🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. - ذكر القدر الذي جاور المصطفى صلى الله عليه وسلم بحراء عند نزول الوحي عليه-
- اس قدر (مدت) کا ذکر جس میں نبی کریم ﷺ پر غارِ حرا میں وحی کے نزول کے وقت قیام رہا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 35
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ: أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلَ؟، قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُلْتُ: أَوِ اقْرَأْ، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ سورة المدثر آية 1، فَقُلْتُ: أَوِ اقْرَأْ، فَقَالَ: إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جَاوَرْتُ بِحِرَاءَ شَهْرًا، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ الْوَادِيَ، فَنُودِيتُ، فَنَظَرْتُ أَمَامِي، وَخَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، ثُمَّ نُودِيتُ، فَنَظَرْتُ إِلَى السَّمَاءِ، فَهُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ، فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ، فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ، فَأَمَرْتُهُمْ فَدَثَّرُونِي، ثُمَّ صَبُّوا عَلَيَّ الْمَاءَ، وَأَنْزَلَ الِلَّهِ عَلَيَّ يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ سورة المدثر آية 1 - 4 .
یحییٰ بن ابوکثیر بیان کرتے ہیں: میں نے ابوسلمہ سے دریافت کیا کہ قرآن کا کون سا حصہ پہلے نازل ہوا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۔ میں نے کہا: (یہ پہلے نازل ہوا تھا) یا «اقْرَأْ» (پہلے نازل ہوا تھا)؟ تو ابوسلمہ نے کہا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» پہلے نازل ہوئی تھی، تو میں نے کہا: (یہ پہلے نازل ہوئی تھی) یا «اقْرَأْ» (پہلے نازل ہوئی تھی)؟ تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو وہ بات بیان کروں گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: میں نے غارِ حرا میں ایک مہینے تک اعتکاف کیا، جب میں نے اپنا یہ اعتکاف مکمل کر لیا تو میں پہاڑ سے نیچے آیا۔ میں وادی کے نشیبی حصے میں پہنچا تو مجھے آواز دے کر پکارا گیا۔ میں نے اپنے سامنے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں طرف اور اپنے بائیں طرف دیکھا لیکن مجھے کوئی نظر نہیں آیا، پھر مجھے پکارا گیا۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا تو وہ (ایک فرشتہ) خلا میں ایک تخت پر تھا۔ اس کی وجہ سے مجھ پر شدید گھبراہٹ طاری ہو گئی۔ میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور میری ہدایت پر انہوں نے مجھے اوڑھنے کے لیے چادر دی اور پھر مجھ پر پانی بہایا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ٭ قُمْ فَأَنذِرْ ٭ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ٭ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾ [سورة المدثر: 1 - 4] اے چادر اوڑھنے والے! تم اٹھو اور ڈراؤ اور اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الوَحْيِ/حدیث: 35]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4، 3238، 4922، 4923، 4924، 4925، 4926، 4954، 6214، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 161، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 34، 35، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3011، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11567، 11568، 11569، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3325، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13464، 17795، 17796، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14508، 14509، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1793، 1794، 1799، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1948، 1949، 2225، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 37713»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مكرر الذي قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، الأوزاعي: هو عبد الرحمن بن عمرو إمام أهل الشام في عصره.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں