سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
191. قَوْلُهُ تَعَالَى: {سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ} .
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 739 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 739
نا نا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ , قَالَ: نا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ: " إِذَا قَبِلَ الْقَاضِي الْهَدِيَّةَ أَكَلَ السُّحْتَ، وَإِذَا قَبِلَ الرِّشْوَةَ بَلَغَتْ بِهِ الْكُفْرَ" .
مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: جب قاضی تحفہ قبول کرے تو وہ سحت کھاتا ہے، اور جب رشوت قبول کرے تو وہ کفر کی حد کو پہنچ جاتا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 739]
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5681، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5155، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 739، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 22384»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لما تقدم عن حال خلف بن خليفة.
ترقیم دار السلفیہ: 740 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 740
نا نا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الأَبَحُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " الرِّشْوَةُ فِي الْحُكْمِ كُفْرٌ، وَهِيَ بَيْنَ النَّاسِ سُحْتٌ" .
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فیصلہ میں رشوت لینا کفر ہے، اور لوگوں کے درمیان لین دین میں یہ سحت یعنی حرام مال ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 740]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 740، 741، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20542، 20543، 20544، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5266، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 9098، 9100، 9101»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لضعف حماد بن يحيى من قبل حفظه؛ ولأن أبا إسحاق لم يصرِّح بالسماع، وهو مدلس كما تقدم، ومع هذا فقد اختلط، ولم يذكروا حماد بن يحيى فيمن روى عنه قبل الاختلاط.
ترقیم دار السلفیہ: 741 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 741
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنِ السُّحْتِ، أَهُوَ الرِّشْوَةُ فِي الْحُكْمِ؟ قَالَ:" لا وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ، وَالظَّالِمُونَ، وَالْفَاسِقُونَ، وَلَكِنَّ السُّحْتَ: أَنْ يَسْتَعِينَكَ رَجُلٌ عَلَى مَظْلَمَةٍ، فَيُهْدِيَ لَكَ، فَتَقْبَلَهُ، فَذَلِكَ السُّحْتُ" .
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سحت یعنی حرام مال کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ حکم میں دی جانے والی رشوت ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾، ﴿الظَّالِمُونَ﴾، اور ﴿الْفَاسِقُونَ﴾ یہ الگ آیات ہیں، لیکن سحت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی ظلم میں تم سے مدد مانگے، اور تمہیں کچھ ہدیہ دے، اور تم وہ قبول کر لو، پس یہی سحت ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 741]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 740، 741، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20542، 20543، 20544، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5266، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 9098، 9100، 9101»
الحكم على الحديث: سنده صحيح.
ترقیم دار السلفیہ: 742 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 742
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَسَمَ شَيْئًا، فَدَعَا رَجُلا يَحْسُبُ، فَقِيلَ لَهُ لَوْ أَعْطَيْتَهُ شَيْئًا , قَالَ:" إِنْ شَاءَ، وَهُوَ سُحْتٌ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ مال تقسیم کیا، اور ایک شخص کو حساب لگانے کے لیے بلایا، تو کسی نے کہا: اگر آپ اسے بھی کچھ دے دیتے؟ تو فرمایا: اگر چاہے تو لے لے، لیکن یہ سحت یعنی حرام مال ہوگا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 742]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 742، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20504، 20505، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 2184، وأخرجه عبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 14537، 14539، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 22702»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف جدًّا لشدة ضعف موسى وجهالة أبيه، ومتنه منكر كما سيأتي.
ترقیم دار السلفیہ: 743 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 743
نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ , قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ يَكْرَهُ أُجُورَ الْقُسَّامِ، وَيَقُولُ:" كَانُوا يَقُولُونَ: الرِّشْوَةُ عَلَى الْحُكْمِ سُحْتٌ، مَا أَرَى حُكْمًا يُؤْخَذُ عَلَيْهِ رِشْوَةٌ" .
محمد بن سیرین رحمہ اللہ اُجرت لے کر مال کی تقسیم کرنے کو ناپسند کرتے تھے اور فرمایا کرتے: لوگ کہا کرتے تھے کہ فیصلہ کرنے پر رشوت لینا سحت یعنی حرام ہے، اور میں نہیں دیکھتا کہ کوئی ایسا فیصلہ ہو جس پر رشوت لینا جائز ہو۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 743]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: سنده صحيح.
ترقیم دار السلفیہ: 744 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 744
نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ , قَالَ: " كَانَ يَكْرَهُ الشَّرْطَ، وَلا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَقْسِمَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ فَيُعْطِيَهُ الشَّيْءَ مِنْ غَيْرِ شَرْطٍ" .
محمد بن سیرین رحمہ اللہ شرط کے ساتھ کسی کو مال دینے کو ناپسند کرتے تھے، لیکن اگر کوئی شخص بغیر شرط کے کسی کے لیے تقسیم کرے اور کچھ دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 744]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: سنده صحيح، وانظر تخريج الأثر السابق والتعليق عليه.
ترقیم دار السلفیہ: 745 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 745
نا نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " الرِّشْوَةُ فِي الْحُكْمِ سُحْتٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ وَثَمَنُ الْقِرْدِ، وَثَمَنُ الْخِنْزِيرِ! وَثَمَنُ الْخَمْرِ، وَثَمَنُ الْمَيْتَةِ، وَثَمَنُ الدَّمِ، وَعَسْبُ الْفَحْلِ، وَأَجْرُ النَّائِحَةِ وَالْمُغَنِّيَةِ، وَأَجْرُ الْكَاهِنِ، وَأَجْرُ السَّاحِرِ، وَأَجْرُ الْقَائِفِ، وَثَمَنُ جُلُودِ السِّبَاعِ، وَثَمَنُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ، فَإِذَا دُبِغَتْ فَلا بَأْسَ بِهَا، وَأَجْرُ صُوَرِ التَّمَاثِيلِ، وَهَدِيَّةُ الشَّفَاعَةِ، وَجَعِيلَةُ الْغَرَقِ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: فیصلے میں رشوت لینا سحت یعنی حرام مال ہے، اسی طرح بدکار عورت کا مہر، کتے، بندر، خنزیر، شراب، مردار، خون کی قیمت، نر جانور کے جفتی کرانے کا معاوضہ، نوحہ کرنے والی اور گانے والی کا اجرت، کاہن، جادوگر اور قائف یعنی نسب جوڑنے والا، درندوں کی کھالیں، مردار کی کھال کی قیمت، البتہ اگر چمڑا دباغت سے پاک کر دیا جائے تو اس میں حرج نہیں، مجسموں کی تصاویر کی اجرت، سفارش کی بنیاد پر تحفہ اور ڈوبنے والے کی بازیابی پر انعام بھی سب سحت میں شامل ہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 745]
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 189، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 555، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4681، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6218، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3482، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 745، والدارقطني فى (سننه) برقم: 178، 2814، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2125، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 21307، 37387»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف للانقطاع بين حبيب بن صالح وابن عباس؛ ولأن إسماعيل بن عياش مدلِّس ولم يصرِّح بالسماع.