Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ مَاوَرَدَ فِي خَلْقِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَوْجُودَنَان الْآن
اس چیز کا بیان کہ جنت اور جہنم کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ اب موجود ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10213
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دُعِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنَازَةِ غُلَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يُدْرِكِ الشَّرَّ وَلَمْ يَعْمَلْهُ قَالَ ((أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ))
۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک انصاری بچے کی طرف بلایا گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے لیے خوشخبری ہے، یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے نہ شرّ کو پایا اور نہ اس پر عمل کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اس کے علاوہ کوئی اور بات بھی کرنی ہے؟ بیشک اللہ تعالیٰ نے جنت کے لیے لوگوں کو اس وقت پیدا کیا، جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے، اسی طرح جہنم کے لیے لوگوں کا اس وقت تعین کر دیا، جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10213]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2662، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26261»
وضاحت: فوائد: … دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے فوت ہو جانے والے نابالغ بچے جنت میں جائیں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10214
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صُفُوفِنَا فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا ثُمَّ تَأَخَّرَ فَتَأَخَّرَ النَّاسُ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ لَهُ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ شَيْئًا صَنَعْتَهُ فِي الصَّلَاةِ لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ قَالَ ((عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ بِمَا فِيهَا مِنَ الزَّهْرَةِ النَّضْرَةِ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ لِآتِيَكُمْ بِهِ فَحِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَلَوْ أَتَيْتُكُمْ بِهِ لَأَكَلَ مِنْهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يَنْقُصُونَهُ شَيْئًا ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَلَمَّا وَجَدْتُ سَفْعَهَا تَأَخَّرْتُ عَنْهَا وَأَكْثَرُ مَنْ رَأَيْتُ فِيهَا النِّسَاءُ اللَّاتِي إِنْ اؤْتُمِنَّ أَفْشَيْنَ وَإِنْ يُسْأَلْنَ بَخِلْنَ وَإِنْ سَأَلْنَ أَلْحَفْنَ)) قَالَ حُسَيْنٌ ((وَإِنْ أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ)) ((وَرَأَيْتُ فِيهَا لُحَيَّ بْنَ عَمْرٍو يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَأَشْبَهُ مَا رَأَيْتُ بِهِ مَعْبَدَ بْنَ أَكْثَمَ الْكَعْبِيَّ)) قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَخْشَى عَلَيَّ مِنْ شِبْهِهِ وَهُوَ وَالِدٌ فَقَالَ ((لَا أَنْتَ مُؤْمِنٌ وَهُوَ كَافِرٌ)) وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ حَمَلَ الْعَرَبَ عَلَى عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں صفوں میں کھڑے تھے، یہ ظہر یا عصر کی نماز تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے اندر ہی کوئی چیز پکڑنا چاہی اور پھر اس قدر پیچھے ہٹے کہ لوگ بھی پیچھے ہٹنے لگ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: آج آپ نے نماز میں ایسی کاروائی کی ہے، جو پہلے نہیں کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کو پوری چمک دمک اور تروتازگی کے ساتھ مجھ پر پیش کیا گیا، میں نے تمہارے پاس لانے کے لیے اس کا انگوروں کا گچھا پکڑنا چاہا، لیکن پھر بیچ میں رکاوٹ ڈال دی گئی اور اگر میں وہ لے آتا تو زمین وآسمان میں موجود تمام مخلوقات اس سے کھاتی، لیکن اس میں کوئی کمی واقع نہ ہوتی، پھر مجھ پر آگ پیش کی گئی، جب میں نے اس کی تپش محسوس کی تو میں پیچھے ہٹ آیا، اس میں اکثریت ان عورتوں کی تھی کہ جب ان کے پاس راز رکھا جائے تو وہ اس کو فاش کر دیتی ہیں، جب ان سے سوال کیا جائے تو وہ بخل کرتی ہیں، جب وہ سوال کرتی ہیں تو چمٹ جاتی ہیں اور جب ان کو دیا جائے تو شکر نہیں کرتیں، اور میں نے لحی بن عمرو کو جہنم میں دیکھا، وہ اپنی انتڑیاں کھینچ رہا تھا، میرے دیکھنے کے مطابق اس کی زیادہ مشابہت معبد بن اکثم کعبی سے تھی۔ سیدنا معبد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس مشابہت کی وجہ سے میرے بارے میں کوئی خطرہ ہے، جبکہ وہ والد بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم مؤمن ہو اور وہ کافر تھا۔ یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے عربوں کو بتوں کی عبادت پر اکسایا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ خَلْقِ الْعَالَمِ/حدیث: 10214]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، تفرد عبد الله بن محمد بن عقيل بھذه السياقة، واصل القصة صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14860»
وضاحت: فوائد: … یہ بات کئی دلائل سے ثابت ہے کہ جنت اور جہنم کو پیدا کیا جا چکا ہے اور وہ موجود ہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں