🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

79. قَوْلُهُ تَعَالَى: {مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 417 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 417
نا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا سورة البقرة آية 245، قَالَ أَبُو الدَّحْدَاحِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يُرِيدُ مِنَّا الْقَرْضَ؟ , قَالَ:" نَعَمْ، يَا أَبَا الدَّحْدَاحِ"، قَالَ: أَرِنِي يَدَكَ، فَنَاوَلَهُ يَدَهُ، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ أَقْرَضْتُ رَبِّي حَائِطِي، وَفِي حَائِطِهِ سِتُّ مِائَةِ نَخْلَةٍ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى الْحَائِطِ، فَقَالَ:" يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ"، وَهِيَ فِي الْحَائِطِ، فَقَالَتْ: لَبَّيْكَ , فَقَالَ:" اخْرُجِي فَقَدْ أَقْرَضْتُهُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب یہ آیت نازل ہوئی ﴿مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا﴾، تو سیدنا ابو الدحداح رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اے ابو الدحداح! تو انہوں نے کہا: مجھے اپنا ہاتھ دکھائیں، پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام لیا اور کہا: میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض دے دیا— اور اس باغ میں چھ سو کھجور کے درخت تھے— پھر وہ اپنے باغ کی طرف آئے اور آواز دی: اے ام الدحداح! (اور وہ باغ میں موجود تھیں)، تو وہ بولیں: جی حاضر، تو انہوں نے کہا: باہر آجاؤ، میں نے اسے اپنے رب عزوجل کے لیے قرض دے دیا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 417]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 417، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4986، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4046، وأخرجه البزار فى (مسنده) برقم: 2033»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف جدًّا لشدة ضعف حميد الأعرج
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں