الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. طَعَامُ أَهْلِ النَّارِ وَشَرَابُهُمْ وَصِفَةٌ عَذَابِهِمْ وَتَفَاوُتُهُمْ فِي ذَلِكَ
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
حدیث نمبر: 13229
عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَهُ مِحْجَنٌ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ لَأَمَرَّتْ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ عَيْشَهُمْ كَيْفَ مَنْ لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا الزَّقُّومُ“
مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ خمد دار چھڑی لیے بیٹھے تھے، جبکہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، انھوں نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {یٰـــٓـــاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ} (اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ تم اسلام پر قائم دائم ہو۔) (سورۂ آل عمران:۱۰۲) اور اگر جہنم کے زقوم کا ایک قطرہ زمین پر ٹپکا دیا جائے تو وہ روئے زمین پر بسنے والوں کی زندگی کو کڑوا کر دے گا، (ذرا سوچو کہ) ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کی خوراک ہی زقوم ہوگا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13229]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 5285، وابن ماجه: 4325، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2735»
وضاحت: فوائد: … زقوم: ایک کڑوا اور بد بودار درخت، جس کا پھل اہل دوزخ کی غذا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 13230
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ أُهْرِقَ فِي الدُّنْيَا لَأَنْتَنَ أَهْلَ الدُّنْيَا“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر جہنم میں سے پیپ کا ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو تمام دنیا والوں کو اپنی بد بو سے بے چین اور بدبودار کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13230]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 2584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11230/2 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11249»
وضاحت: فوائد: … اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ۔ (میں اپنے ربّ اللہ سے ہر گناہ کی بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں)۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره
حدیث نمبر: 13231
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ الْحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رُؤُوسِهِمْ فَيَنْفُذُ الْجُمْجُمَةَ حَتَّى يَخْلُصَ إِلَى جَوْفِهِ فَيَسْلُتُ مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يَمْرُقَ مِنْ قَدَمَيْهِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم کا کھولتا ہوا پانی جہنمیوں کے سروں پر ڈالا جائے گا، وہ کھوپڑی کے اندر سے ہوتا ہوا ان کے پیٹ میں جا پہنچے گا، پھر ان کے پیٹ کے اندر والے اعضاء کو کاٹ اور جلا کر ان کے قدموں کے نیچے سے جا نکلے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13231]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي السمح دراج بن سمعان القرشي، أخرجه الترمذي: 2582، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8851»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي السمح دراج بن سمعان القرشي
حدیث نمبر: 13232
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ يُجْعَلُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ“
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جہنم میں سب سے کم عذاب والا آدمی وہ ہے کہ جس کے پاؤں میں آگ کے دو جوتے پہنا دیئے جائیں گے، جن کی حرارت سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13232]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6561، ومسلم: 213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18413 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18603»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6561
حدیث نمبر: 13233
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ عَلَيْهِ نَعْلَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا: جہنم میں سب سے کم اور ہلکے عذاب والا آدمی وہ ہوگا جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے اور ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13233]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن حبان: 7472، والدارمي: 2848، والحاكم: 4/ 580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9573»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13234
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: ”أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ فِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ وَمِنْهُمْ فِي النَّارِ إِلَى كَعْبَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ فِي النَّارِ إِلَى صَدْرِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ قَدِ اغْتُمِرَ فِي النَّارِ“ قَالَ عَفَّانٌ: أَحَدُ الرُّوَاةِ: ”مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ قَدِ اغْتُمِرَ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنمیوں میں سب سے کم عذاب والا آدمی وہ ہوگا، جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے، ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا، بعض جہنمی ایسے ہوں گے کہ ان کے ٹخنوں تک آگ ہوگی اور اس کے ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا، بعض کے گھٹنوں تک آگ ہو گی اور اس کے ساتھ اور عذاب بھی دیا جائے گا، بعض کے سینہ تک آگ ہوگی اور اس کے سا تھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا اور بعض تو ایسے ہوں گے کہ مکمل طور پر آگ میں ڈوبے ہوئے ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13234]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزار: 3502، والحاكم: 4/ 581، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11100 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11116»
وضاحت: فوائد: … انسان کے اندر اتنی جرأت نہیں ہے کہ وہ دنیا میں پائی جانے والی آگ کا ایک انگارہ اپنے ہاتھ پر رکھ سکے، لیکن اس آگ سے انہتر گنا زیادہ آگ کا کیا بنے گا۔ نَسْأَلُ اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 13235
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ“
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعض جہنمیوں کے ٹخنوں تک، بعض کے گھٹنوں تک، بعض کی کمر تک اور بعض کے سینہ تک آگ ہوگی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13235]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2845، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20103 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20363»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2845
حدیث نمبر: 13236
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يُنْصَبُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِقْدَارُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ كَمَا لَمْ يَعْمَلْ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّ الْكَافِرَ يَرَى جَهَنَّمَ وَيَظُنُّ أَنَّهَا مُوَاقِعَتُهُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةٍ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر کے لیے قیامت کے دن پچاس ہزار سال کی مدت مقرر کی جائے گی، جیسا کہ اس نے دنیا میں عمل نہیں کیا تھا اور کافر جہنم کو دیکھ رہا ہوگا اور اسے یہ خیال آ رہا ہو گا کہ جہنم اسے چالیس برس کی مسافت سے بھی اپنی طرف کھینچ لے گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13236]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابويعلي: 1385، والحاكم: 4/ 597، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11737»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عذاب سے محفوظ رکھے۔ آمین!
الحكم على الحديث:
حسن لغيره