🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ مَا بَعَثَنِي الِلَّهِ بِهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ، إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ، فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَانْطَلَقُوا عَلَى مَهْلِهِمْ فَنَجَوْا، وَكَذَّبَهُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ، فَأَصْبَحُوا مَكَانَهُمْ، فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ وَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتاحَهُمْ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي، وَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَكَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بے شک میری مثال اور جس چیز کے ہمراہاللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے، اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو اپنی قوم کے پاس آتا ہے، اور یہ کہتا ہے: اے میری قوم! میں نے ایک لشکر دیکھا ہے، اور میں ڈرانے والا ہوں (یعنی تم لوگوں کو خبردار کر رہا ہوں)، تو اس کی قوم کا ایک گروہ اس کی اطاعت کر لیتا ہے، اور وہ لوگ اس دوران چپکے سے چلے جاتے ہیں اور نجات پا لیتے ہیں، جبکہ ایک گروہ اس کی تکذیب کرتا ہے۔ وہ لوگ اپنی جگہ رہتے ہیں اور صبح کے وقت دشمن ان پر حملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیتا ہے، اور انہیں تباہ و برباد کر دیتا ہے، تو یہ اس شخص کی مثال ہے، جو میری اطاعت کرتا ہے، اور جو میں لے کہ آیا ہوں اس کی پیروی کرتا ہے، اور اس شخص کی مثال ہے، جو میری نافرمانی کرتا ہے، اور میں جس حق کو لے کہ آیا ہوں، وہ اسے جھٹلاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 3]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين. أبو يعلى: هو أحمد بن علي بن المثنى صاحب "المسند"، وأبو كريب: هو محمد بن العلاء، وأبو أسامة: هو حماد بن أسامة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4
وَقَالَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ":" إِنَّ مَثَلَ مَا آتَانِي الِلَّهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبْلُتْ ذَلِكَ، فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ، وَأَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ الِلَّهِ بِهَا النَّاسَ، فَشَرِبُوا مَنَهَا وَسَقَوْا وَزَرَعُوا، وَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةٌ أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لا تُمْسِكُ مَاءً، وَلا تُنْبِتُ كَلأً، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ، وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي الِلَّهِ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَمِلَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا، وَلَمْ يَقَبْلُ هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ" .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے:اللہ تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت اور علم عطا کیا ہے، اس کی مثال بارش کی طرح ہے، جو کسی سرزمین پر ہوتی ہے، تو اس زمین کا کچھ حصہ پاکیزہ ہوتا ہے، وہ اسے قبول کر لیتا ہے، اور بہت زیادہ گھاس پھوس اور چارہ اگا دیتا ہے یا وہ پانی کو روک لیتا ہے، اوراللہ تعالیٰ اس کے ذریعے لوگوں کو نفع دیتا ہے، وہ لوگ اس میں سے خود بھی پیتے ہیں۔ (جانوروں وغیرہ) کو بھی پلاتے ہیں اور کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں۔ یہ بارش زمین کے ایک اور حصے پر بھی ہوتی ہے، جو چٹیل میدان ہوتا ہے، وہ پانی کو روک نہیں سکتا اور گھاس اگا نہیں سکتا، تو یہ اس شخص کی مثال ہے، جو اللہ کے دین کا فہم حاصل کر لیتا ہے، اوراللہ تعالیٰ نے مجھے جس چیز کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس چیز کے ذریعے نفع دے دیتا ہے، وہ شخص علم حاصل کرتا ہے، اور اس پر عمل بھی کرتا ہے، اور یہ اس شخص کی مثال، ہے، جو اس کے لئے سر نہیں اٹھاتا (یعنی اس کی طرف توجہ نہیں کرتا) اوراللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو قبول نہیں کرتا، جس کے ہمراہ مجھے بھیجا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 4]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده هو إسناد سابقه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں