الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: «قَدْ نَرى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ..»
{قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8493
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَنَزَلَتْ {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَقَدْ صَلَّوْا رَكْعَةً فَنَادَى أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ قَالَ فَمَالُوا كَمَا هُمْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: {قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} … تحقیق ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی جانب پلٹتا ہوا دیکھتے ہیں، ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی جانب پھیریں گے جسے تو پسند کرتا ہے، پس اپنے چہرے کو مسجد حرام کی جانب پھیر لو۔ تو ایک آدمی بنو سلمہ کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ لوگ فجر کی نماز میں حالت رکوع میں تھے اور ایک رکعت انہوں نے پڑھ لی تھی، اس گزرنے والے نے آواز دی: خبردار! قبلہ تبدیل ہو چکا ہے، خبردار! قبلہ تبدیل ہو چکاہے اور اب کعبہ قبلہ ہے، تو وہ اسی حالت میں قبلہ کی طرف مڑ گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8493]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14079»
وضاحت: فوائد: … یہ مسجد ِ قباء کا واقعہ ہے، یعنی قباء والوں کو نماز ِ فجر میں تحویلِ قبلہ کی خبر پہنچی تھی۔ نسخ کی سب سے پہلی مثال قبلہ کی تبدیلی ہے، بنوسلمہ کے اس باشندے کا نام سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اخبار الآحاد قبول کرنا واجب ہے، کیونکہ قبلہ کی تبدیلی کے بارے میں خبر دینے والا صرف ایک آدمی تھا، لیکن لوگوں نے اس کی بات پر اتنا اعتبار کیا کہ نماز کے اندر ہی قبلہ تبدیل کر دیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 527
حدیث نمبر: 8494
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ وَكَانَ يُحِبُّ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} الْآيَةَ قَالَ فَمَرَّ رَجُلٌ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ قَالَ فَانْحَرَفُوا وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سولہ سترہ ماہ بیت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھی، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کعبہ کی جانب متوجہ کر دیا گیا اور آپ کی پسند بھی یہی قبلہ تھا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:{قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} … تحقیق ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی جانب پلٹتا ہوا دیکھتے ہیں، ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی جانب پھیریں گے جسے تو پسند کرتاہے، پس اپنے چہرے کو مسجد حرام کی جانب پھیر لو۔ ایک آدمی،جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عصر ادا کی تھی، انصاری قوم کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ رکوع کی حالت میں تھے، اس نے کہا: میں گواہی دیتاہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کعبہ کی جانب منہ کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے، وہ لوگ اسی وقت کعبہ کی طرف پھر گئے، جبکہ وہ رکوع کی حالت تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8494]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4492، ومسلم: 525، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18914»
وضاحت: فوائد: … یہ قبیلہ بنوحارثہ تھی، اسی مسجد کا نام مسجد قبلتین پڑ گیا۔ تمام احادیث کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تحویل قبلہ کا حکم ظہر کی نماز کے وقت اترا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبے کی طرف اولین نماز، ظہر کی پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے والوں نے یہ اطلاع دوسری مساجد میں پہنچائی، مسجد قبلتین میں یہ اطلاع اسی دن نمازِ عصر کے وقت پہنچی اور مسجد قباء والوں کو دوسرے دن نمازِ فجر میں تحویل قبلہ کی خبر معلوم ہوئی۔
تحویل قبلہ کا حکم ظہر کی نماز کے وقت اترا: اس بارے اختلاف ہے کہ تحویل قبلہ کا حکم کس مسجد میں نازل ہوا تھا۔ بعض مسجد نبوی بتاتے اور دیگر اہل علم بنی سلمہ کی مسجد ذکر کرتے ہیں۔ دوسری رائے درست ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی سلمہ کے محلہ میں گئے تھے وہاں نماز کا وقت ہوا، آپ نماز پڑھا رہے تھے کہ تحویل قبلہ کا حکم ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے دوران حکم کی تعمیل کی اور یہ ظہر کی نماز تھی، اسی مناسبت سے مسجد بنی سلمہ کو مسجد قبلتین کہتے ہیں۔ بنی حارثہ محلے میں نماز عصر کے دوران یہ خبر پہنچی تو انہوں نے بھی عین نماز کے دوران قبلہ تبدیل کیا۔ مسجد قباء میں فجر کی نماز کے دوران اطلاع پہنچی تو انہوں نے بھی اسی حالت میں قبلہ تبدیل کیا۔ اس کی تفصیل دیکھیں مدینہ منورہ کی تاریخی مساجد از ڈاکٹر محمد الیاس عبدالغنی ص ۵۳، فتح الباری: ج۱ ص ۵۰۳۔ (عبداللہ رفیق)
تحویل قبلہ کا حکم ظہر کی نماز کے وقت اترا: اس بارے اختلاف ہے کہ تحویل قبلہ کا حکم کس مسجد میں نازل ہوا تھا۔ بعض مسجد نبوی بتاتے اور دیگر اہل علم بنی سلمہ کی مسجد ذکر کرتے ہیں۔ دوسری رائے درست ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی سلمہ کے محلہ میں گئے تھے وہاں نماز کا وقت ہوا، آپ نماز پڑھا رہے تھے کہ تحویل قبلہ کا حکم ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے دوران حکم کی تعمیل کی اور یہ ظہر کی نماز تھی، اسی مناسبت سے مسجد بنی سلمہ کو مسجد قبلتین کہتے ہیں۔ بنی حارثہ محلے میں نماز عصر کے دوران یہ خبر پہنچی تو انہوں نے بھی عین نماز کے دوران قبلہ تبدیل کیا۔ مسجد قباء میں فجر کی نماز کے دوران اطلاع پہنچی تو انہوں نے بھی اسی حالت میں قبلہ تبدیل کیا۔ اس کی تفصیل دیکھیں مدینہ منورہ کی تاریخی مساجد از ڈاکٹر محمد الیاس عبدالغنی ص ۵۳، فتح الباری: ج۱ ص ۵۰۳۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4492