سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
334. الْآيَةُ (36) قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيَانِ} إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيَانِ» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 1124 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1124
نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: نَا سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَهُ بِخُرَاسَانَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ سورة يوسف آية 36: مَا كَانَ إِحْسَانُ يُوسُفَ قَالَ الضَّحَّاكُ:" كَانَ إِذَا مَرِضَ إِنْسَانٌ قَامَ عَلَيْهِ، وَإِذَا ضَاقَ أَوْسَعَ لَهُ، وَإِذَا احْتَاجَ جَمَعَ لَهُ" .
ضحاک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ خراسان میں ہمارے ساتھ تھے، ایک آدمی نے ان سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ﴾ یعنی ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے، ہم آپ کو نیکوکاروں میں سے دیکھتے ہیں کے بارے میں سوال کیا، کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کا احسان کیا تھا؟ ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا: جب کوئی بیمار ہوتا تو آپ اس کی تیمارداری کرتے، اور جب کسی کو تنگی پیش آتی تو اس کے لیے کشادگی پیدا کرتے، اور جب کسی کو ضرورت پیش آتی تو اس کی ضرورت پوری کرتے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 1124]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لما تقدم عن حال خلف بن خليفة.