🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

38. بَابُ «كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ۔۔۔۔۔الخ»
{کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ … الخ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8543
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ [سورة آل عمران: ١١٠] قَالَ هُمُ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالی کا رضی اللہ عنہا فرمان: {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} … تم بہترین امت ہو، جو لوگوں کے لئے نکالے گئے ہو۔ سے مراد وہ لوگ ہیں، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8543]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الحاكم: 2/ 294، وابن ابي شيبة: 12/ 155، والطبراني: 12303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2926»
وضاحت: فوائد: … علامہ سندھی نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا مقصود یہ ہے کہ اس آیت میں خطاب تمام صحابہ کو نہیں کیا جا رہا، بلکہ مہاجرین کو کیا جا رہا ہے، چہ جائیکہ ساری امت کو اس کا مخاطَب سمجھ لیا جائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خطاب مخاطَب کے موجود ہونے کا تقاضا کرتا ہے، اس لیےیہ ساری امت کو شامل نہیں ہے، دوسری وجہ یہ بھی کہ مہاجرین ہی ہیں، جن کو ان کے گھروں سے نکالا گیا تھا۔ واللہ تعالی اعلم۔ بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت سب سے بہترین اور لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ} … تم سب سے بہتر امت چلے آئے ہو، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ (سورۂ آل عمران: ۱۱۰)

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه الحاكم: 2/ 294
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8543M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ
۔ (دوسری سند) ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ہیں جنھوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8543M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2987»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2987
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں