الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. البابُ الأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيُّ لَمْ يَتَخَلَّفْ قَبل وَفَاتِهِ
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
حدیث نمبر: 12018
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ النَّاسُ يَا أَبَا حَسَنٍ كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخَذَ بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ أَلَا تَرَى أَنْتَ وَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيُتَوَفَّى فِي وَجَعِهِ هَذَا إِنِّي أَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ فَاذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْهُ فِيمَنْ هَذَا الْأَمْرُ فَإِنْ كَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِكَ وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا كَلَّمْنَاهُ فَأَوْصَى بِنَا فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَنَاهَا لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ أَبَدًا فَوَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهُ أَبَدًا
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرض الموت کے دنوں میں ایک روز سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کے پاس سے باہر تشریف لائے۔ لوگوں نے پوچھا: اے ابو الحسن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس حال میں ہیں؟ انہو ں نے کہا: الحمد اللہ بہتر ہیں۔ ان کی بات سن کر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور کہا: آپ دیکھتے نہیں؟ اللہ کی قسم! رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اس بیماری میں فوت ہوجائیں گے، میں عبدالمطب کے خاندان کے افراد کو چہروں سے پہچانتا ہوں کہ موت سے قبل ان کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟ آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں جا کر ا س امر (خلافت) کے بارے میں پوچھ لیں۔ اگر یہ ہمارا حق ہو ا تو ہمیں پتہ چل جائے گا اور اگر یہ کسی دوسرے کے متعلق بات ہوئی تو ہم اس بارے میں پوچھ گچھ کر لیتے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے حق میں وصیت کردیں گے۔ یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا اور آپ نے ہمیں اس سے محروم کر دیا تو لوگ کبھی بھی ہمیں یہ حق نہیں دیں گے، لہٰذا اللہ کی قسم! میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں کچھ نہ پوچھوں گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12018]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 4447، 6266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2374 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2374»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12019
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْجَمَلِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا عَهْدًا نَأْخُذُ بِهِ فِي الْإِمَارَةِ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى عُمَرَ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ حَتَّى ضَرَبَ الدِّينُ بِجِرَانِهِ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جنگ جمل کے روز فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امارت (خلافت) کے بارے میں ہم سے کچھ نہیں فرمایا، بلکہ یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے یعنی امت نے اپنے اجتہاد سے اختیار کیا اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلفیہ منتخب کر لیا گیا، ان پر اللہ کی رحمت ہوـ، انہو ں نے اپنی ذمہ داری کو خوب نبھایا، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا، انہوں نے بھی اپنی ذمہ داری کو اس قد رعمدگی سے ادا کیا کہ روئے زمین پر اسلام کا بول بالا ہوگیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12019]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرجل الذي روي عن علي، اخرجه العقيلي في الضعفائ: 1/ 178، وابن ابي عاصم: 1218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 921»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12020
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ يُؤَمَّرُ بَعْدَكَ قَالَ ”إِنْ تُؤَمِّرُوا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَجِدُوهُ أَمِينًا زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا لَا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَا أُرَاكُمْ فَاعِلِينَ تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا يَأْخُذُ بِكُمُ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کس کو امیربنایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ابوبکر کو امیر بناؤ گے تو تم اسے ایسا پاؤ گے کہ اس کو دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی رغبت ہوگی، اگرتم عمر کو امیر بناؤ گے تو تم اسے قوی اور اما نتدار پاؤ گے، جو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرے گا اور اگر تم علی رضی اللہ عنہ کو امیر بناؤ گے تو تم اس کو رہنما اور ہدایت یافتہ پاؤ گے، جو تمہیں صراط مستقیم پر لے جائے گا، لیکن میرا خیال ہے کہ تم اسے خلیفہ نہیں بناؤ گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12020]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، زيد بن يثيع لم يرو عنه غير ابي اسحاق، ولم يوثقه غير ابن حبان والعجلي، وابو اسحاق السبيعي تغير بأخره وقد اضطرب في ھذا الخبر، اخرجه البزار: 783، والحاكم: 3/ 70، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 859 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 859»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12021
عَنْ قَيْسٍ الْخَارِفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ: سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَثَلَّثَ عُمَرُ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ، فَكَانَ مَا شَاءَ اللَّهُ، (وَفِي رِوَايَةٍ: يَعْفُو اللَّهُ عَمَّنْ يَشَاءُ) .
قیس خارفی کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا: سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے، آپ کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے امت کو نمازیں پڑھائیں، تیسرے نمبر پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے،ان کے بعد تو ہمیں فتنوں اور آزمائشوں نے آلیا، پھر وہی ہوا، جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا۔ ایک روایت میں ہے: اللہ جس کو چاہے گا، معاف کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12021]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن سعد: 6/ 130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1259»
وضاحت: فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ امت مسلمہ کے پہلے دو خلفاء کی عظمت کا اعتراف کر رہے ہیں، اور اہل حق کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ جادۂ حق پر گامزن رہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12022
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) بِمِثْلِهِ وَفِيهِ: ثُمَّ خَبَطَتْنَا أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ فَمَا شَاءَ اللَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِي قَوْلُهُ: ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ، أَرَادَ أَنْ يَتَوَاضَعَ بِذَلِكَ.
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ان حضرات کے بعد ہمیں آزمائشوں نے آلیا، پھر وہی ہوا جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: میرے والد نے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ان حضرات کے بعد ہمیں آزمائشوں نے آلیا۔ یہ انہوں نے ازراہ تواضع فرمایا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12022]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1020»
وضاحت: فوائد: … اس باب سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح طور پر کسی صحابی کا نام بطورِ خلیفہ پیش نہیں کیا، ہاں بعض احادیث سے خلفائے راشدین کی خلافت کا اشارہ ملتا ہے، جیسے حدیث نمبر (۱۲۱۵۳) والے باب میں مذکورہ احادیث ِ مبارکہ سے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ ملتا ہے۔
قَوْلُہُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ))
ارشادِ نبوی ائمہ قریشی ہوتے ہیں کی وضاحت
قَوْلُہُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ))
ارشادِ نبوی ائمہ قریشی ہوتے ہیں کی وضاحت
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12023
عَنْ سَهْلٍ أَبِي الْأَسَدِ قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجَزَرِيُّ، قَالَ: قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُهُ كُلَّ أَحَدٍ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ وَنَحْنُ فِيهِ، فَقَالَ: ”الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ، إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا، وَلَكُمْ عَلَيْهِمْ حَقًّا مِثْلَ ذَلِكَ مَا إِنِ اسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا، وَإِنْ عَاهَدُوا وَفَوْا، وَإِنْ حَكَمُوا عَدَلُوا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.“
بکیر بن وہب جزری کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں،یہ حدیث میں نے کسی اور کو بیان نہیں کی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم بھی اس گھر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حکمران قریش میں سے ہوں گے، تمہارے ذمے ان کے حقوق ہیں اور اسی طرح ان کے ذمے تمہارے حقوق ہیں،اگر ان سے رحم کی درخواست کی جائے گی تو وہ رحم کریں، جب وہ کسی سے کوئی وعدہ کریں، تو اسے پورا کریں گے اور جب وہ فیصلے کریں تو عدل و انصاف سے کریں، اگر ان میں سے کسی نے یہ ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12023]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه النسائي في الكبري: 5942، الطبراني في الدعائ: 2122، وابن ابي شيبة: 12/ 169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12332»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12024
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنْ سَهْلٍ أَبِي الْأَسَدِ، عَنْ بُكَيْرٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا فِي بَيْتِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَقَفَ فَأَخَذَ بِعِضَادَةِ الْبَابِ فَقَالَ: ”الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ … الخ.“
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم ایک دفعہ ایک انصاری کے گھر میں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آکر دروازے کی چوکھٹ کے بازوکو پکڑ کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: حکمران قریش میں سے ہوں گے، …۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12024]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12931»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12025
حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ، سَمِعَ أَبَا بَرْزَةَ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ، إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَوْا، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.“
سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے تھے: کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خلفاء اور حکمران قریش میں سے ہوں گے۔ جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، جب وہ کسی سے کوئی وعدہ کریں، تو اسے پورا کریں گے اور جب وہ فیصلے کریں تو عدل و انصاف سے کریں، اگر ان سے کسی نے یہ ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12025]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه البزار: 3857، وابويعلي: 3645، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19777 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20015»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12026
عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَلَغَ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَيَكُونُ مَلِكٌ مِنْ قَحْطَانَ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ، فَقَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ يُحَدِّثُونَ أَحَادِيثَ لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَلَا تُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُولَئِكَ جُهَّالُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَالْأَمَانِيَّ الَّتِي تُضِلُّ أَهْلَهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ، لَا يُنَازِعُهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَكَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّينَ.“
امام زہری کہتے ہیں کہ محمد بن جبیر بن مطعم ایک قریشی وفدمیں شریک سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انھوں نے بیان کیا کہ معاویہ کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ عنقریب قحطان کا ایک بادشاہ ہو گا، تو معاویہ غصے میں آ گئے، کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بعض لوگ ایسی باتیں بیان کرتے ہیں، جو نہ تو اللہ کی کتاب میں پائی جاتی ہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہوتی ہیں۔ یہ لوگ پر لے درجے کے جاہل ہیں۔ اس قسم کی خواہشات سے بچوجو خواہش پرستوں کو گمراہ کر دیتی ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: یہ (امارت والا) معاملہ قریشیوں میں رہے گا، جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے، ان سے دشمنی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ منہ کے بل گرادے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12026]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3500، 7139، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16852 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16977»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: اس حدیث کے الفاظ مَا أقَامُوْا الدِّیْنَ (جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے) سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک وہ دین کو محفوظ رکھیں گے، ان کی امارت برقرار رہے گی۔ اس کا مفہومِ مخالف یہ ہوا کہ اگر انھوں نے دین کو تحفظ فراہم نہ کیا، تو خلافت ان سے چھن جائے گی۔ حافظ ابن حجر (فتح الباری: ۱۳/۱۱۷) میں اس موضوع پر دلالت کرنے والی دوسری احادیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
تمام احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ بقائے امارت کے لیے قریشیوں کو جن جن امور سے متنبہ کیا گیا تھا، جب انھوں نے ان کی پروا نہ کی تو خلافت کی باگ ڈور ان کے قابو میں نہ رہی۔ یہاں سے رسوائی اور معاملات کے فاسد ہو جانے کی ابتدا ہوئی، یہ بنو عباس کے عہدِ امارت کے شروع شروع کی بات ہے۔ جب مزید بگاڑ پیدا ہوا کہ تو ان کے غلام ان پر غالب آگئے، جو ان کو اذیتیں پہنچانے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے۔ اس وقت خلفاء و امراء کی وقعت اس بچے سے زیادہ نہ تھی، جس پر پابندی لگا دی جاتی ہے، انھوں نے لذتوں پر قناعت کر لی تھی اور دوسرے لوگ امورِ سلطنت چلا رہے تھے۔ اس وقت معاملہ سنگینی اختیار کر گیا، جب آذر بائیجان کے قرب و جوار میں بسنے والے دیلمی لوگ قابض ہو گئے، انھوں نے خلیفہ کے لیے اس کے اختیارات کا دائرہ اتنا تنگ کر دیا کہ اس کے لیے سوائے خطبہ دینے کے کچھ نہ بچا اور زبردستی قبضہ کرنے والوں نے مختلف صوبوں میں شاہی حکومت کو تقسیم کر لیا، پھر وہ گروہ در گروہ غالب آتے گئے، حتی کہ خلفاء سے تمام امورِ سلطنت چھین لیے گئے اور بعض علاقوں میں تو رسمی اسمِ خلافت کے علاوہ کچھ نہ بچا۔
میں (البانی) کہتا ہوں: آج بھی امت ِ مسلمہ کے حالات اسی طرح بدتر ہیں، بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہیں، کیونکہ آج سرے سے مسلمانوںکا کوئی خلیفہ نہیں ہے، نہ اسمی طور پر اور نہ رسمی طور پر۔ اکثر اسلامی ممالک پر یہودی، کیمونسٹ اور منافق غلبہ پا چکے ہیں۔
ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو شرعی امور میں باہمی مشاورت کی اور حکام کو متحد ہو کر شرعی احکام کے مطابق ایک سلطنت تشکیل دینے کی توفیق سے نوازے، تاکہ یہ دنیا میں عزت اور آخرت میں سعادت پا سکیں۔ اگر ایسے نہ ہوا تو ہم اس آیت کے مصداق بن کر رہ جائیں گے: {اِنَّ اللّٰہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یَغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ} (سورۂ رعد: ۱۱) … کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہو۔
اس آیت کی تفسیر اس حدیث میں کی گئی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا تَبَایَعْتُمْ بِالْعِیْنَۃِ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِیْتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَکْتُمُ الْجِھَادَ، سَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ ذُلاًّ لَایَنْزِعُہُ حَتّٰی تَرْجِعُوْا إِلٰی دِیْنِکُمْ۔)) (صحیحہ:۱۱) … جب تم بیع عِینہ کرو گے، ہاتھوں میں بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے، کھیتی باڑی کرنے پر راضی ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا چھوڑ دوگے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلّط کر دے گا اور اس وقت تک نہیں اٹھائے گا جب تک تم دین کی طرف نہیں لوٹ آؤ گے۔
سو مسلم حاکمو! اور مسلم محکومو! اپنے دین کی طرف پلٹ آؤ۔ (صحیحہ: ۲۸۵۶)
تمام احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ بقائے امارت کے لیے قریشیوں کو جن جن امور سے متنبہ کیا گیا تھا، جب انھوں نے ان کی پروا نہ کی تو خلافت کی باگ ڈور ان کے قابو میں نہ رہی۔ یہاں سے رسوائی اور معاملات کے فاسد ہو جانے کی ابتدا ہوئی، یہ بنو عباس کے عہدِ امارت کے شروع شروع کی بات ہے۔ جب مزید بگاڑ پیدا ہوا کہ تو ان کے غلام ان پر غالب آگئے، جو ان کو اذیتیں پہنچانے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے۔ اس وقت خلفاء و امراء کی وقعت اس بچے سے زیادہ نہ تھی، جس پر پابندی لگا دی جاتی ہے، انھوں نے لذتوں پر قناعت کر لی تھی اور دوسرے لوگ امورِ سلطنت چلا رہے تھے۔ اس وقت معاملہ سنگینی اختیار کر گیا، جب آذر بائیجان کے قرب و جوار میں بسنے والے دیلمی لوگ قابض ہو گئے، انھوں نے خلیفہ کے لیے اس کے اختیارات کا دائرہ اتنا تنگ کر دیا کہ اس کے لیے سوائے خطبہ دینے کے کچھ نہ بچا اور زبردستی قبضہ کرنے والوں نے مختلف صوبوں میں شاہی حکومت کو تقسیم کر لیا، پھر وہ گروہ در گروہ غالب آتے گئے، حتی کہ خلفاء سے تمام امورِ سلطنت چھین لیے گئے اور بعض علاقوں میں تو رسمی اسمِ خلافت کے علاوہ کچھ نہ بچا۔
میں (البانی) کہتا ہوں: آج بھی امت ِ مسلمہ کے حالات اسی طرح بدتر ہیں، بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہیں، کیونکہ آج سرے سے مسلمانوںکا کوئی خلیفہ نہیں ہے، نہ اسمی طور پر اور نہ رسمی طور پر۔ اکثر اسلامی ممالک پر یہودی، کیمونسٹ اور منافق غلبہ پا چکے ہیں۔
ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو شرعی امور میں باہمی مشاورت کی اور حکام کو متحد ہو کر شرعی احکام کے مطابق ایک سلطنت تشکیل دینے کی توفیق سے نوازے، تاکہ یہ دنیا میں عزت اور آخرت میں سعادت پا سکیں۔ اگر ایسے نہ ہوا تو ہم اس آیت کے مصداق بن کر رہ جائیں گے: {اِنَّ اللّٰہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یَغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ} (سورۂ رعد: ۱۱) … کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہو۔
اس آیت کی تفسیر اس حدیث میں کی گئی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا تَبَایَعْتُمْ بِالْعِیْنَۃِ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِیْتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَکْتُمُ الْجِھَادَ، سَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ ذُلاًّ لَایَنْزِعُہُ حَتّٰی تَرْجِعُوْا إِلٰی دِیْنِکُمْ۔)) (صحیحہ:۱۱) … جب تم بیع عِینہ کرو گے، ہاتھوں میں بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے، کھیتی باڑی کرنے پر راضی ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا چھوڑ دوگے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلّط کر دے گا اور اس وقت تک نہیں اٹھائے گا جب تک تم دین کی طرف نہیں لوٹ آؤ گے۔
سو مسلم حاکمو! اور مسلم محکومو! اپنے دین کی طرف پلٹ آؤ۔ (صحیحہ: ۲۸۵۶)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12027
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَرِيبٍ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ، لَيْسَ فِيهِمْ إِلَّا قُرَشِيٌّ، لَا وَاللَّهِ! مَا رَأَيْتُ صَفْحَةَ وُجُوهِ رِجَالٍ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْ وُجُوهِهِمْ يَوْمَئِذٍ، فَذَكَرُوا النِّسَاءَ فَتَحَدَّثُوا فِيهِنَّ، فَتَحَدَّثَ مَعَهُمْ حَتَّى أَحْبَبْتُ أَنْ يَسْكُتَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: ”أَمَّا بَعْدُ! يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ! فَإِنَّكُمْ أَهْلُ هَذَا الْأَمْرِ مَا لَمْ تَعْصُوا اللَّهَ، فَإِذَا عَصَيْتُمُوهُ بَعَثَ إِلَيْكُمْ مَنْ يَلْحَاكُمْ كَمَا يُلْحَى هَذَا الْقَضِيبُ.“ لِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ ثُمَّ لَحَا قَضِيبَهُ فَإِذَا هُوَ أَبْيَضُ يَصْلِدُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم تقریبًا قریش کے اسی (۸۰) آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، تمام کے تمام قریشی تھے۔ اللہ کی قسم! اُس دن یہ لوگ بہت خوبصورت نظر آ رہے تھے، انھوں نے عورتوں کا ذکر کیا، ان کے بارے میں باتیں کیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے ساتھ گفتگو کرتے رہے (اور اتنا زیادہ کلام کیا کہ) میں نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو جائیں۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے خطبۂ شہادت پڑھا اور فرمایا: حمد و صلوۃ کے بعد (میں یہ کہوں گا کہ) قریشیو! تم لوگ اس (امارت) کے مستحق ہو، جب تک اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرو گے، اگر تم نے نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بھیجے گا جو تمھاری چمڑی ادھیڑ دیں گے، جس طرح اس شاخ (جو آپ کے ہاتھ میں تھی) کا چھلکا اتار لیا جاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی شاخ کا چھلکا اتارا، (جس کی وجہ سے) وہ اچانک سفید اور سخت نظر آنے لگی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12027]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابويعلي: 5024، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4380 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4380»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: یہ حدیث نبوت کی (صداقت و حقانیت کی) نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ کئی صدیوں تک قریشیوں کی خلافت جاری رہی، بالآخر اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور خواہش پرستیوں کی وجہ سے ان کی خلافت و ملوکیت دم توڑ گئی، اللہ تعالیٰ نے ان پر عجمیوں کو مسلط کر دیا اور مسلمان ذلیل ہو کر رہ گئے۔ اب اگر مسلمان مملکتِ اسلامیہ کے حصول کے لیے صدقِ دل سے متمنی اور کوشاں ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، اپنے دین کی طرف متوجہ ہوں اور شرعی احکام کی پیروی کریں۔ غور کریں کہ علم حدیث کی کتب میں وہ شروط و قیود مذکور ہیںجن کی بنا پر قریش میں خلافت کو بقا ملنی تھی، لیکن انھوں نے وہ شرطیں پوری نہیں کیں، اس لیے وہ محکوم بن گئے۔ اب ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی خواہشات اور اپنے آباء و اجداد کی تہذیبوں کو ترجیح نہ دیں، وگرنہ ہمیں پھر محکوم ہی رہنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا: {اِنَّ اللّٰہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ} (سورۂ رعد: ۱۱) … کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہو۔ بہرحال حسنِ عاقبت تو پرہیز گاروں کے لیے ہی ہے۔ (صحیحہ: ۱۵۵۲)
الحكم على الحديث: صحیح