سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
83. قَوْلُهُ تَعَالَى: {لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 428 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 428
نَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ سورة البقرة آية 256 , قَالَ: نَزَلَتْ فِي الأَنْصَارِ، قَالَ: قُلْتُ: خَاصَّةً؟، قَالَ: خَاصَّةً، كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ إِذَا كَانَتْ نَزْرَةً، أَوْ مِقْلاةً، تَنْذُرُ لإِنْ وَلَدَتْ وَلَدًا لَتَجْعَلَنَّهُ فِي الْيَهُودِ، تَلْتَمِسُ بِذَلِكَ طُولَ بَقَائِهِ، فَجَاءَ الإِسْلامُ وَفِيهِمْ مِنْهُمْ، فَلَمَّا أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ , قَالَتِ الأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْنَاؤُنَا وَإِخْوَانُنَا فِيهِمْ، فَسَكَتَ عَنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ: لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ سورة البقرة آية 256، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ خُيِّرَ أَصْحَابُكُمْ، فَإِنِ اخْتَارُوكُمْ فَهُمْ مِنْكُمْ، وَإِنِ اخْتَارُوهُمْ فَأَجْلُوهُمْ مَعَهُمْ" .
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے فرمان ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ کے بارے میں فرمایا: یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ میں نے پوچھا: ”خاص طور پر ان کے لیے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، خاص طور پر ان کے لیے۔“ کیونکہ انصار میں جب کوئی عورت کم اولاد والی یا بانجھ ہوتی تو وہ نذر مانتی کہ اگر اسے بچہ ہوا تو وہ اسے یہودیوں میں دے دے گی تاکہ اس کی عمر دراز ہو۔ جب اسلام آیا تو انصار میں ایسے بچے موجود تھے جو یہودیوں کے ساتھ تھے۔ پھر جب بنو نضیر کو جلاوطن کیا گیا تو انصار نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے بیٹے اور بھائی ان کے ساتھ ہیں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائی، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ساتھیوں کو اختیار دیا گیا ہے، اگر وہ تمہیں اختیار کریں تو وہ تم میں شامل ہوں گے، اور اگر وہ انہیں اختیار کریں تو انہیں ان کے ساتھ بھیج دو۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 428]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 140، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 64، 65، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10982، 10983، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2682، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 428»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لإرساله، وهو صحيح إلى مرسله سعيد بن جبير
ترقیم دار السلفیہ: 429 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 429
نَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ , قَالَ: كَانَ لَهُ غُلامٌ يُقَالُ لَهُ: جَرِيرٌ، وَكَانَ يَقُولُ لَهُ:" أَسْلِمْ"، فَقَالَ: " كَذَا كَانَ يُقَالُ لَهُمْ، وَإِنَّ نَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ أَرْضَعُوا فِي قُرَيْظَةَ، وَكَانُوا يَقُولُونَ لَهُمْ أَسْلِمُوا فَنَزَلَتْ: لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ سورة البقرة آية 256" .
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام تھا جسے جرِیر کہا جاتا تھا، وہ اس سے کہہ رہے تھے: ”اسلام قبول کر لو۔“ تو انہوں نے فرمایا: اسی طرح ان سے کہا جاتا تھا، اور کچھ انصار کے لوگ بنی قریظہ میں دودھ شریک تھے، اور وہ ان سے کہا کرتے تھے: اسلام قبول کر لو۔ تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ (دین میں کوئی زبردستی نہیں)۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 429]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: سنده صحيح إلى مجاهد، وقد صرح ابن أبي نجيح بالسماع كما سيأتي، لكن ذكر قصة الأنصار واليهود ضعيف من هذا الطريق لإرساله، وهو صحيح لغيره يشهد له الحديث السابق.
ترقیم دار السلفیہ: 430 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 430
نَا سُفْيَانُ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ سورة البقرة آية 256، قَالَ:" لا يُكْرَهُ أَهْلُ الْكِتَابِ عَلَى الإِسْلامِ" .
حسن رحمہ اللہ نے آیت ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ کے بارے میں فرمایا: ”اہلِ کتاب کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 430]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: سنده صحيح.
ترقیم دار السلفیہ: 431 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 431
نا نا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ وَسْقٍ، قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكُنْتُ نَصْرَانِيًّا، فَكَانَ يَقُولُ لِي:" يَا وَسْقُ، أَسْلِمْ، فَإِنَّكَ لَوْ أَسْلَمْتَ لَوَلَّيْتُكَ بَعْضَ أَعْمَالِ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنَّهُ لا يَصْلُحُ أَنْ يَلِيَ أَمْرَهُمْ مَنْ لَيْسَ عَلَى دِينِهِمْ"، فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي: لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ سورة البقرة آية 256 , فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ أَعْتَقَنِي .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایک غلام، جو نصرانی تھا، کہتا ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے فرماتے: اے وسق! اسلام قبول کر لو، اگر تم اسلام لے آؤ تو میں تمہیں مسلمانوں کے کچھ معاملات کا نگران بنا دوں گا، کیونکہ ان کے معاملات کی سربراہی وہی کر سکتا ہے جو ان کے دین پر ہو۔ لیکن میں نے انکار کر دیا، تو انہوں نے فرمایا: ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ (دین میں کوئی جبر نہیں)۔ پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے مجھے آزاد کر دیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 431]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 431، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12690»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لضعف شريك من قبل حفظه وجهالة وسق.
ترقیم دار السلفیہ: 432 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 432
نا نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وُهْيَبٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " أَعْتَقَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ غُلامًا لَهُ مَجُوسِيًّا، يُقَالُ لَهُ: مَابُورَا ، فَرَأَيْتُهُ عِنْدَ أَبِي يُقَطِّعُ الشِّوَاءَ".
عبدالملک بن وہیب رحمہ اللہ، مولیٰ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک مجوسی غلام، جس کا نام مابورا تھا، آزاد کر دیا۔ میں نے اسے اپنے والد کے پاس دیکھا کہ وہ بھنا ہوا گوشت کاٹ رہا تھا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 432]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 432، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 10202، 16848»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لجهالة عبد الملك بن وهيب، وعبد الرحمن بن أبي الزناد تقدم في الحديث [٦٧] أنه صدوق تغير حفظه لما قدم بغداد.