🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّدَاسِيَّاتِ
سداسیات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9628
عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَعُودُهُ مِنْ شَكْوًى أَصَابَهُ وَامْرَأَتُهُ تُحَيْفَةُ قَاعِدَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ قُلْتُ كَيْفَ بَاتَ أَبُو عُبَيْدَةَ قَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ بَاتَ بِأَجْرٍ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا بِتُّ بِأَجْرٍ وَكَانَ مُقْبِلًا بِوَجْهِهِ عَلَى الْحَائِطِ فَأَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ أَلَا تَسْأَلُونَنِي عَمَّا قُلْتُ قَالُوا مَا أَعْجَبَنَا مَا قُلْتَ فَنَسْأَلَكَ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فَاضِلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَسَبْعُمِائَةٍ وَمَنْ أَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ أَوْ عَادَ مَرِيضًا أَوْ مَازَ أَذًى فَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا وَمَنِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ فَهُوَ لَهُ حِطَّةٌ
۔ عیاض بن غطیف سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے، وہ بیمار تھے اور ان کی بیوی تُحیفہ ان کے سر کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، میں نے پوچھا: سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی رات کیسے گزری ہے؟ اس خاتون نے کہا: اللہ کی قسم! انھوں نے اجر و ثواب کے ساتھ رات گزاری ہے، لیکن اُدھر سے سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے خود کہا: میں نے اجر کے ساتھ نہیں گزاری، جبکہ وہ دیوار کی طرف رخ کیے ہوئے تھے، پھر وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: جو بات میں نے کہی ہے، تم لوگ اس کے بارے میں سوال کیوں نہیںکرتے؟ انھوں نے کہا: تم نے کوئی قابل تعجب بات ہی نہیں کی کہ ہم اس کے بارے میں سوال کریں، پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے زائد چیز اللہ کی پناہ میں خرچ کی، اس کو سات سو گنا ثواب ملے گا، اور جس نے اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا،یا کسی مریض کی تیمار داری کی، کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دی تو اس کو اس نیکی کا دس گنا ثواب ملے گا اور روزہ ڈھال ہے، لیکن جب تک وہ روزے دار اسے پھاڑ نہ لے اور جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے جسم کی آزمائش کے ذریعے آزمایا تو اس تکلیف سے اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔‘ [الفتح الربانی/كتاب جامع في الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9628]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 4/ 167، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1690 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1690»
وضاحت: فوائد: … روزے کو پھاڑنے سے مراد یہ ہے کہ غیبت اور دوسرے گناہوں کے ذریعے اس کو زخمی اور متاثر کر دیا جائے، جیسے ڈھال میں سوراخ ہو جائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں