الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي زِوَاجِهِ ﷺ بِجُوَيْرِيَّةً بِنْتِ حَارِث رضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي هَذِهِ الْغَزْوَةِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّ المؤمنین سیّدہ جویرہ بنت حارث سے شادی کا بیان
حدیث نمبر: 10754
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ وَكَاتَبَتْهُ عَلَى نَفْسِهَا وَكَانَتْ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلَاحَةً لَا يَرَاهَا أَحَدٌ إِلَّا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي فَكَرِهْتُهَا وَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدِ قَوْمِهِ وَقَدْ أَصَابَنِي مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ فَوَقَعْتُ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ فَكَاتَبْتُهُ عَلَى نَفْسِي فَجِئْتُكَ أَسْتَعِينُكَ عَلَى كِتَابَتِي قَالَ فَهَلْ لَكِ فِي خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ قَالَتْ وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَقْضِي كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ قَالَتْ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ قَالَتْ وَخَرَجَ الْخَبَرُ إِلَى النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فَقَالَ النَّاسُ أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلُوا مَا بِأَيْدِيهِمْ قَالَتْ فَلَقَدْ أَعْتَقَ بِتَزْوِيجِهِ إِيَّاهَا مِائَةَ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مصطلق کے قیدی تقسیم کیے تو جویریہ بنت حارث، سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی اور پھر اس نے ان سے مکاتبت بھی کر لی،یہ بڑی ہی خوب رو خاتون تھی، جس نے اس کو دیکھنا تھا، اس نے اس کو اپنے لیے لے لینا تھا، پس وہ اپنی مکاتبت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، اللہ کی قسم! جب میں (عائشہ) نے اس کو اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا تو میں نے اس کے آنے کو ناپسند کیا اور میں جان گئی کہ جو چیز میں دیکھ رہی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر بھی اسی چیز پر پڑے گی، پس جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار ہوں، میرے باپ اپنی قوم کے سردار ہیں اور میں ایسی آزمائش میں پھنس گئی ہوں کہ اس کا معاملہ آپ پر بھی واضح ہے، میں سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی ہوں اور میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے، اب میں آپ کے پاس آئی ہوں، تاکہ آپ مکاتبت پر میرا تعاون کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تمہیں اس سے بہتر چیز کی رغبت ہے؟ اس نے کہا: جی وہ کیا؟ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مکاتبت کی قیمت ادا کر کے تم سے شادی کر لیتا ہوں۔ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق میں نے ایسے ہی کر دیا ہے۔ اتنے میں لوگوں تک یہ خبر پہنچ گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے شادی کر لی ہے، لوگوں نے کہا: بنو مصطلق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سسرال بن گئے ہیں، پس اس وجہ سے انھوں نے وہ غلام اور لونڈیاں آزاد کر دیں، جو ان کے ہاتھ میں تھے، سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کی اس شادی کی وجہ سے بنو مصطلق کے سو گھرانوں کے افراد کو آزاد کیا گیا، میں ایسی کوئی خاتون نہیں جانتی جو اپنی قوم کے لیےاس سے زیادہ برکت والی ثابت ہوئی ہو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10754]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 3931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26897»
وضاحت: فوائد: … پچھلے باب کے شروع میں سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے ام المؤمنین بننے کی بات گزر چکی ہے۔
یہ صحابۂ کرام کے دلوں میں گھر کر جانے والی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور اس کے تقاضے ہیں کہ جب بنو مصطلق قبیلے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سسرال ہونے کا شرف حاصل ہوا تو صحابہ نے ان کے سو گھرانوں کے افراد کو آزاد کر دیا۔
یہ صحابۂ کرام کے دلوں میں گھر کر جانے والی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور اس کے تقاضے ہیں کہ جب بنو مصطلق قبیلے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سسرال ہونے کا شرف حاصل ہوا تو صحابہ نے ان کے سو گھرانوں کے افراد کو آزاد کر دیا۔
الحكم على الحديث: صحیح