🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. باب: «كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلَّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ»
{کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8541
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ فَكَانَ فِيمَا سَأَلُوهُ أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ قَبْلَ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا فَطَالَ سَقَمُهُ فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ مِنْ سَقَمِهِ لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ فَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانَ الْإِبِلِ وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانُهَا فَقَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور کہا: اے ابو القاسم! ہم آپ سے چند باتیں پوچھتے ہیں، صرف نبی ان کا جواب دے سکتاہے، پھر انہوں نے جو سوال کئے تھے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا: یعقوب علیہ السلام نے تو رات اترنے سے پہلے کونسا کھانا اپنے اوپر حرام کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کے نام کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی ہے، کیا تم جانتے ہو کہ حضرت یعقوب علیہ السلام سخت بیمار ہوئے تھے، ان کی بیماری لمبی ہو گئی، بالآخر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بیماری سے شفا دی تو وہ سب سے زیادہ محبوب مشروب اور سب سے زیادہ پیارا کھانا خود پر حرام کر دیں گے؟ جبکہ انہیں سب سے زیادہ پیارا کھانا اونٹ کا گوشت تھا اور سب سے زیادہ پسند مشروب اونٹنیوں کا دودھ تھا، انہوں نے اس چیز کو حرام کردیا۔ یہودیوں نے کہا اللہ کی قسم! درست ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8541]
تخریج الحدیث: «حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2471»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث بڑی تفصیل کے ساتھ حدیث نمبر (۸۴۸۷،۸۴۸۷م) میں گزر چکی ہے۔ارشادِ باری تعالی ہے: {کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِّبَنِیْٓ اِ سْرَاء ِیْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاء ِیْلُ عَلٰی نَفْسِہٖمِنْقَبْلِاَنْتُنَزَّلَالتَّوْرٰیۃُ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰیۃِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔} … کھانے کی ہر چیز بنی اسرائیل کے لیے حلال تھی مگر جو اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) نے اپنے آپ پر حرام کر لی، اس سے پہلے کہ تورات اتاری جائے، کہہ دے تو لاؤ تورات، پھر اسے پڑھو، اگر تم سچے ہو۔ (سورۂ آل عمران: ۹۳)
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں کہا: یعقوب رحمتہ اللہ علیہ کی شریعت میں اس کا طریقہیہ تھا کہ اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیز کو اللہ کے نام پر ترک کر دیتے تھے اور ہماری شریعت میں یہ طریقہ نہیں ہے، بلکہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام پر خرچ کر دیا کریں۔

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں