سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
.--. باب
باب:
ترقیم دار السلفیہ: 9 ترقیم شرکۃ الحروف: -- Q1187
الْأَخُ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ أَوْلَى بِالْمِيرَاثِ مِنَ الْأَخِ لِلْأَبِ،
ماں اور باپ کی طرف سے شریک بھائی (یعنی حقیقی بھائی) وراثت میں باپ کی طرف سے شریک بھائی (علاتی بھائی) پر مقدم ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: Q1187]
ترقیم دار السلفیہ: 9 ترقیم شرکۃ الحروف: -- Q1187
وَالْأَخُ لِلْأَبِ أَوْلَى مِنَ ابْنِ الْأَخِ مِنَ الْأُمِّ وَالْأَبِ،
باپ کی طرف سے شریک بھائی، ماں اور باپ کی طرف سے شریک بھائی کے بیٹے (یعنی حقیقی بھتیجے) پر مقدم ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: Q1187]
ترقیم دار السلفیہ: 9 ترقیم شرکۃ الحروف: -- Q1187
وَابْنُ الْأَخِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ أَوْلَى مِنَ ابْنِ الْأَخِ لِلْأَبِ،
ماں اور باپ کی طرف سے شریک بھائی کا بیٹا، باپ کی طرف سے شریک بھائی کے بیٹے پر مقدم ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: Q1187]
ترقیم دار السلفیہ: 9 ترقیم شرکۃ الحروف: -- Q1187
وَابْنُ الْأَخِ لِلْأَبِ أَوْلَى مِنَ ابْنِ ابنِ الْأَخِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ،
باپ کی طرف سے شریک بھائی کا بیٹا، ماں اور باپ کی طرف سے شریک بھائی کے پوتے (یعنی حقیقی بھتیجے کے بیٹے) پر مقدم ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: Q1187]
ترقیم دار السلفیہ: 9 ترقیم شرکۃ الحروف: -- Q1187
وَالْعَمُّ أَخُو الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ أَوْلَى مِنَ الْعَمِّ أَخِي الْأَبِ لِلْأَبِ،
ماں اور باپ کی طرف سے شریک چچا (یعنی حقیقی چچا) وراثت میں باپ کی طرف سے شریک چچا (علاتی چچا) پر مقدم ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: Q1187]
ترقیم دار السلفیہ: 9 ترقیم شرکۃ الحروف: -- Q1187
وَالْعَمُّ أَخُو الْأَبِ - أُرَاهُ قَالَ: لِلْأَبِ - أَوْلَى مِنَ ابْنِ الْعَمِّ أَخِي الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ،
باپ کا بھائی (چچا) ــ میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا: "باپ کی طرف سے" ــ وہ ماں اور باپ کی طرف سے شریک چچا کے بیٹے (یعنی حقیقی چچا زاد بھائی) پر مقدم ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: Q1187]
ترقیم دار السلفیہ: 9 ترقیم شرکۃ الحروف: -- Q1187
وَابْنُ الْعَمِّ لِلْأَبِ أَوْلَى مِنْ عَمِّ الْأَبِ أَخِي أَبِي الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ،
اور باپ کی طرف سے شریک چچا کا بیٹا، دادا کے بھائی (یعنی پردادا کے بیٹے) جو ماں اور باپ کی طرف سے شریک ہوں، پر مقدم ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: Q1187]
ترقیم دار السلفیہ: 9 ترقیم شرکۃ الحروف: -- Q1187
وَكُلُّ مَا سُئِلْتَ عَنْهُ مِنْ مِيرَاثِ الْعَصَبَةِ فَإِنَّهَا عَلَى نَحْوِ هَذَا، مَا سُئِلْتَ عَنْهُ مِنْ ذَلِكَ فَانْسِبِ الْمُتَوَفَّى وَانْسِبْ مَنْ يُنَازِعُ فِي الْوَلَايَةِ مِنْ عَصَبَتِهِ، فَإِنْ وَجَدْتَ مِنْهُمْ أَحَدًا يَلْقَى الْمُتَوَفَّى إِلَى أَبٍ لَا يَلْقَاهُ مَنْ سِوَاهُ مِنْهُمْ إِلَّا إِلَى أَبٍ فَوْقَ ذَلِكَ، فَاجْعَلِ الْمِيرَاثَ لِلَّذِي يَلْقَاهُ إِلَى الْأَبِ الْأَدْنَى دُونَ الْآخَرِينَ، وَإِذَا وَجَدْتَهُمْ يَلْقَوْنَهُ كُلُّهُمْ إِلَى أَبٍ وَاحِدٍ يَجْمَعُهُمْ جَمِيعًا، فَانْظُرْ أَقْعَدَهُمْ فِي النَّسَبِ، فَإِنْ كَانَ ابْنُ أَبٍ قَطُّ فَاجْعَلِ الْمِيرَاثَ لَهُ دُونَ الْأَطْرَافِ، وَإِنْ كَانَ الْأَطْرَافُ مِنْ أُمٍّ وَأَبٍ، فَإِنْ وَجَدْتَهُمْ مُسْتَوِينَ يَنْتَسِبُونَ مِنْ عَدَدِ الْآبَاءِ إِلَى عَدَدٍ وَاحِدٍ حَتَّى يَلْقَوْا نَسَبَ الْمُتَوَفَّى وَكَانُوا كُلُّهُمْ بَنِينَ بَنِي أَبٍ أَوْ بَنِي أَبٍ وَأُمٍّ، فَاجْعَلِ الْمِيرَاثَ بَيْنَهُمْ بِالسَّوَاءِ، وَإِنْ كَانَ وَالِدُ بَعْضِهِمْ أَخَا وَالِدِ ذَلِكَ الْمُتَوَفَّى لِأُمِّهِ وَأَبِيهِ، وَكَانَ وَالِدُ مَنْ سِوَاهُ إِنَّمَا هُوَ أَخُو وَالِدِ ذَلِكَ الْمُتَوَفَّى لِأَبِيهِ قَطُّ، فَإِنَّ الْمِيرَاثَ لِبَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ،
اور جو کچھ بھی تم سے عصبہ کی وراثت کے بارے میں پوچھا جائے، تو وہ اسی اصول پر ہے۔ تم سے جو کچھ اس کے بارے میں پوچھا جائے، تو میت کا نسب بیان کرو اور اس عصبہ کا نسب بیان کرو جو ولایت (حقِ وراثت) میں نزاع کر رہا ہے۔ پھر اگر تم ان میں کسی کو ایسا پاؤ کہ وہ میت تک ایسے باپ کے ذریعے پہنچتا ہے جس تک دوسرا کوئی ان میں سے نہیں پہنچتا مگر اس سے اوپر کے باپ کے واسطے سے، تو میراث اسی کو دو جو میت تک قریب تر باپ کے ذریعے پہنچتا ہے، دوسروں کو نہ دو۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: Q1187]
ترقیم دار السلفیہ: 9 ترقیم شرکۃ الحروف: -- Q1187
وَالْجَدُّ أَبُو الْأَبِ أَوْلَى مِنَ ابْنِ الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، وَأَوْلَى مِنَ الْعَمِّ أَخِي الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ،
دادا (یعنی والد کا باپ) وراثت میں ماں اور باپ کی طرف سے شریک بھائی کے بیٹے (یعنی حقیقی بھتیجے) پر مقدم ہے، اور اسی طرح وہ ماں اور باپ کی طرف سے شریک چچا (یعنی حقیقی چچا) پر بھی مقدم ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: Q1187]
ترقیم دار السلفیہ: 9 ترقیم شرکۃ الحروف: -- Q1187
وَلَا يَرِثُ ابْنُ الْأَخِ لِلْأُمِّ بِرَحِمِهِ تِلْكَ شَيْئًا، وَلَا الْجَدُّ أَبُو الْأُمِّ بِرَحِمِهِ تِلْكَ شَيْئًا، وَلَا الْعَمُّ أَخُو الْأَبِ لِلْأُمِّ بِرَحِمِهِ تِلْكَ شَيْئًا، وَلَا الْخَالُ بِرَحِمِهِ تِلْكَ شَيْئًا، وَلَا تَرِثُ الْجَدَّةَ أُمُّ أَبِي الْأُمِّ، وَلَا ابْنَةُ الْأَخِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ، وَلَا الْعَمَّةُ أُخْتُ الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ، وَلَا الْخَالَةُ، وَلَا مَنْ هُوَ أَبْعَدُ نَسَبًا مِنَ الْمُتَوَفَّى مِمَّنْ سُمِّيَ فِي هَذَا الْكِتَابِ، لَا يَرِثُ أَحَدٌ مِنْهُمْ بِرَحِمِهِ تِلْكَ شَيْئًا
اور ماں کی طرف سے شریک بھائی کا بیٹا (یعنی اخیافی بھتیجا) اپنی اس قرابت (یعنی رحم) کی وجہ سے کچھ بھی میراث نہیں پاتا۔
اسی طرح ماں کا باپ (نانا) اپنی اس قرابت کی وجہ سے کچھ بھی میراث نہیں پاتا۔
اور ماں کی طرف سے شریک چچا بھی اپنی اس قرابت کی وجہ سے کچھ نہیں پاتا۔
اور ماموں بھی اپنی قرابت کی وجہ سے کچھ نہیں پاتا۔
اسی طرح دادی (یعنی ماں کے باپ کی ماں)، اور ماں باپ دونوں کی طرف سے شریک بھائی کی بیٹی (یعنی حقیقی بھتیجی)، اور ماں باپ دونوں کی طرف سے شریک باپ کی بہن (یعنی حقیقی پھوپھی)، اور خالہ بھی (کچھ نہیں پاتیں)۔
اور جو کوئی میت سے نسب میں ان سے بھی زیادہ دور ہے، ان میں سے کسی کا ذکر اگر اس کتاب میں ہوا ہے تو ان میں سے بھی کوئی اپنی اس قرابت کی وجہ سے کچھ نہیں پاتا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: Q1187]
اسی طرح ماں کا باپ (نانا) اپنی اس قرابت کی وجہ سے کچھ بھی میراث نہیں پاتا۔
اور ماں کی طرف سے شریک چچا بھی اپنی اس قرابت کی وجہ سے کچھ نہیں پاتا۔
اور ماموں بھی اپنی قرابت کی وجہ سے کچھ نہیں پاتا۔
اسی طرح دادی (یعنی ماں کے باپ کی ماں)، اور ماں باپ دونوں کی طرف سے شریک بھائی کی بیٹی (یعنی حقیقی بھتیجی)، اور ماں باپ دونوں کی طرف سے شریک باپ کی بہن (یعنی حقیقی پھوپھی)، اور خالہ بھی (کچھ نہیں پاتیں)۔
اور جو کوئی میت سے نسب میں ان سے بھی زیادہ دور ہے، ان میں سے کسی کا ذکر اگر اس کتاب میں ہوا ہے تو ان میں سے بھی کوئی اپنی اس قرابت کی وجہ سے کچھ نہیں پاتا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: Q1187]