صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب فَضَائِلِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: سیدنا زید بن حارثہ اور سیدنا اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2425 ترقیم شاملہ: -- 6262
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " مَا كُنَّا نَدْعُ وَزَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، حَتَّى نَزَلَ فِي الْقُرْآنِ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 "، قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى: أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الدُّوَيْرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ،
قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے موسیٰ بن عقبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن عبداللہ (بن عمر) سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ وہ کہا کرتے تھے: ہم زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی نام سے نہیں پکارتے تھے، یہاں تک کہ قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی: «ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ» ”ان (متنبیٰ) کو ان کے اپنے باپوں کی نسبت سے پکارو، اللہ کے نزدیک یہی زیادہ انصاف کی بات ہے۔“ (اس کتاب کے ایک راوی) شیخ ابواحمد محمد بن عیسیٰ (نیشاپوری) نے کہا: ہمیں ابوعباس سراج اور محمد بن عبداللہ بن یوسف دویری نے بیان کیا، کہا: ہمیں بھی (امام مسلم رحمہ اللہ کے استاد) قتیبہ بن سعید نے یہ حدیث بیان کی (یعنی اس کتاب کے راوی نے یہ حدیث امام مسلم کے علاوہ قتیبہ سے ان کے دو اور شاگردوں کے حوالے سے بھی سنی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6262]
حضرت عبداللہ(بن عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاکرتے تھے،ہم زید بن حارثہ کو زیدبن محمد ہی کے نام سے پکارا کرتے تھے،حتیٰ کہ قرآن مجید کی یہ آیت اُتری،"ان کو ان کے باپوں کے نام سے پکارو،اللہ کے ہاں یہی قرین انصاف ہے۔"(احزاب آیت نمبر 5)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6262]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2425
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2425 ترقیم شاملہ: -- 6263
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، بِمِثْلِهِ.
وہیب نے کہا: موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے سالم نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اسی سند کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6263]
امام صاحب کے ایک اور اُستاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6263]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2425
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2426 ترقیم شاملہ: -- 6264
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمْرَتِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمْرَتِهِ، فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ، مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمْرَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ ".
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اس کا امیر مقرر فرمایا۔ کچھ لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تم نے اگر اس (اسامہ رضی اللہ عنہ) کی امارت پر اعتراض کیا ہے تو اس سے پہلے اس کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کرتے تھے۔ اللہ کی قسم! وہ بھی امارت کا اہل تھا اور بلاشبہ میرے محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اور اس کے بعد بلاشبہ یہ (بھی) میرے محبوب ترین لوگوں میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6264]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اُسامہ بن زید کو اس کا امیر مقرر فرمایا۔کچھ لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دینے کے لئے) کھڑے ہوئے اور فرمایا:"تم نےاگر اس(اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی امارت پر اعتراض کیا ہےتواس سے پہلے اس کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کرتے تھے۔اللہ کی قسم! وہ بھی امارت کا اہل تھا اور بلاشبہ میرے محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اور ا س کے بعد بلاشبہ یہ میرے محبوب ترین لوگوں میں سے ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6264]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2426
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2426 ترقیم شاملہ: -- 6265
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لَهَا، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَايْمُ اللَّهِ إِنَّ هَذَا لَهَا لَخَلِيقٌ، يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَيَّ مِنْ بَعْدِهِ، فَأُوصِيكُمْ بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ صَالِحِيكُمْ ".
سالم نے اپنے والد (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور (اس وقت) آپ منبر پر تھے: ”اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کر رہے ہو (آپ کی مراد حضرت اسامہ بن زید سے تھی) تو اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر (بھی) اعتراض کر چکے ہو۔ اللہ کی قسم! وہ امارت کا اہل تھا اور مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا اور اس کے بعد یہ بھی مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔ میں تمہیں اس کے ساتھ ہر طرح کی اچھائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہارے نیک ترین لوگوں میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6265]
حضرت سالم رحمۃ ا للہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پرفرمایا:"اگر تم اسکی امارت پر اعتراض کررہے ہو آپ کی مراد حضرت اُسامہ بن زید سے تھی۔تو اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر(بھی) اعتراض کرچکے ہو۔اللہ کی قسم!اس کے بعد یہ بھی مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔میں تمھیں اس کے ساتھ ہر طرح کی اچھائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمھارے نیک ترین لوگوں میں سے ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6265]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2426
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة