🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخُمَاسِيَّاتِ
خماسیات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9619
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (مَنْ أَعْطَى لِلَّهِ تَعَالَى وَمَنَعَ لِلَّهِ تَعَالَى وَأَحَبَّ لِلَّهِ تَعَالَى وَأَبْغَضَ لِلَّهِ تَعَالَى وَأَنْكَحَ لِلَّهِ تَعَالَى فَقَدِ اسْتَكْمَلَ إِيمَانَهُ) )
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے دیا، اللہ تعالیٰ کے لیے روکا، اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کی، اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھا اور اللہ تعالیٰ کے لیے نکاح کیا، پس تحقیق اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9619]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 2521، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15638 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15723»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9620
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (سِتَّةُ أَيَّامٍ ثُمَّ اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا أَقُولُ لَكَ بَعْدُ) ) فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ السَّابِعُ قَالَ ( (أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَعَلَانِيَتِهِ وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ وَلَا تَسْأَلَنَّ أَحَدًا شَيْئًا وَإِنْ سَقَطَ سَوْطُكَ وَلَا تَقْبِضْ أَمَانَةً) ) وَفِي رِوَايَةٍ ( (وَلَا تُؤْوِيَنَّ أَمَانَةً) ) ( (وَلَا تَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ) )
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھ دن ہیں، پھر اے ابو ذر! اس چیز کو سمجھنا جو میں تجھے بیان کرنے والا ہوں۔ جب ساتواں دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے تیرے مخفی اور اعلانیہ امور میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، جب تو برائی کرے تو اس کے بعد نیکی کر، کسی سے کسی چیز کا ہر گز سوال نہ کر، اگرچہ تیرا کوڑا گر جائے، کوئی امانت اپنے پاس نہ رکھ اور دو افراد کے مابین فیصلہ نہ کر۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9620]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، ودراج بن سمعان ضعيف صاحب مناكير، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21906»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن اس میں کی گئی پانچ نصیحتوں کا مضمون دوسری احادیث سے ثابت ہے۔ دوسری نصوص میں امانتیں وصول کرنے اور لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ہاں جو آدمی سمجھتا ہو کہ وہ ان امور کا حق ادا نہیں کر سکے گا تو وہ بیچ میں دخل ہی نہ دے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9621
عَنْ أَبِي مَرْيَمَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ وَالْقَضَاءُ فِي الْأَنْصَارِ وَالْأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ وَالشِّرْعَةُ فِي الْيَمَنِ وَقَالَ زَيْدٌ مَرَّةً يَحْفَظُهُ وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بادشاہت قریشیوں میں، قضا انصاریوں میں، اذان حبشیوں میں، راہِ مستقیم یمنیوں میں اور امانت ازدیوں میں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9621]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 3936 دون لفظة: الشرعة في اليمن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8746»
وضاحت: فرمایا: بادشاہت قریشیوں میں، قضا انصاریوں میں، اذان حبشیوں میں، راہِ مستقیمیمنیوں میں اور امانت ازدیوں میں ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں