🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. - ذكر استعجال المصطفى صلى الله عليه وسلم في تلقف الوحي عند نزوله عليه-
- اس حالت کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ وحی کے نزول کے وقت کس طرح جلدی سے وحی کو یاد کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 39
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً، كَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا، فَأَنْزَلَ الِلَّهِ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ سورة القيامة آية 16 - 17، قَالَ: جَمْعُهُ فِي صَدْرِكَ، ثُمَّ تَقْرَؤُهُ فَ قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَه سورة القيامة آية 18 ُ، قَالَ: فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19 ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ، فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانَ أَقْرَأَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ تم اس کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو، تاکہ تم اسے جلدی حاصل کر لو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے نزول کے وقت شدت کا سامنا کرتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ان ہونٹوں کو حرکت دے کر دکھاتا ہوں جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرکت دیتے تھے، تواللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی۔
تم اس کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو، تاکہ تم اس کو جلدی حاصل کر لو، بے شک اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہمارے ذمے ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے جمع کرنے سے مراد تمہارے سینے میں اسے جمع کرنا ہے۔
پھر تم اس آیت کو تلاوت کرو۔
ہم اسے پڑھتے ہیں: تم اس پڑھے ہوئے کی پیروی کرو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یعنی تم اسے غور سے سنو اور خاموش رہو۔
پھر اس کا بیان ہمارے ذمے ہے۔
اس سے مراد یہ ہے، پھر تمہارا تلاوت کرنا ہمارے ذمے ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر جب جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے غور سے سنتے تھے، جب جبرائیل علیہ السلام چلے جاتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کو اسی طرح تلاوت کر لیتے تھے۔ جس طرح سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ کے سامنے اسے پڑھا ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الوَحْيِ/حدیث: 39]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين. أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں