں کو جلا دینے کا حکم دیا تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سے متفق نہ ہوئے، انھوں نے سیدنا زید کی بات اس وجہ سے کی کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعِ قرآن کے سلسلے میں زیادہ اعتماد ان پر کیا تھا، ایک روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بعد میں اپنی رائے سے رجوع کر لیا تھا۔ ذُؤَابَۃ کے معانی بالوں کی لٹ کے ہیں، عرب بچوں کے بالوں کے ایک دو لٹیں بنا دیتے تھے، اس سے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مقصد سیدنا زید رضی اللہ عنہ کا بچپن ظاہر کرنا تھا۔ شقیق کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی: {وَمَنْ یَغْلُلْیَأْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔} (جوآدمی خیانت کرے گا، وہ قیامت کے دن اپنی خیانت کی ہوئی چیز کو لائے گا۔) اور پھر انھوں نے کہا: عَلٰی قِرَأَۃِ مَنْ تَأْمُرُونِی أَ نْ أَ قْرَأَ؟ فَلَقَدْ قَرَأْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِضْعًا وَسَبْعِینَ سُورَۃً، وَلَقَدْ عَلِمَ أَ صْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَ نِّی أَعْلَمُہُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ وَلَوْ أَعْلَمُ أَ نَّ أَحَدًا أَعْلَمُ مِنِّی لَرَحَلْتُ إِلَیْہِ۔ … تم مجھے کس کی قراء ت کا اہتمام کرنے کا حکم دیتے ہو؟ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چھہتر ستتر سورتیں پڑھی تھیں اور صحابۂ کرام بھی جانتے ہیں کہ میں اللہ تعالی کی کتاب کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں، اگر مجھے کسی کے بارے میں پتہ چل جائے کہ وہ مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے تو میں اس کی طرف رخت ِ سفر باندھوں گا۔ (صحیح مسلم: ۲۴۶۲)
حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۹/ ۴۹) میںکہا: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خیانت کرنے سے مراد یہ ہے کہ قرآن مجید کا نسخہ چھپا لیا جائے تاکہ اس کو نکال کر ختم نہ کر دیا جائے، معلوم ایسے ہوتا ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی رائے سے متفق نہیں تھے، یا وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر انکار تو نہیں کرنا چاہتے تھے، البتہ ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اس قراء ت کو برقرار رکھیں، جس میں ان کی خاص خوبی پائی جاتی تھی، لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ ان کا مقصد پورا نہیں ہو رہا اور کسی وجۂ ترجیح کے بغیر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی قراء ت کو ترجیح دی جا رہی ہے تو انھوں نے اسی قراء ت پر استمرار کو پسند کیا اور ابن ابی داود نے یہ ترجمۃ الباب قائم کیا: بَابُ رِضَی بْنِ مَسْعُوْدٍ بَعْدَ ذَلِکَ بِمَا صَنَعَ عُثْمَانُ (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے کیے پر راضی ہو جانے کا بیان) لیکن پھر انھوں نے کوئی ایسی روایت نقل نہیں کی، جو اس سرخی کے موافق ہو۔ شیخ احمد شاکر نے کہا: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اختلاف کے ڈر سے لوگوں کو مصحف الامام پر متفق ہو جانے کا حکم دیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے، جبکہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور انھوں نے خیانت والی مذکورہ بالا آیت کی تاویل کرنے میں خطا کی ہے، کیونکہیہ آیت خیانتیا تقسیم سے قبل مال غنیمت سے کوئی چیز لے لینے کے بارے میں ہے (جو کہ قابل مذمت چیز ہے)۔
دراصل سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس آیت کو سمجھتے تھے، ان کا مقصد اور تھا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8410
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَا سَمَّاهُ لَنَا قَالَ لَمَّا أَرَادَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ أَصْحَابَهُ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أَصْبَحَ الْيَوْمَ فِيكُمْ مِنْ أَفْضَلِ مَا أَصْبَحَ فِي أَجْنَادِ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الدِّينِ وَالْفِقْهِ وَالْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى حُرُوفٍ وَاللَّهِ إِنْ كَانَ الرَّجُلَانِ لَيَخْتَصِمَانِ أَشَدَّ مَا اخْتَصَمَا فِي شَيْءٍ قَطُّ فَإِذَا قَالَ الْقَارِئُ هَذَا أَقْرَأَنِي قَالَ أَحْسَنْتَ وَإِذَا قَالَ الْآخَرُ قَالَ كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ فَأَقْرَأَنَا إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَالْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَالْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَالْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَاعْتَبِرُوا ذَاكَ بِقَوْلِ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ كَذَبَ وَفَجَرَ وَبِقَوْلِهِ إِذَا صَدَّقَهُ صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ لَا يَخْتَلِفُ وَلَا يُسْتَشَنُّ وَلَا يَتْفَهُ لِكَثْرَةِ الرَّدِّ فَمَنْ قَرَأَهُ عَلَى حَرْفٍ فَلَا يَدَعْهُ رَغْبَةً عَنْهُ وَمَنْ قَرَأَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ تِلْكَ الْحُرُوفِ الَّتِي عَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَدَعْهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِنَّهُ مَنْ يَجْحَدْ بِآيَةٍ مِنْهُ يَجْحَدْ بِهِ كُلِّهِ فَإِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ اعْجَلْ وَحَيَّ هَلَا وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ رَجُلًا أَعْلَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنِّي لَطَلَبْتُهُ حَتَّى أَزْدَادَ عِلْمَهُ إِلَى عِلْمِي إِنَّهُ سَيَكُونُ قَوْمٌ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَارَضُ بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ رَمَضَانَ وَإِنِّي عَرَضْتُ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ مَرَّتَيْنِ فَأَنْبَأَنِي أَنِّي مُحْسِنٌ وَقَدْ قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً
۔ عبدالرحمن بن عابس کہتے ہیں: ہمدان کے ایک آدمی نے ہمیںبتایا، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے، ان کا نام نہیں لیا، انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہونا چاہا تو انھوں نے اپنے شاگردں کو جمع کیا اور کہا اللہ کی قسم! میں امید رکھتا ہوں کہ تم مسلمانوں کے لشکروں میں سے سب سے بہترین ہو، تم دین، فقہ، علم اور قرآن پڑھ رہے ہو، یہ قرآن سات قراء توں پر نازل ہوا،اللہ کی قسم! دو آدمی قرآن کے بارے میں سخت ترین جھگڑا کرتے ہیں، لیکن ایسا نہ کرنا، جب کوئی کہے کہ اس نے مجھے یوں پڑھایا ہے تو اسے کہو کہ وہ بہتر کہتا ہے، جب کوئی دوسرا کہے کہ مجھے فلاں نے اس طرح پڑھا ہے تو تم دونوں کو بہتر کہو، کیونکہ دونوں نے علیحدہ علیحدہ قراء توں میں پڑھایا ہے، سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی جانب لے جاتی ہے، جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی دوزخ کی طرف لے جاتی ہے، جب تم میں سے کوئی اپنے ساتھی سے کہے کہ اس نے جھوٹ بولا یا فسق و فجور کیا اور جب کسی نے سچ کہا تو اس سے کہو تو نے سچ کہا اور نیکی کی،یقینایہ قرآن نہ اختلاف پیدا کرتا ہے، نہ یہ بوسیدہ ہوتا ہے اور نہ یہ حقیر چیز ہے، چاہے کس قدر اس کا تکرار کیا جائے، جو اسے ایک قراء ت پر پڑھے، اسے بے رغبتی کرتے ہوئے نہ چھوڑے اور جواسے ان قراء توں کے مطابق پڑھے، جن کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعلیم دی ہے، تو وہ انہیں بھی بے رغبتی کی وجہ سے نہ چھوڑے جوایک آیت کا انکار کرے گا، گویا اس نے اس کی تمام آیتوں کا انکار کیا، اسی طرح ان قراء توں کا معاملہ ہے، قراء ت کا اختلاف اس طرح ہے کہ جس طرح کسی نے کہا: اِعْجَلْ، وَحَیَّ ہَلًا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے علم ہو کہ جو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرنازل کیا ہے، کوئی مجھ سے زیادہ اس کا علم رکھتا ہے تو میں اسے ضرور تلاش کروں گا تا کہ اپنے علم میں اضافہ کرسکوں۔ عن قریب ایسے لوگ ہوں گے جو نمازوں کو ان کے وقت سے فوت کریں گے، لیکن تم نماز بروقت ادا کر لینا اور اگر تاخیر کرنیوالوں کے ساتھ موقع مل جائے توان کے ساتھ بھی پڑھا لینا،یہ تمہاری نفل ہو گی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر رمضان میں قرآن مجید کا دور کرتے تھے، جس سال آپ فوت ہوئے میں نے آپ پر دو مرتبہ قرآن پڑھا تھا۔ آپ نے مجھے بتایا کہ میں نے اچھا کیا ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے ستر (۷۰) سورتیں سنی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8410]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرجل من ھمدان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:3845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3845»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس میں بیان شدہ درج ذیل تین امور شواہد کی بنا پر صحیح ہیں:
(۱) سچائی کانیکی اور جنت کی طرف لے جانا اور جھوٹ کا برائی اور پھر جہنم کی طرف لے جانا۔
(۲) لوگوں کا نماز تاخیر سے ادا کرنا اور دوسرے لوگوں کو ایسے میں نماز کی خاص تعلیم دینا۔
(۳) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ستر سورتوں کی تعلیم حاصل کرنا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8411
عَنْ فُلْفُلَةَ الْجُعْفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَزِعْتُ فِيمَنْ فَزِعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَصَاحِفِ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ إِنَّا لَمْ نَأْتِكَ زَائِرِينَ وَلَكِنْ جِئْنَاكَ حِينَ رَاعَنَا هَذَا الْخَبَرُ فَقَالَ إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ أَوْ قَالَ حُرُوفٍ وَإِنَّ الْكِتَابَ قَبْلَهُ كَانَ يَنْزِلُ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ
۔ فلفلہ جعفی کہتے ہیں: میں بھی ان گھبرانے والوں میں سے تھا، جو قرآن کے بارے میں گھبراہٹ کا شکار ہو گئے تھے، سو ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ہم میں سے ایک آدمی نے کہا: ہم صرف ملاقات کے لئے نہیں آئے، ہمارا مقصد تو یہ ہے کہ ہمیں اس خبر نے بہت خوفزدہ کیاہے کہ (قریش کی زبان میں قرآن پڑھا جائے اور دوسرے نسخے جلا دئیے گئے ہیں۔) انہوں نے کہا: تمہارے نبی پر قرآن مجید سات قراء توں میں نازل ہوا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے والی کتابیں ایک ہی قراءت پر نازل ہوتی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8411]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عثمان بن حسان العامري، ذكره ابن حبان في الثقات، وذكره البخاري في التاريخ الكبير، و ابن ابي حاتم في الجرح والتعديل ولم يذكرا فيه جرحا ولا تعديلا۔أخرجه ابن ابي داود في المصاحف: ص 18، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 3094، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4252»
وضاحت: فوائد: … قرآن مجید کی مختلف قراء ات کی وجہ سے جو اختلاف پیدا ہو گیا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کا حل یہ تجویز کیا کہ قریش کی قراء ت کو باقی رکھا جائے اور باقی قراء توں کے وجود کو ختم کر دیا جائے، یہ خلیفۂ رسول کا ایک مستحسن فیصلہ تھا، صحابۂ کرام نے ان سے اتفاق کیا، لیکن سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے ان سے مختلف رہی اور وہ اس فیصلے سے متفق نہ ہوئے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں