🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ الرَّضْوَانِ
بیعتِ رضوان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10795
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُوَ رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِ الشَّجَرَةِ بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ فَبَايَعُوهُ عَلَى أَنْ لَا يَفِرُّوا وَهُمْ يَوْمَئِذٍ أَلْفٌ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب لوگوں سے بیعت لے رہے تھے تو یہ اپنے ہاتھوں سے درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک سے اوپر کو اُٹھائے ہوئے تھے۔ صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کی بیعت کی تھی کہ وہ میدان سے فرار نہیں ہوں گے، اس روز صحابہ کی تعداد ایک ہزار چارسو تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10795]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1858، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20559»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1858
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10796
عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے دن ہماری تعداد چودہ سو تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، کیکریا ببول کے درخت کے نیچے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کی بیعت کی تھی کہ ہم میدان سے فرار نہ ہوں گے، ہم نے موت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت نہیں کی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10796]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14823 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14883»
وضاحت: فوائد: … صحابۂ کرام نے موت پر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، جیسا کہ آگے روایات آ رہی ہیں، اسی طرح بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت، اسلام اور جہاد پر بھی بیعت کی گئی اور ایک حدیث میں ہے کہ صحابۂ کرام نے خلیفہ کی بات سننے، اس کی اطاعت کرنے اور حکومت و امارت کے اہل لوگوں سے حکومت نہ چھیننے پر بیع کی، ایک روایت میں ہے کہ صحابۂ کرام نے صبر پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی۔
ان تمام روایات میں معنی و مفہوم کے اعتبار سے یکسانیت پائی جاتی ہے، سب روایات کا مدّعا یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حقیقت پر بیعت کر رہے ہیں کہ وہ صبر کریں گے اور دشمن سے مرعوب ہو کر بھاگیں گے نہیں، بلکہ دشمن کے مقابلے میںڈٹے رہیں گے، یہاں تک کہ یا تو شہیدہو جائیں گے اور یہ پھر کامیاب ہو کر لوٹیں گے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1856
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10797
عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ الْعَبَّاسُ آخِذًا بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوَاثِقُنَا فَلَمَّا فَرَغْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذْتُ وَأَعْطَيْتُ قَالَ فَسَأَلْتُ جَابِرًا يَوْمَئِذٍ كَيْفَ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعَلَى الْمَوْتِ قَالَ لَا وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ قُلْتُ لَهُ أَفَرَأَيْتَ يَوْمَ الشَّجَرَةِ قَالَ كُنْتُ آخِذًا بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى بَايَعْنَاهُ قُلْتُ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ كُنَّا أَرْبَعَ عَشَرَ مِائَةً فَبَايَعْنَاهُ كُلُّنَا إِلَّا الْجَدَّ بْنَ قَيْسٍ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرٍ وَنَحَرْنَا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ مِنَ الْبُدْنِ لِكُلِّ سَبْعَةٍ جَزُورٌ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے بیعت لے رہے تھے، جب ہم بیعت سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم لوگوں سے بیعت لے چکا اور اللہ کا دین اور اس کے وعدے تمہیں دے چکا۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اس دن آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کس قسم کی بیعت کی تھی؟ کیا موت کی بیعت تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہم نے آپ سے اس بات کی بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے۔ میں نے کہا: درخت والے دن کے متعلق بھی بتلائیں،انہوں نے کہا:اس د ن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، میں نے دریافت کیا: اس دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انھوں نے کہا: ہم چودہ سو تھے، جد بن قیس کے سوا باقی سب لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، وہ اونٹ کے پیٹ کے پیچھے چھپ گیا تھا، اس دن ہم نے ستر اونٹ نحر کئے تھے، ہر سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10797]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مختصرا مسلم: 1856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15332»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10798
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُسْأَلُ هَلْ بَايَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَالَ لَا وَلَكِنْ صَلَّى بِهَا وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ الشَّجَرَةِ إِلَّا الشَّجَرَةَ الَّتِي لِلْحُدَيْبِيَةِ وَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا دَعَا عَلَى بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ
ابو زبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے سنا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا تھا کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے مقام پر بیعت لی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز ادا کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر درخت کے قریب بیعت ضرور لی تھی۔ ابو زبیر نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے کنوئیں پر دعا کی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10798]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14485 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14539»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1856
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10799
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ وَكَانَ أَحَدَ الرَّهْطِ الَّذِينَ نَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ [التوبة: 92] قَالَ إِنِّي لَآخِذٌ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِ الشَّجَرَةِ أُظِلُّ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُبَايِعُونَهُ فَقَالُوا نُبَايِعُكَ عَلَى الْمَوْتِ قَالَ لَا وَلَكِنْ لَا تَفِرُّوا
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ، یہ صحابی ان لوگوں میں سے ہیں جن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: {وَلَا عَلَی الَّذِینَ إِذَا مَا أَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ} … اور نہ ان لوگوں پر کہ جب وہ آپ کے پاس آئے، تاکہ آپ ان کو سوار کریں۔ (سورۂ توبہ: ۹۲)، یہ صحابی بیان کرتے ہیں کہ (حدیبیہ کے دن) صحابہ کرام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کر رہے تھے اور میں درخت کی ایک شاخ پکڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کئے ہوئے تھا، صحابہ نے کہا: ہم موت پر آپ کی بیعت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس بات کی بیعت کرو کہ میدان سے فرار اختیار نہیں کرو گے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10799]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو جعفر الرازي سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20820»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10800
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ أَلَا تُبَايِعُ قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَيْضًا قُلْتُ عَلَامَ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے (حدیبیہ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن اکوع! کیا تم بیعت نہیں کرو گے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تو آپ کی بیعت کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کرو۔“ میں نے عرض کی: جی میں کس چیز پر بیعت کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”موت پر۔“ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10800]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4169، 7208، ومسلم: 1860، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16623»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4169
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10801
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ بَايَعْنَا عَلَى الْمَوْتِ
۔(دوسری سند) یزید بن ابی عبید سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا:آپ لوگوں نے حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10801]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16648»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16648
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10802
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ كَانَ أَبِي مِمَّنْ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ فَقَالَ انْطَلَقْنَا فِي قَابِلٍ حَاجِّينَ فَعُمِّيَ عَلَيْنَا مَكَانُهَا فَإِنْ كَانَتْ بَيَّنَتْ لَكُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ
سعید بن مسیب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، ان کے باپ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت ِ رضوان کی تھی۔ انہوں نے کہا: جب ہم اگلے سال حج کے ارادے سے گئے تو اس درخت کی جگہ پہنچاننا ہمارے لیے مشکل ہو گیا۔(یعنییہ معلوم کرنا مشکل ہو گیا کہ ہم نے کس جگہ اور کس درخت کے نیچے بیعت کی تھی؟) اگر وہ جگہ تمہارے لیے واضح ہو گئی تو تم ہی پھر اس کے بارے میں بہتر جانتے ہو گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی کا بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں تو اگلے سال بھی اس درخت اور اس کی جگہ کا یقینی علم نہ ہو سکا۔ اگر کسی بعد والے شخص کو اس کا علم ہوا ہے تو پھر اس کا علم تو ہم سے زیادہ ہوا نا۔ مطلب یہ ہے کہ اس کا یقینی علم کسی کو نہیں۔ (عبداللہ رفیق) [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10802]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4164، ومسلم: 1859، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24075»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں ہونے والے بڑے بڑے واقعات کے زمان و مکاں کو یاد نہیں رکھا گیا اور نہ یہ ان ہستیوں کا مقصود تھا۔ غزوۂ بدر، غزوۂ احد، غزوۂ خندق، صلح حدیبیہ، بیعت ِ رضوان، فتح مکہ، عمرے اور حجۃ الواداع وغیرہ، نہ تو سال کے بعد ان واقعات کی تاریخوں کو دوہرایا جاتا اور نہ ان مقامات کی زیارت کی جاتی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4164
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10803
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ طَارِقٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ الشَّجَرَةُ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ ذَلِكَ الْعَامَ مَعَهُمْ فَنَسُوهَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ
۔(دوسری سند) طارق بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ سعید بن مسیب کے سامنے بیعت والے درخت کا ذکر کیا گیا،انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ اس سال (یعنی حدیبیہ والے سال) وہ بھی صحابہ کے ساتھ تھے، لیکن جب وہ صحابہ کے ساتھ اگلے سال گئے تو وہ اس درخت کو بھول چکے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10803]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24076»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24076
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10804
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے دن ہماری تعداد چودہ سو تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: تم آج روئے زمین کے تمام لوگوں سے افضل ہو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10804]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4154، 4840، ومسلم: 1856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14364»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4154
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں