سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
87. قَوْلُهُ تَعَالَى: {قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا وَاعْلَمْ أَنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 443 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 443
نَا نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ سورة البقرة آية 260، قَالَ:" قَطَّعَ أَجْنِحَتَهُنَّ أَرْبَاعًا، رُبْعًا هَاهُنَا، وَرُبْعًا هَاهُنَا فِي أَرْبَاعِ الأَرْضِ"، ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا سورة البقرة آية 260 , قَالَ:" هَذَا مِثْلُ كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى مِثْلُ هَذَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ﴿فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ﴾ کے بارے میں فرمایا: ان کے پروں کو چار حصوں میں کاٹ دو، ایک حصہ یہاں، دوسرا وہاں، چاروں سمتوں میں رکھ دو، پھر فرمایا ﴿ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا﴾ یہ ایک مثال ہے، اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرے گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 443]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 443، 444»
الحكم على الحديث: سنده حسن لذاته، وهو صالح لغيره،
ترقیم دار السلفیہ: 444 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 444
نَا نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: " فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ سورة البقرة آية 260 , قَالَ: قَطِّعْهُنَّ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ﴿فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ﴾ کے بارے میں فرمایا: ان کے پروں کو چار حصوں میں کاٹ دو، ایک حصہ یہاں، دوسرا وہاں، چاروں سمتوں میں رکھ دو، پھر فرمایا ﴿ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا﴾ یہ ایک مثال ہے، اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرے گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 444]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 443، 444»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف، وهو صحيح لغيره؛ فعطاء بن السائب مع كونه ثقة، إلا أنه اختلط، ولم يذكروا خالد بن عبد الله الطحان ممن روى عنه قبل الاختلاط كما سبق بيانه في الحديث رقم [٦] .