الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. الفضلُ الرَّابِعُ فِي صِفَتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَذِكْرِ شَيْءٍ مِنْ خُطْبِهِ
فصل چہارم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
حدیث نمبر: 12256
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مُتَّكِئٌ عَلَى رِدَائِهِ فَأَتَاهُ سَقَّاءَانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ فَقَضَى بَيْنَهُمَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ بِوَجْنَتِهِ نَكَتَاتُ جُدَرِيٍّ وَإِذَا شَعْرُهُ قَدْ كَسَا ذِرَاعَيْهِ
حسن بن ابی حسن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنی چادر پر ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، اسی دوران دو آدمی جو لوگوں کو پانی پلانے کا کام کرتے، اپنے ایک جھگڑے کا فیصلہ کرانے کے لیے ان کی خدمت میں آئے، آپ نے ان کے درمیان فیصلہ کردیا، اس کے بعد میں آپ کے پاس آیا اور آپ کو بغور دیکھا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ خوبصورت چہرے والے آدمی تھے اور آپ کے رخسار پر چیچک کے کچھ داغ تھے اور آپ کے بالوں نے آپ کے بازوؤں کو ڈھانپ رکھا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12256]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو المقدام ھشام بن زياد القرشي، ضعّفه ابن معين، والبخاري، وقال النسائي: متروك الحديث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 537»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12257
وَعَنْ أُمِّ مُوسَى قَالَتْ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَجْمَلِ النَّاسِ
ام موسیٰ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں میں بہت خوبصورت آدمی تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12257]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 522»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12258
وَعَنْ أُمِّ غُرَابٍ عَنْ بُنَانَةَ قَالَتْ: مَا خَضَبَ عُثْمَانُ قَطُّ۔
بنانہ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے بالوں کو کبھی رنگا نہیں تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12258]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ام غراب طلحه لا يعرف حالھا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 538»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12259
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ زَاهِرٍ أَبَا رُوَاعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ فَقَالَ: إِنَّا وَاللّٰهِ! قَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَكَانَ يَعُودُ مَرْضَانَا، وَيَتْبَعُ جَنَائِزَنَا، وَيَغْزُو مَعَنَا، وَيُوَاسِينَا بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ، وَإِنَّ نَاسًا يُعْلِمُونِي بِهِ، عَسٰى أَنْ لَا يَكُونَ أَحَدُهُمْ رَآهُ قَطُّ۔
عباد بن زاہرسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ نے کہا:’ اللہ کی قسم! ہمیں سفر وحضر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہنے کا شرف حاصل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے مریضوں کی عیادت کرتے تھے، ہمارے جنازوں میں شرکت کرتے تھے، ہمارے ساتھ مل کر لڑائی کرتے تھے اور کوئی چیز تھوڑی ہوتی یا زیادہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اس میں شریک کیا کرتے تھے۔ اب کچھ لوگ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کچھ باتیں سکھاتے ہیں حالانکہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تک نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12259]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه البزار: 401، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 504»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12260
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ یَأْمُرُ فِيْ خُطْبَتِهِ بِقَتْلِ الْکِلَابِ وَذَبْحِ الْحَمَامِ۔
حسن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، آپ نے اپنے خطبہ میں کتوں کو قتل کرنے اور کبوتروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12260]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مبارك بن فضالة ضَعَّفَهٗ النسائي، اخرجه عبد الرزاق: 19733، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 521»
الحكم على الحديث: ضعیف