سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
201. بَابُ الْخِدْمَةِ وَمَا جَاءَ فِي عَسْبِ الْفَرَسِ
باب: خدمت (جہاد میں خدمت گزاری) اور گھوڑے کے چارے (عَسْب) کے بارے میں وارد احکام۔
ترقیم دار السلفیہ: 2406 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3583
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَعْظَمُ الْقَوْمِ أَجْرًا خَادِمُهُمْ" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم میں سب سے زیادہ اجر والا وہ ہے جو ان کی خدمت کرے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3583]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
قال ابن حجر: ابو بکر بن ابی مریم ضعيف، وكان قد سرق بيته، فاختلط
قال ابن حجر: ابو بکر بن ابی مریم ضعيف، وكان قد سرق بيته، فاختلط
وضاحت: ابو بکر بن ابی مریم کی ضعف حافظہ کی وجہ سے روایت ضعیف کہی جائے گی، اگرچہ باقی سند معتبر ہے
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2407 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3584
نا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" خِدْمَةُ الرَّجُلِ يَخْدُمُ غُلامُهُ أَصْحَابَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ". قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! فَأَيُّ الصَّدَقَةِ بَعْدَ ذَلِكَ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" بِنَاءٌ يَضْرِبُهُ الرَّجُلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَأَيُّ الصَّدَقَةِ بَعْدَ ذَلِكَ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" عَسْبُ فَرَسٍ يَحْمِلُهُ صَاحِبُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟“ فرمایا: ”جو اپنے غلام یا ساتھیوں کی اللہ کے راستے میں خدمت کرے۔“ پھر فرمایا: ”اپنے ساتھیوں کے لیے سایہ دار خیمہ بنانا۔“ پھر فرمایا: ”اللہ کے راستے میں گھوڑے کی پالان دینا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3584]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 2466، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1626، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2407، والطبراني فى «الكبير» برقم: 255، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 3296»
قال ابن حجر: فرج بن فضالة: ضعيف
قال ابن حجر: فرج بن فضالة: ضعيف
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2408 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3585
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ: " ثَلاثَةٌ لا يَعْلَمُ أَحَدٌ مَا فِيهِنَّ مِنَ الأَجْرِ: صَاحِبُ الْخِدْمَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَصَاحِبُ الظِّلِّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَصَاحِبُ عَسْبِ الْفَرَسِ" .
کہا جاتا تھا: ”تین چیزوں کا اجر کسی کو معلوم نہیں: اللہ کے راستے میں خدمت کرنے والے کا، اللہ کے راستے میں سایہ فراہم کرنے والے کا، اور اللہ کے راستے میں گھوڑے کی پالان رکھنے والے کا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3585]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
روایت منقطع اور مرسل ہے سند میں سلیمان بن عمر کی توثیق معلوم نہیں لہٰذا یہ اثر ضعیف ہے
روایت منقطع اور مرسل ہے سند میں سلیمان بن عمر کی توثیق معلوم نہیں لہٰذا یہ اثر ضعیف ہے
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف