🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْهُمْ
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12085
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”سَيَكُونُ أُمَرَاءُ بَعْدِي يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب ایسے حکمران آئیں گے، جو ایسی باتیں کریں گے، جن پر ان کا اپنا عمل نہیں ہو گا اور وہ جو کچھ کریں گے، اس کا ان کو حکم نہیں دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12085]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي اخرجه ابن حبان: 177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4363»
وضاحت: فوائد: … عصر حاضر کے حکمرانوں اور ان کے حواریوں کو بھی بیان بازی اور بڑھکیں مارنے کا بڑا شوق ہے، حکومتی خزانے کو لٹا کر سوشل ویلفیئر سے متعلقہ چند کام کر کے اپنے نام کے یوںکتبے لگاتے ہیں اور افتتاح کرتے ہیں، جیسے ان کے باپوں نے ذاتی زمین فروخت کر کے یہ عوامی خدمت سرانجام دی ہو، چار کلو میٹر کی سڑک مرمت کروا کے اور ایک پرائمری سکول تعمیر کر کے شہنشاہِ تعمیرات بن جاتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12086
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَأَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ قَالَا ثَنَا كَامِلٌ قَالَ ثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَصِيرَ لِلُكَعٍ“ قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَتَّى تَصِيرَ لِلُكَعِ بْنِ لُكَعٍ وَقَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ لِلَكِيعِ بْنِ لَكِيعٍ وَقَالَ أَسْوَدُ يَعْنِي اللَّئِيمَ بْنَ اللَّئِيمِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی، جب تک کہ یہ حقیر کی ملکیت میں نہیں آجائے گی۔ اسمٰعیل بن عمر اور ابن بکیر نے کہا: جب تک یہ حقیر بن حقیر کی ملکیت میں نہیں آجائے گی۔ اسود راوی نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس سے مراد برا شخص کا برا بیٹا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12086]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8305»
وضاحت: فوائد: … لکع بن لکع (کمینہ بن کمینہ) سے مراد وہ شخص ہے، جو ردی اور گھٹیا نسب والا ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ایسا شخص ہو جس کا نسب غیر معروف ہو اور لوگ اس کی تعریف نہ کرتے ہوں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12087
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا ابو بردہ بن نیاز رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12087]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 512، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15837 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15931»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12088
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ“
سیدنا مقداد بن اسود اور سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم لوگوں کے عیوب ڈھونڈنا شروع کر دیتا ہے تو وہ ان کو خراب کر دیتاہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12088]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، اخرجه ابوداود: 4889، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23815 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24316»
وضاحت: فوائد: … جو حاکم اپنی رعایا کے لیے خیر و بھلائی کا طالب ہو گا، وہ کسی بڑی ضرورت اور مصلحت کے بغیر ان کے معائب و نقائص تلاش نہیں کرے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو عیوب پر پردہ ڈالنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12089
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ شَدَّدَ سُلْطَانَهُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ أَوْهَنَ اللَّهُ كَيْدَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی معصیت کر کے اپنے بادشاہ کو تقویت پہنچاتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مکر کو کمزور اور ناکام کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12089]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن لھيعة، ولانقطاعه بين يزيد بن ابي حبيب وقيس بن سعد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24342»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12090
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا بَلَغَ بَنُو آلِ فُلَانٍ ثَلَاثِينَ رَجُلًا اتَّخَذُوا مَالَ اللَّهِ دُوَلًا وَدِينَ اللَّهِ دَخَلًا وَعِبَادَ اللَّهِ خَوَلًا“
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب فلاں آدمی کی اولاد کی تعداد تیس ہوجائے گی تو یہ لوگ اللہ کے مال کو آپس میں ہی ادل بدل کریں گے، اللہ تعالیٰ کے دین میں عیب و نقص نکالیں گے اور اللہ کے بندوں کو غلام بنا لیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12090]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، اخرجه البزار: 1620، والحاكم: 4/ 480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11780»
وضاحت: فوائد: … ایک روایت میں فلاں آدمی کی بجائے ابو عاص کی اولاد کا ذکر ہے۔ بنو ابی العاص سے مراد بنو امیہ ہیں، جن کے دور حکومت میں اس باب میں مذکورہ احادیث کا مصداق بننے والے خلفاء موجود تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12091
عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ قَالَ أَقْبَلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْقَبْرِ فَقَالَ أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبُو أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ نَعَمْ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا تَبْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ وَلَكِنِ ابْكُوا عَلَيْهِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ“
داود بن ابی صالح کہتے ہیں کہ ایک دن مروان آیا اور اس نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے اپنا چہرہ قبر کے اوپر رکھا ہوا تھا، مروان نے کہا: کیا تو جانتا ہے کہ تو کیا کر رہا ہے؟ جب وہ اس پر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ وہ تو سیدنا ابو ایو ب تھے، پس انہوں نے کہا: ہاں، میں جانتا ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ہوں، نہ کہ کسی پتھر کے پاس، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جب دین کے وارث اہل اور مستحق لوگ ہوں تو تم دین پر مت رونا، البتہ تم دین پر اس وقت رونا، جب نا اہل لوگ اس کے وارث اور مالک بن جائیں گئے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12091]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة داود بن ابي صالح، وكثيرُ بن زيد مختلف فيه، اخرجه الحاكم: 4/515، و الطبراني في الكبير: 3999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23585 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23983»
وضاحت: فوائد: … جب نا اہل لوگ دین کے ذمہ دار بن جاتے ہیں اور وہ دینی معاملات کو ہینڈل کرتے ہیں تو واقعی رونا آتا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12092
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ دَخَلَ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ يَزِيدُ وَكَانَ مِنْ صَالِحِي أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”شَرُّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ“ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَظُنُّهُ قَالَ إِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ وَلَمْ يَشُكَّ يَزِيدُ فَقَالَ اجْلِسْ إِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ أَوْ فِيهِمْ نُخَالَةٌ إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ وَفِي غَيْرِهِمْ
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا عائذبن عمرو رضی اللہ عنہ، جو کہ نیکوکار صحابہ میں سے تھے، عبید اللہ بن زیاد کے ہاں گئے،اور انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بد ترین حکمران وہ ہوں گے جو لوگوں پر ظلم ڈھائیں گے، پس تو ان میں سے ہونے سے بچ جا۔ آگے سے ابن زیاد نے کہا: بیٹھ جا، تو تو آٹے کے چھانن کی طرح کم تر صحابہ میں سے ہے، انھوں نے کہا: صحابۂ کرام میں سے کم تر کوئی نہیں تھا، یہ کمتری تو بعد والوں میں اور غیر صحابہ میں پائی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12092]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1830، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20913»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: الحُطَمَۃُ ایسے بے درد و ظالم چرواہے کو کہتے ہیں جو اونٹوں کو پانی پلانے کے لیے لے جانے اور واپس لے آنے اور ان کو ہانکنے میں ان سے سختی سے پیش آتا ہے اور ان پر ظلم کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برے حکمران کے لیے یہ لفظ بطورِ ضرب المثل بیان کیا ہے، جیسا کہ النھایۃ میں ہے۔ (صحیحہ: ۲۸۸۵)
ظالم حاکم کے بہت زیادہ مفاسد ہیں، اس کی رعایا کا کوئی بندہ بھی اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور ظلم و بربریت کی وجہ سے ایسے حاکموں کے دماغ بھی ماؤف ہو چکے ہوتے ہیں اور کئی مظلوم انسانوں کا بارِ گراں ان کے سر پر ہوتا ہے۔ نیز معلوم ہوا کہ صحابہ کرا م کی جماعت کا ہر فرد اعلی اور بلند پایا ہے، ہم میں سے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان میں سے کسی ہستی پر کوئی تنقید کرے یا ان کو برا بھلا کہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں