صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
19. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فما أمرتكم بشيء فأتوا منه ما استطعتم-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ نبی ﷺ کے فرمان «فما أمرتكم بشيء فأتوا منه ما استطعتم» کا مطلب یہ ہے کہ دینی امور میں طاقت کے مطابق عمل کیا جائے۔
حدیث نمبر: 23
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَدْمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُؤَبِّرُونَ النَّخْلَ، يَقُول: يُلَقِّحُونَ، قَالَ: فَقَالَ:" مَا تَصْنَعُونَ؟"، فَقَالُوا: شَيْئًا كَانُوا يَصْنَعُونَهُ، فَقَالَ:" لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا"، فَتَرَكُوهَا فَنَفَضَتْ، أَوْ نَقَصَتْ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ، فَخُذُوا بِهِ، وَحَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دُنْيَاكُمْ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ" قَالَ عِكْرِمَةُ: هَذَا أَوْ نَحْوَهُ أَبُو النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعٍ، اسْمُهُ عَطَاءُ بْنُ صُهِيَبٍ: قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو لوگ کھجوروں کی پیوندکاری کیا کرتے تھے۔ لوگ اسے پیوندکاری کا نام دیتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا۔ تم لوگ کیا کرتے ہو؟ لوگوں نے عرض کی: یہ ایک ایسا طریقہ ہے، جو وہ لوگ پہلے استعمال کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم یہ نہ کرو، تو یہ زیادہ بہتر ہے، تو لوگوں نے اسے ترک کر دیا، تو پیداوار کم ہو گئی۔ لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ایک انسان ہوں، جب میں تمہارے سامنے کسی دینی معاملے کے بارے میں کوئی چیز بیان کروں، تو تم اسے اختیار کر لو اور جب میں تمہارے سامنے کسی دنیاوی معاملے کے بارے میں کوئی چیز بیان کروں، تو میں ایک انسان ہوں۔“
عکرمہ کہتے ہیں: یہ یا اس کی مانند الفاظ ہیں۔ ابونجاشی (نامی راوی) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور اس کا نام عطاء بن صہیب ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔
[صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 23]
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو لوگ کھجوروں کی پیوندکاری کیا کرتے تھے۔ لوگ اسے پیوندکاری کا نام دیتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا۔ تم لوگ کیا کرتے ہو؟ لوگوں نے عرض کی: یہ ایک ایسا طریقہ ہے، جو وہ لوگ پہلے استعمال کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم یہ نہ کرو، تو یہ زیادہ بہتر ہے، تو لوگوں نے اسے ترک کر دیا، تو پیداوار کم ہو گئی۔ لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ایک انسان ہوں، جب میں تمہارے سامنے کسی دینی معاملے کے بارے میں کوئی چیز بیان کروں، تو تم اسے اختیار کر لو اور جب میں تمہارے سامنے کسی دنیاوی معاملے کے بارے میں کوئی چیز بیان کروں، تو میں ایک انسان ہوں۔“
عکرمہ کہتے ہیں: یہ یا اس کی مانند الفاظ ہیں۔ ابونجاشی (نامی راوی) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور اس کا نام عطاء بن صہیب ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔
[صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 23]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» - أيضاً -: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن من أجل عكرمة بن عمار، ورجاله رجال مسلم. أبو النجاشي: هو عطاء بن صهيب.