🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

197. بَابُ مَا جَاءَ فِي رُكُوبِ الْبَحْرِ
باب: سمندر میں سوار ہونے (یعنی بحری سفر) کے بارے میں جو کچھ وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2389 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3566
نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: " كَلَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هَذَا الْبَحْرَ الْغَرْبِيَّ، فَقَالَ: يَا بَحْرُ! إِنِّي خَلَقْتُكَ، وَأَحْسَنْتُ خَلْقَكَ، وَأَكْثَرْتُ فِيكَ مِنَ الْمَاءِ، وَإِنِّي حَامِلٌ فِيكَ عِبَادًا لِي يُكَبِّرُونِي، وَيَحْمَدُونِي، وَيُسَبِّحُونِي، وَيُهَلِّلُونِي، فَكَيْفَ أَنْتَ فَاعِلٌ بِهِمْ؟ قَالَ: أُغْرِقُهُمْ، قَالَ: بَأْسُكَ فِي نَوَاحِيكَ، وَأَحْمِلُهُمْ عَلَى يَدَيَّ، وَكَلَّمَ اللَّهُ الْبَحْرَ الشَّرْقِيَّ، فَقَالَ: يَا بَحْرُ! إِنِّي خَلَقْتُكَ، وَأَحْسَنْتُ خَلْقَكَ، وَأَكْثَرْتُ فِيكَ مِنَ الْمَاءِ، وَإِنِّي حَامِلٌ فِيكَ عِبَادًا لِي يُكَبِّرُونِي، وَيَحْمَدُونِي، وَيُسَبِّحُونِي، وَيُهَلِّلُونِي، فَكَيْفَ أَنْتَ فَاعِلٌ بِهِمْ؟ فَقَالَ: إِذًا أُسَبِّحُكَ مَعَهُمْ، وَأُهَلِّلُكَ مَعَهُمْ، وَأَحْمِلُهُمْ بَيْنَ ظَهْرِي وَبَطْنِي , فَأَثَابَهُ رَبُّهُ الْحِلْيَةَ وَالصَّيْدَ .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مغربی سمندر سے کلام کیا اور فرمایا: اے سمندر! میں نے تجھے پیدا کیا ہے، اور تیرے پیدا کرنے کو خوب بہتر بنایا ہے، اور تجھ میں پانی کو بہت زیادہ رکھا ہے، اور میں اپنے کچھ بندوں کو تجھ پر سوار کرنے والا ہوں جو میری تکبیر، تحمید، تسبیح اور تہلیل کریں گے۔ تو ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ سمندر نے عرض کیا: میں انہیں غرق کر دوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں تمہارا قہر تمہارے کناروں میں رکھ دوں گا، اور میں اپنے ان بندوں کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا لوں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرقی سمندر سے کلام کیا اور فرمایا: اے سمندر! میں نے تجھے پیدا کیا ہے، اور تیرے پیدا کرنے کو خوب بہتر بنایا ہے، اور تجھ میں پانی کو بہت زیادہ رکھا ہے، اور میں اپنے کچھ بندوں کو تجھ پر سوار کرنے والا ہوں جو میری تکبیر، تحمید، تسبیح اور تہلیل کریں گے۔ تو ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ مشرقی سمندر نے عرض کیا: میں ان کے ساتھ مل کر تیری تسبیح، تحمید، اور تہلیل کروں گا اور انہیں اپنے اوپر، اپنے بطن اور اپنی پشت پر اٹھائے رکھوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بدلے میں زیورات اور شکار کا انعام عطا فرمایا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3566]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن لغيره، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وله شاهد من حديث أبي هريرة الدوسي، أخرجه البزار في "مسنده" (16 / 64) برقم: (9108)
وضاحت: سند میں خفیف ضعف ہے، لیکن محتمل اور قابلِ متابعت ہے۔

الحكم على الحديث: إسناده حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2390 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3567
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلالٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ الْعَلاءَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ ذُكَرَ لَهُ أَنَّ " اللَّهَ لَمَّا خَلَقَ الْبَحْرَ قَالَ: كَيْفَ إِذَا حَمَلْتُ عَلَيْكَ خَلْقًا مِنْ خَلْقِي؟ قَالَ: لا أُقِرُّهُمْ عَلَى ظَهْرِي، قَالَ: بَلْ لضعر لَكَ وقما، سَأَجْعَلُ بَأْسَكَ فِي أَطْرَافِكَ" .
سعید بن ابی ہلال رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ علاء بن اسماعیل رحمہ اللہ نے انہیں خبر دی کہ جب اللہ تعالیٰ نے سمندر کو پیدا کیا تو اس سے فرمایا: جب میں اپنی مخلوق میں سے کچھ کو تم پر سوار کروں گا تو تم ان کے ساتھ کیا کرو گے؟ سمندر نے کہا: میں انہیں اپنے اوپر ٹھہرنے نہ دوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بلکہ میں تیرے کناروں میں تیرا قہر رکھوں گا اور تجھے اس کا حکم دوں گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3567]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2391 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3568
نا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، قَالَ: نا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَاتَ عَلَى إِجَّارٍ لَيْسَ حَوْلَهُ بِنَاءٌ يَدْفَعُ قَدَمَيْهِ فَهَلَكَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ إِذَا ارْتَجَّ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بغیر حفاظتی دیوار کے چھت پر سوئے اور مر جائے تو اس کی کوئی ذمہ داری ہم پر نہیں، اور جو سمندر پر سوار ہو اور ہلاک ہو جائے تو اس کی بھی کوئی ذمہ داری نہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3568]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2391، وأحمد فى «مسنده» برقم: 21079، 21080، 22764، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 20614»
قال الهيثمي: رجاله رجال الصحيح، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (8 / 99)

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2392 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3569
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " لا يَرْكَبُ الْبَحْرَ إِلا حَاجٌّ، أَوْ مُعْتَمِرٌ، أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
حضرت مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سمندر میں صرف حاجی، معتمر یا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا ہی سوار ہو۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3569]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2392، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19755»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2393 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3570
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ بِشْرٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَرْكَبُ الْبَحْرَ إِلا حَاجٌّ، أَوْ مُعْتَمِرٌ، أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا، وَتَحْتَ النَّارِ بَحْرًا، وَلا تَشْتَرِيَنَّ مِنْ ذِي ضَغْطَةِ سُلْطَانٍ شَيْئًا" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر میں صرف حاجی، معتمر یا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا سوار ہو، کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے دوبارہ سمندر ہے، اور کسی ظالم حکمران کے مال سے خریداری نہ کرو۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3570]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 2489، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2393، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8754، 8755، 11197، 11198، والطبراني فى «الكبير» برقم: 14499»
قال ابن عبدالبر: ضعيف مظلم الإسناد لا يصححه أهل العلم بالحديث لأن رواته مجهولون لا يعرفون، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (1 / 225)

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2394 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3571
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْبَهْرَانِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى النَّاسِ:" وَأَمَّا الْبَحْرُ فَإِنَّا نَرَى أَنَّ سَبِيلَهُ كَسَبِيلِ الْبَرِّ، إِنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ فَنَأْذَنُ فِي الْبَحْرِ أَنْ يَتَّجِرَ فِيهِ مَنْ شَاءَ، لا يُحَالُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ وَبَيْنَهُ" .
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھا: سمندر کا سفر زمین کے سفر کی طرح جائز ہے، اللہ نے سمندر کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ تم کشتیوں میں اس کے فضل کو تلاش کرو، لہٰذا کوئی کسی کو سمندر میں تجارت سے نہ روکے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3571]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں