الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ الترهيب مِنْ إِبْدَاءِ الْجَارِ وَالتَّعْلِيفِ فِيهِ
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 9699
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا وَصِيَامِهَا وَصَدَقَتِهَا غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا قَالَ هِيَ فِي النَّارِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ قِلَّةِ صِيَامِهَا وَصَدَقَتِهَا وَصَلَاتِهَا وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ وَلَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا قَالَ هِيَ فِي الْجَنَّةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت کی نماز، روزے اور صدقے کی تو بڑی مشہوری ہے، لیکن وہ زبان سے اپنے ہمسائیوں کو تکلیف دیتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنمی ہے۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت کے بارے یہ بات تو کہی جاتی ہے کہ اس کے روزوں، صدقے اور نماز کی مقدار کم ہے، وہ صرف پنیر کے ٹکڑوں کا صدقہ کرتی ہے، البتہ وہ ہمسائیوں کو تکلیف نہیں دیتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9699]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن حبان: 5764، والبزار: 1902، والحاكم: 4/ 166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9673»
وضاحت: فوائد: … آج کے مفاد پرستانہ اور ابن الوقتی دور میں ہمسائیوں کے حقوق کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے، ان کے حقوق کی ادائیگی تو کجا، سرے سے ان کی شناخت ہی نہیں کی جاتی۔گلی کے ایک کونے میں صف ِ ماتم بچھی ہوتی ہے تو دوسرے کونے پہ شادی کی رسومات رقص کناں ہوتی ہیں۔ حالانکہ ان کے حقوق کا تو یہ عالم ہے کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ((اِذَا طَبَخْتَ مَرَقًا فَاَکْثِرْ مَائَ ھَا ثُمَّ انْظُرْ اَھْلَ بَیْتٍ مِنْ جِیْرَانِکَ، فَاَصِبْھُمْ مِنْھَا بِمَعْرُوْفٍ۔)) (مسلم) … جب تم شوربے (والا سالن) پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ کر لیا کرو، پھر اپنے پڑوسیوں کا کوئی گھر دیکھو اور ان کو بھلائی کے ساتھ اس میں سے کچھ حصہ پہنچاؤ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَمْنَعْ جَارٌ جَارَہٗاَنْیَغْرِزَ خَشَبَۃً فِیْ جِدَارِہٖ۔)) (بخاری، مسلم) … کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کودیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے۔ یعنی اگر کوئی ہمسایہ چھپر وغیرہ کا شہتیر اپنے ہمسائے کے مکان کی دیوار پر رکھنا چاہتا ہے تو اس کو نہیں روکا جا سکتا۔
درج ذیل حدیث ِ مبارکہ بھی انتہائی قابل غور ہے:
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَمْ مِنْ جَارٍ مُتَعَلِّقٌ بِجَارِہِ یَقُوْلُ: یَارَبِّ! سَلْ ھٰذٰا لِمَ أغْلَقَ عَنِّی بَابَہُ وَمَنَعَنِیْ فَضْلَہُ۔)) … کتنے ہی پڑوسی (ایسے ہوں گے جو) اپنے پڑوسی (کے حقوق کے سلسلے میں) لٹکے ہوئے ہوں گے۔ پڑوسی کہے گا: اے میرے رب! اس سے سوال کرو کہ اس نے اپنا دروازہ مجھ سے کیوں بند کر دیا تھااور بچا ہوا مال مجھ سے کیوں روک لیا تھا۔ (الادب المفرد للبخاری: ۱۱۱، صحیحہ:۲۶۴۶)
درج ذیل حدیث ِ مبارکہ بھی انتہائی قابل غور ہے:
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَمْ مِنْ جَارٍ مُتَعَلِّقٌ بِجَارِہِ یَقُوْلُ: یَارَبِّ! سَلْ ھٰذٰا لِمَ أغْلَقَ عَنِّی بَابَہُ وَمَنَعَنِیْ فَضْلَہُ۔)) … کتنے ہی پڑوسی (ایسے ہوں گے جو) اپنے پڑوسی (کے حقوق کے سلسلے میں) لٹکے ہوئے ہوں گے۔ پڑوسی کہے گا: اے میرے رب! اس سے سوال کرو کہ اس نے اپنا دروازہ مجھ سے کیوں بند کر دیا تھااور بچا ہوا مال مجھ سے کیوں روک لیا تھا۔ (الادب المفرد للبخاری: ۱۱۱، صحیحہ:۲۶۴۶)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9700
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ خَصْمَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جَارَانِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن سب سے پہلے دو جھگڑا کرنے والے دو ہمسائے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9700]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17372 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17507»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9701
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ جَارِ الْمَقَامِ فَإِنَّ جَارَ الْمُسَافِرِ إِذَا شَاءَ أَنْ يُزَالَ زَالَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اپنی مستقل) قیام گاہ کے پڑوسی کے شرّ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، کیونکہ اگر آدمی مسافر ہو تو وہ (برے پڑوسی) سے جب چاہے جدا ہو سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9701]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 1/ 532، وابويعلي: 6536، وابن حبان: 1033، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8553 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8534»
وضاحت: فوائد: … ہمسائیوں کے حقوق بہت زیادہ ہیں، جبکہ ان کی ادائیگی کرنے والے لوگ بہت کم ہیں۔ نیک پڑوسی جنت ہے، لیکن برا پڑوسی قیامت سے پہلے ایک قیامت ہے، لیکن نیک بنے کون؟
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9702
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ قَالُوا وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْجَارُ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا بَوَائِقُهُ قَالَ شَرُّهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! وہ آدمی مؤمن نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ آدمی صاحب ِ ایمان نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ شخص ایمان دار نہیں ہو سکتا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہمسایہ کہ جس کے شرور سے اس کے ہمسائے امن میں نہ ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بَوَائِق سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا شر۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9702]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 1/ 10، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7878 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7865»
وضاحت: فوائد: … نیک پڑوسی اللہ تعالیٰ کی نعمت ِ عظمی ہے، اس سے نہ صرف آدمی کو ذہنی سکون ملتا ہے، بلکہ اس کی عزتیں محفوظ رہتی ہے، کیونکہ نیک پڑوسی دوسرے پڑوسیوں کا بھی رکھوالا ہوتا ہے، اس کے برعکس برے پڑوسی کے نقصانات اور نحوستیں عیاں ہیں، اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا چاہئے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کے مصداق کے مطابق سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کییہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا پڑھتے تھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ یَوْمِ السُّوْئِ، وَمِنْ لَیْلَۃِ السُّوْئِ، وَمِنْ سَاعَۃِ السُّوْئِ، وَمِنْ صَاحِبِ السُّوْئِ، وَمِنْ جَارِ السُّوْئِ فِیْ دَارِ الْمُقَامِ۔ … اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں برے دن سے، بری رات سے، بری گھڑی سے، برے ساتھی سے اور مستقل قیام گاہ کے برے پڑوسی سے۔ (صحیحہ: ۱۴۴۳ کے تحت۔ بحوالہ طبرانی)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کے مصداق کے مطابق سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کییہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا پڑھتے تھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ یَوْمِ السُّوْئِ، وَمِنْ لَیْلَۃِ السُّوْئِ، وَمِنْ سَاعَۃِ السُّوْئِ، وَمِنْ صَاحِبِ السُّوْئِ، وَمِنْ جَارِ السُّوْئِ فِیْ دَارِ الْمُقَامِ۔ … اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں برے دن سے، بری رات سے، بری گھڑی سے، برے ساتھی سے اور مستقل قیام گاہ کے برے پڑوسی سے۔ (صحیحہ: ۱۴۴۳ کے تحت۔ بحوالہ طبرانی)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9703
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَبْدٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ بندہ جنت میں نہیں جائے گا، جس کے ہمسائے اس کے شرّ سے محفوظ نہ ہوں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9703]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 1/ 11، والبزار: 21، وابويعلي: 4187، وابن حبان: 510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12589»
وضاحت: فوائد: … انسان کی عزت و حرمت، مال و دولت اور جان و جیون کو دوسرے انسان کے شرّ سے بچانے کے لیے اسلام نے بہت سخت قوانین وضع کئے ہیں۔ انسانیت کے احترام کا اس سے بڑا لحاظ کیا ہو سکتا ہے کہ صرف پڑوس کی بنا پر اسے حسنِ سلوک کا اوّلین مستحق ٹھہرا دیا جائے اور تحائف و ہدایا کا پہلا حقدار قرار دیا جائے۔ اس سے بڑی بشارت کیا ہو سکتی ہے کہ پڑوسیوں کے حق میں بہتری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں آدمی کے مقام و مرتبہ میں اضافہ ہو جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9704
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ وَإِذَا أَسَأْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ قَدْ أَحْسَنْتَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ قَدْ أَسَأْتَ فَقَدْ أَسَأْتَ
۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!جب میں نیکی کروں اور جب میں برائی کروں تو مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ میں نے نیکی یا برائی کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے پڑوسیوں کو یوں کہتا سنے کہ تو نے نیکی ہے، تو تونے نیکی کی ہو گی اور جب ان کو یوں کہتا سنے کہ تو نے برائی کی ہے تو تو نے برائی کی ہو گی۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9704]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 4223، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3808»
وضاحت: فوائد: … اگر کوئی ہمسایہ اپنے کسی ہمسائے کی بدسلوکی کی وجہ سے تنگ ہے تو اس میں مرکزی کردار ظالم کی زبان کا ہو گا، اس حدیث میں پڑوسی کی خیرو بھلائی کو کامیابی و کامرانی کا معیار قرار دیا گیا ہے، وہ اس طرح کہ ایمان کی بنیاد دل کیراستی پر ہے، دل کی درستی کا دارمدار زبان کی اصلاح پر ہے اور زبان کے خیر و شرّ کا تعلق پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک یا بدسلوکی سے ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9705
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ يُقَالُ لَهُ دَيْسَمٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا لِبَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ قَالَ وَمَا كَانَ اسْمُهُ بَشِيرًا فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَشِيرًا إِنَّ لَنَا جِيرَةً مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لَا تَشُذُّ لَنَا قَاصِيَةٌ إِلَّا ذَهَبُوا بِهَا وَإِنَّهَا تُخَالِفُنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ أَشْيَاءَ أَفَنَأْخُذُ قَالَ لَا
بنو سدوس کے دیسم نام کےایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے سیدنا بشیر بن خصاصیہ سے کہا، یہ ان کا نام نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا تھا، بہرحال ہم نے کہا: بنوتمیم کے کچھ لوگ ہمارے ہمسائے ہیں، ہماری جو بکری ریوڑ سے دور ہو جائے، وہ اس کو لے جاتے ہیں، پھر جب ہمارے پاس ان کے مالوں میں بعض چیزیں آتی ہیں تو ہم ان پر قبضہ کر لیں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9705]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ديسم في عداد المجھولين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21066»
وضاحت: فوائد: … اس آدمی کے سوال کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ کوئی ایسا کام کرے، جس کا شرعی حسن یا قباحت مخفی ہو، تو اسے ایسے کام کے بارے میں کیسے علم ہو گا کہ وہ اچھا ہے یا برا ہے، کیونکہ شریعت میں واضح طور پر جن امور کو نیکی اور جن امور کو برا قرار دیا گیا ہے، اس کے بارے میں لوگوں کی رائے کی کوئی ضرورت نہیں۔ نیز ایسے کام کو اچھا یا برا کہنے والے لوگ سلیم الفطرت اور نیکو کار ہونے چاہئیں، جو نیکی و بدی میں شریعت کا مزاج سمجھتے ہوں۔
بنو سدوس کے دیسم نام ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے سیدنا بشیر بن خصاصیہ سے کہا، یہ ان کا نام نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا تھا، بہرحال ہم نے کہا: بنوتمیم کے کچھ لوگ ہمارے ہمسائے ہیں، ہماری جو بکری ریوڑ سے دور ہو جائے، وہ اس کو لے جاتے ہیں، پھر جب ہمارے پاس ان کے مالوں میں بعض چیزیں آتی ہیں تو ہم ان پر قبضہ کر لیں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔
بنو سدوس کے دیسم نام ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے سیدنا بشیر بن خصاصیہ سے کہا، یہ ان کا نام نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا تھا، بہرحال ہم نے کہا: بنوتمیم کے کچھ لوگ ہمارے ہمسائے ہیں، ہماری جو بکری ریوڑ سے دور ہو جائے، وہ اس کو لے جاتے ہیں، پھر جب ہمارے پاس ان کے مالوں میں بعض چیزیں آتی ہیں تو ہم ان پر قبضہ کر لیں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف