صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
21. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر الخبر الدال على أن من اعترض على السنن بالتأويلات المضمحلة ولم ينقد لقبولها كان من أهل البدع-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص سنت پر کمزور تاویلات کے ذریعے اعتراض کرے اور اسے تسلیم نہ کرے، وہ اہل بدعت میں شمار ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 25
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ بِذَهَبٍ فِي أُدُمٍ، فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ زَيْدِ الْخَيْلِ، وَالأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ، وَعُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلاثَةَ، فَقَالَ أُنَاسٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ: نَحْنُ أَحَقُّ بِهَذَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَقَّ عَلَيْهِ، وَقَالَ: " أَلا تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ، يَأْتِينِي خَبَرُ مَنْ فِي السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً؟" فَقَامَ إِلَيْهِ نَاتِئُ الْعَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، نَاشِزُ الْوَجْهِ كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، مُشَمَّرُ الإِزَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اتَّقِ اللَّهَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ لَسْتُ بِأَحَقِّ أَهْلِ الأَرْضِ أَنْ أَتَّقِيَ اللَّهَ؟" ثُمَّ أَدْبَرَ، فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِدٌ سَيْفُ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا أَضْرِبُ عُنُقَهُ؟، فَقَالَ:" لا، إِنَّهُ لَعَلَّهُ يُصَلِّي"، قَالَ: إِنَّهُ رُبَّ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ، قَالَ:" إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَشُقَّ قُلُوبَ النَّاسِ، وَلا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ"، فَنَظَرَ إِلَيْهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُقَفٍّ، فَقَالَ:" إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ لا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهُمْ مِنَ الرَّمِيَّةِ" ، قَالَ عُمَارَةُ فَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چمڑے میں کچھ سونا بھیجا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سونا زید خیل، اقرع بن حابس، عینیہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ کے درمیان تقسیم کر دیا۔
مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے یہ کہا: ہم اس کے زیادہ حق دار تھے۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گراں گزری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”کیا تم لوگ مجھے امین نہیں سمجھتے ہو؟ حالانکہ میں اس ذات کا امین ہوں، جو آسمان میں ہے، میرے پاس آسمان میں موجود ذات کی خبریں صبح و شام آتی ہیں۔“
(راوی کہتے ہیں:) تو چھوٹی آنکھوں اور ابھرے ہوئے گالوں، تنگ پیشانی، گھنی داڑھی، منڈے ہوئے سر اور اوپر کئے ہوئے تہبند والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپاللہ تعالیٰ سے ڈریئے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمام اہل زمین سے زیادہ اس بات کا حق دار نہیں ہوں کہ میں اللہ سے ڈروں؟ پھر وہ شخص وہاں سے چلا گیا، تو اللہ کی تلوار سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اٹھ کر اس کی طرف جانے لگے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں ہو سکتا ہے، وہ شخص نماز ادا کر رہا ہو۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: نمازی ایسے ہیں، جو زبان کے ذریعے وہ بات کہتے ہیں، جو ان کے دل میں نہیں ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دل چیر کے دیکھوں، یا ان کے پیٹ چیر کے دیکھوں۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف دیکھا وہ اس وقت واپس جا رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب اس کی اولاد میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے، جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی اور وہ لوگ دین سے یوں خارج ہو جائیں گے، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے۔“
عمارہ نامی راوی یہ بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے۔ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”اگر میں نے ان لوگوں کا زمانہ پا لیا، تو میں انہیں اس طرح قتل کروں گا، جس طرح قوم ثمود کو قتل کیا گیا تھا۔“
[صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 25]
مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے یہ کہا: ہم اس کے زیادہ حق دار تھے۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گراں گزری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”کیا تم لوگ مجھے امین نہیں سمجھتے ہو؟ حالانکہ میں اس ذات کا امین ہوں، جو آسمان میں ہے، میرے پاس آسمان میں موجود ذات کی خبریں صبح و شام آتی ہیں۔“
(راوی کہتے ہیں:) تو چھوٹی آنکھوں اور ابھرے ہوئے گالوں، تنگ پیشانی، گھنی داڑھی، منڈے ہوئے سر اور اوپر کئے ہوئے تہبند والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپاللہ تعالیٰ سے ڈریئے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمام اہل زمین سے زیادہ اس بات کا حق دار نہیں ہوں کہ میں اللہ سے ڈروں؟ پھر وہ شخص وہاں سے چلا گیا، تو اللہ کی تلوار سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اٹھ کر اس کی طرف جانے لگے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں ہو سکتا ہے، وہ شخص نماز ادا کر رہا ہو۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: نمازی ایسے ہیں، جو زبان کے ذریعے وہ بات کہتے ہیں، جو ان کے دل میں نہیں ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دل چیر کے دیکھوں، یا ان کے پیٹ چیر کے دیکھوں۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف دیکھا وہ اس وقت واپس جا رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب اس کی اولاد میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے، جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی اور وہ لوگ دین سے یوں خارج ہو جائیں گے، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے۔“
عمارہ نامی راوی یہ بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے۔ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”اگر میں نے ان لوگوں کا زمانہ پا لیا، تو میں انہیں اس طرح قتل کروں گا، جس طرح قوم ثمود کو قتل کیا گیا تھا۔“
[صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 25]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (864 و2470): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين: أبو خيثمة: هو زهير بن حرب، وجرير: هو ابن عبد الحميد.