الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمُ الْمَالِ
مال کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 10053
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ ثَنَا هَمَّامُ أَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ {أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} [سورة التكاثر: 1-2] قَالَ فَقَالَ يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي وَهَلْ لَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ وَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ كُلُّ صَدَقَةٍ لَمْ تُقْبَضْ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آیات تلاوت کر رہے تھے: زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا،یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، اے ابن آدم! تیرے مال میں سے تیرا مال نہیں ہے، مگر وہ جو تونے کھا کر ختم کر دیا،یا پہن کر بوسیدہ کر دیا،یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔ قتادہ کہا کرتے تھے: وہ صدقہ کچھ نہیں ہے، جس کو قبضے میں نہیں لیا گیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10053]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2958، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16436»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10054
عَنْ كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً وَإِنَّ فِتْنَةَ أُمَّتِي الْمَالُ
۔ سیدنا کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہر امت کا فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10054]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17610»
وضاحت: فوائد: … وہ مال و دولت فتنہ ہے، جو عبادات، معاملات اور اخلاق کے واجبات و مستحبات میںکوتاہی کرنے پر اور محرمات و مکروہات کا ارتکاب کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور مال داروں کی اکثریت اس فتنے میں مبتلا رہی ہے، لیکن وہ خود نہ اس نقطے کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ سمجھنے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔
قارئین کرام! کسی معاشرے پر تبصرہ کرتے وقت اس کی اکثریت کو دیکھا جاتا ہے، نہ کہ چند افراد کو۔ اس امت کا فتنہ مال ہے، اس ضمن میں درج ذیل چند اقتباسات پر غور کریں:
اس سلسلے میں یہ حقیقت ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ مال و دولت کی کثرت و بہتات نے زیادہ تر لوگوں کے مزاجوں کو تبدیل کیا ہے۔ ان کی ترجیحات تبدیل ہو کر رہ گئی ہیں، امیر لوگ اپنی امیری کی بنا پر ناز کرتے ہوئے اپنے آپ کو بلند مرتبت اور کم آمدنی والوں کو کم تر سمجھتے ہیں اور ان سے حسن سلوک سے پیش نہیں آتے، ان کے تعلق یا دوستی کی بنیاد روپے پیسے پر ہوتی ہے، یہ لوگ اپنے جیسے مالداروں، جاگیرداروں، بڑے سیاسی رہنماؤں اور اعلی منصب داروں کا خوشامد کی حد تک احترام کریں گے اور بھرپور انداز میں ان کی ضیافت کریں گے، لیکنجب کوئی غریب اور نیک آدمی ان کے دروازے پر آئے تو اپنے نوکروں چاکروں کے ذریعے ڈیل کرنے کو کافی سمجھ کر اس کو دروازے سے واپس کرنے کی کوشش کریں گے۔ کم ہی دیکھا گیا ہے کہ وہ کسی نیک آدمی کی عزت اس کی نیکی کی وجہ سے کریںیا اس سے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ملاقات ہی کر لیں، بلکہ زیادہ تر اِن کو مذہبی لوگوں پر کیچڑ اچھالتے ہوئے پایا جاتا ہے۔ اگر عبادات کے معاملے کو سامنے رکھیں تو عام لوگوں کی فتح نظر آتی ہے، کسی مسجد کے نمازیوں کی تعداد میں عام لوگوں اور سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والوں کا تناسب دیکھا جا سکتا ہے، تلاوتِ قرآنِ اور حفظ ِ قرآن کے سلسلے میں موازنہ کیا جا سکتا ہے، میں نے اپنی زندگی میں چند امیرافراد پائے جنہوں نے قرآن مجید حفظ کیا اور اسے بھی آرام پرستی کی وجہ سے بھلا دیا۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کی درس و تدریس اور تحقیق و تفتیش کا معاملہ ہے۔ علی ہذا القیاس۔
چشم فلک اور ہر صاحب ِ بصارت کی بصیرت گواہ ہے کہ دنیوی آسائشوں کی وجہ سے عبادات کا سلسلہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، یہی وجہ ہے کہ آج مساجد میں نمازیوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے اور اچھے خاصے نمازی لوگ صرف اس وجہ سے نمازِ فجر کی ادائیگی کے لیے مسجد میںحاضر نہیں ہوتے کہ شام کو خوب پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور نرم گدے بچھا کر اور ملائم کمل اوڑھ کر اور پنکھے، روم کولر یا اے سی وغیرہ چلا کر سوتے ہیں، ایسے ماحول میں نیند کا کردار نشہ سے کم نہیں ہوتا،
نیند پورا ہونے کا نام نہیں لیتی، اعضا ڈھیلے پڑ جاتے ہیں،نتیجتاً فجر کی جماعت یا سرے سے نمازِ فجر سے ہی محروم ہو جاتے ہیں۔ میں بالیقین کہتا ہوں کہ بظاہر انتہائی پر سکون ماحول میں سونے والوں کی نیند کی مقدار کہیں زیادہ ہوتی ہے، جبکہ انہی کی طرح کے انسان دن میں چار، پانچ، چھ گھنٹے سو کر ان سے زیادہ صحت مند نظر آتے ہیں۔
رہا مسئلہ قلت ِ مال یا کثرتِ مال کے بہتر ہونے کا، تو یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے انکار کرنا ناممکن ہے کہ دین کی حفاظت کے لیے، ارکانِ اسلام کی ادائیگی کے لیے اور کئی مفاسد سے بچنے کے لیے قلت ِ مال بہترین ذریعہ ہے اور رہا ہے، یقین مانیے کہ اگر گزر بسر کے بقدر رزق نصیب ہو جائے تو دنیا کا حقیقی سکون مل جاتا ہے۔ یہ غربت ہی ہے جو بچوں کو دینی تعلیم دینے، قرآن مجید حفظ کرنے اور قرآن و حدیث کی تعلیم کے حصول پر آمادہ کرتی ہے اور یہی لوگ ہیں کہ دین کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے جن کی اکثریت کو استعمال کیا گیا۔مزاج میں سادگی اور ہر آدمی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ان ہی لوگوں کا وطیرہ ہے۔ اس سے بڑا انعام کیا ہو سکتا ہے کہ مسکین لوگ امیر لوگوں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ بہرحال یہ ایسے حقائق ہیں جو امیر زادوں اور مال و دولت کے طلبگاروں کے لیے ناقابل تسلیم ہیں۔
قارئین کرام! آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مال و دولت کی کثرت و وسعت کا بندے کو جہاد سمیت شرعی واجبات سے روک دیناباعث ِ ہلاکت ہے، جس کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ} (سورۂ بقرہ: ۱۹۵) … اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔
بہرحال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے مال کی وجہ سے ہی غنی کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، وہ مالدار بڑے خوش بخت ہیں جو اپنی اوقات کو اور اپنے ماضی کو نہیں بھولتے اور اپنے مال و دولت کے تقاضے اور بلا تفریق اہل اسلام کے حقوق ادا کرتے ہیں۔
قارئین کرام! کسی معاشرے پر تبصرہ کرتے وقت اس کی اکثریت کو دیکھا جاتا ہے، نہ کہ چند افراد کو۔ اس امت کا فتنہ مال ہے، اس ضمن میں درج ذیل چند اقتباسات پر غور کریں:
اس سلسلے میں یہ حقیقت ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ مال و دولت کی کثرت و بہتات نے زیادہ تر لوگوں کے مزاجوں کو تبدیل کیا ہے۔ ان کی ترجیحات تبدیل ہو کر رہ گئی ہیں، امیر لوگ اپنی امیری کی بنا پر ناز کرتے ہوئے اپنے آپ کو بلند مرتبت اور کم آمدنی والوں کو کم تر سمجھتے ہیں اور ان سے حسن سلوک سے پیش نہیں آتے، ان کے تعلق یا دوستی کی بنیاد روپے پیسے پر ہوتی ہے، یہ لوگ اپنے جیسے مالداروں، جاگیرداروں، بڑے سیاسی رہنماؤں اور اعلی منصب داروں کا خوشامد کی حد تک احترام کریں گے اور بھرپور انداز میں ان کی ضیافت کریں گے، لیکنجب کوئی غریب اور نیک آدمی ان کے دروازے پر آئے تو اپنے نوکروں چاکروں کے ذریعے ڈیل کرنے کو کافی سمجھ کر اس کو دروازے سے واپس کرنے کی کوشش کریں گے۔ کم ہی دیکھا گیا ہے کہ وہ کسی نیک آدمی کی عزت اس کی نیکی کی وجہ سے کریںیا اس سے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ملاقات ہی کر لیں، بلکہ زیادہ تر اِن کو مذہبی لوگوں پر کیچڑ اچھالتے ہوئے پایا جاتا ہے۔ اگر عبادات کے معاملے کو سامنے رکھیں تو عام لوگوں کی فتح نظر آتی ہے، کسی مسجد کے نمازیوں کی تعداد میں عام لوگوں اور سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والوں کا تناسب دیکھا جا سکتا ہے، تلاوتِ قرآنِ اور حفظ ِ قرآن کے سلسلے میں موازنہ کیا جا سکتا ہے، میں نے اپنی زندگی میں چند امیرافراد پائے جنہوں نے قرآن مجید حفظ کیا اور اسے بھی آرام پرستی کی وجہ سے بھلا دیا۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کی درس و تدریس اور تحقیق و تفتیش کا معاملہ ہے۔ علی ہذا القیاس۔
چشم فلک اور ہر صاحب ِ بصارت کی بصیرت گواہ ہے کہ دنیوی آسائشوں کی وجہ سے عبادات کا سلسلہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، یہی وجہ ہے کہ آج مساجد میں نمازیوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے اور اچھے خاصے نمازی لوگ صرف اس وجہ سے نمازِ فجر کی ادائیگی کے لیے مسجد میںحاضر نہیں ہوتے کہ شام کو خوب پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور نرم گدے بچھا کر اور ملائم کمل اوڑھ کر اور پنکھے، روم کولر یا اے سی وغیرہ چلا کر سوتے ہیں، ایسے ماحول میں نیند کا کردار نشہ سے کم نہیں ہوتا،
نیند پورا ہونے کا نام نہیں لیتی، اعضا ڈھیلے پڑ جاتے ہیں،نتیجتاً فجر کی جماعت یا سرے سے نمازِ فجر سے ہی محروم ہو جاتے ہیں۔ میں بالیقین کہتا ہوں کہ بظاہر انتہائی پر سکون ماحول میں سونے والوں کی نیند کی مقدار کہیں زیادہ ہوتی ہے، جبکہ انہی کی طرح کے انسان دن میں چار، پانچ، چھ گھنٹے سو کر ان سے زیادہ صحت مند نظر آتے ہیں۔
رہا مسئلہ قلت ِ مال یا کثرتِ مال کے بہتر ہونے کا، تو یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے انکار کرنا ناممکن ہے کہ دین کی حفاظت کے لیے، ارکانِ اسلام کی ادائیگی کے لیے اور کئی مفاسد سے بچنے کے لیے قلت ِ مال بہترین ذریعہ ہے اور رہا ہے، یقین مانیے کہ اگر گزر بسر کے بقدر رزق نصیب ہو جائے تو دنیا کا حقیقی سکون مل جاتا ہے۔ یہ غربت ہی ہے جو بچوں کو دینی تعلیم دینے، قرآن مجید حفظ کرنے اور قرآن و حدیث کی تعلیم کے حصول پر آمادہ کرتی ہے اور یہی لوگ ہیں کہ دین کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے جن کی اکثریت کو استعمال کیا گیا۔مزاج میں سادگی اور ہر آدمی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ان ہی لوگوں کا وطیرہ ہے۔ اس سے بڑا انعام کیا ہو سکتا ہے کہ مسکین لوگ امیر لوگوں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ بہرحال یہ ایسے حقائق ہیں جو امیر زادوں اور مال و دولت کے طلبگاروں کے لیے ناقابل تسلیم ہیں۔
قارئین کرام! آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مال و دولت کی کثرت و وسعت کا بندے کو جہاد سمیت شرعی واجبات سے روک دیناباعث ِ ہلاکت ہے، جس کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ} (سورۂ بقرہ: ۱۹۵) … اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔
بہرحال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے مال کی وجہ سے ہی غنی کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، وہ مالدار بڑے خوش بخت ہیں جو اپنی اوقات کو اور اپنے ماضی کو نہیں بھولتے اور اپنے مال و دولت کے تقاضے اور بلا تفریق اہل اسلام کے حقوق ادا کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10055
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ الْعَبْدُ مَالِي مَالِي وَإِنَّ مَالَهُ مِنْ ثَلَاثٍ مَا أَكَلَ فَأَفْنَى أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى أَوْ أَعْطَى فَأَقْنَى مَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، حالانکہ بندے کے مال کی صرف تین صورتیں ہیں،جو وہ کھا کر ختم کر دے، یا پہن کر بوسیدہ کر دے، یا وہ کسی کو دے کر ختم کر دے، اس کے علاوہ جو مال ہے، اس کو وہ لوگوں کے لیے چھوڑ کر چلا جانے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10055]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2959، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8813 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8799»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10056
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا أُنْزِلَتْ {الَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [سورة التوبة: 34] قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ قَدْ نَزَلَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ مَا نَزَلَ فَلَوْ أَنَّا عَلِمْنَا أَيَّ الْمَالِ خَيْرٌ اتَّخَذْنَاهُ فَقَالَ أَفْضَلُهُ لِسَانًا ذَاكِرًا وَقَلْبًا شَاكِرًا وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: وہ لوگ جو سونے اور چاندی کا خزانہ کرتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، ہم میں سے بعض افراد نے بعض سے کہا: سونے اور چاندی کے بارے میں تو یہ کچھ نازل ہو چکا ہے، اب اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ کون سا مال بہتر ہے، تاکہ اس کا اہتمام کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین مال ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور صاحب ِ ایمان بیوی، جو بندے کے ایمان پر اس کا تعاون کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10056]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 3094، وابن ماجه: 1856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22751»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10057
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ حَدَّثَنِي صَاحِبٌ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَبًّا لِلذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ قَالَ فَحَدَّثَنِي صَاحِبِي أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلُكَ تَبًّا لِلذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ مَاذَا نَدَّخِرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِسَانًا ذَاكِرًا وَقَلْبًا شَاكِرًا وَزَوْجَةً تُعِينُ عَلَى الْآخِرَةِ
۔ عبد اللہ بن ابو ہذیل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے ایک ساتھی نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے اور چاندی کے لیے ہلاکت ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ فرما دیا ہے کہ سونے اور چاندی کے لیے ہلاکت ہے، اب ہم کیا خزانہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور ایسی بیوی، جوآخرت کے معاملے میں اپنے خاوند کا تعاون کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10057]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23489»
وضاحت: فوائد: … ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور امورِ آخرت کو آسان بنا دینے والی بیوی، ان تین نعمتوں کی وجہ سے نہ صرف دنیا میں تسکین ملتی ہے، بلکہ آخرت بھی آسان ہو جاتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10058
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ بِالْكُوفَةِ أَمِيرٌ قَالَ فَخَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ إِنَّ فِي إِعْطَاءِ هَذَا الْمَالِ فِتْنَةً وَفِي إِمْسَاكِهِ فِتْنَةٌ وَبِذَلِكَ قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ نَزَلَ
۔ مطرف بن عبد اللہ، ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں، وہ کوفہ کے امیر تھے، انھوں نے ایک دن خطاب کیا اور کہا: بیشک اس مال کو دینے میں بھی فتنہ ہے اور اس کو روکنے میں بھی فتنہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی موضوع پر اپنا خطبہ دیا،یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوئے اور نیچے اتر آئے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10058]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20862»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10059
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَفْتُ أَنَا وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي ظِلِّ أُجُمِ حَسَّانَ فَقَالَ لِي أُبَيٌّ أَلَا تَرَى النَّاسَ مُخْتَلِفَةً أَعْنَاقُهُمْ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُوشِكُ الْفُرَاتُ يَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَإِذَا سَمِعَ بِهِ النَّاسُ سَارُوا إِلَيْهِ فَيَقُولُ مَنْ عِنْدَهُ وَاللَّهِ لَئِنْ تَرَكْنَا النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهُ لَيَذْهَبَنَّ فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ حَتَّى يُقْتَلَ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَنْ عَفَّانَ
۔ عبد اللہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے محل کے سائے میں کھڑے تھے، سیدنا ابی ّ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا تو لوگوں کو نہیں دیکھتا کہ طلب ِ دنیا کے لیے ان کی گردنیں مختلف ہوئی ہوئی ہیں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: قریب ہے کہ فرات سے سونے کا پہاڑ نکل آئے، جب لوگوں کو اس کا پتہ چلے گا تو وہ اس کی طرف جائیں گے، اس پہاڑ کے پاس موجودہ لوگ کہیں گے: اللہ کی قسم! اگر لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیں تو یہ پہاڑ تو ختم ہو جائے گا، پس لوگ آپس میں لڑ پڑیں گے اور ہر سو میں سے ننانوے افراد قتل ہو جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10059]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2895، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21583»
وضاحت: فوائد: … یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10060
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ أَوْ دِرْهَمَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيَّتَانِ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ میں سے ایک آدمی دو دیناریا دو درہم چھوڑ کر فوت ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ دو داغ ہیں، تم خود اپنے ساتھ کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10060]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 788 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 788»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10061
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ دِينَارًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُ كَيَّةٌ قَالَ ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ فَتَرَكَ دِينَارَيْنِ وَفِي رِوَايَةٍ فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ دِينَارَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيَّتَانِ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں ایک آدمی ایک دینار چھوڑ کر فوت ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ ایک داغ ہے۔ پھر ایک اور آدمی دو دینار چھوڑ کر فوت ہو گیا، ایک روایت میں ہے: اس کے ازار میں دو دینار پائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ دو داغ ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10061]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 372، والطبراني في الكبير: 8011، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22172 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22525»
وضاحت: فوائد: … دو دیناروں کو دو داغ کیوں قرار دیا گیا؟ دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۲۰)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10062
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ قَالَتْ فَحَسِبْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ وَجَعٍ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا لَكَ سَاهِمُ الْوَجْهِ قَالَ مِنْ أَجْلِ الدَّنَانِيرِ السَّبْعَةِ الَّتِي أَتَتْنَا أَمْسِ أَمْسَيْنَا وَهِيَ فِي خُصْمِ الْفِرَاشِ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا، میں نے سمجھا کہ شاید آپ کو کوئی تکلیف ہو گی، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا وجہ ہے کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سات دیناروں کی وجہ سے ہے، جو کل ہمارے پاس آئے تھے اور ابھی تک بچھونے کے کونے میں پڑے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10062]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن حبان: 5160، والطبراني في الكبير: 23/ 752، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27049»
الحكم على الحديث: صحیح