صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
15. ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة العلم أنه مضاد للخبر الذي ذكرناه-
- اس خبر کا ذکر جس سے ان لوگوں کو وہم ہوا جو علم کے فن میں پختہ نہیں کہ یہ ہمارے ذکر کردہ بیان کے مخالف ہے۔
حدیث نمبر: 59
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعَكْبَرَا حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11، قَالَ:" رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ يَاقُوتٍ، قَدْ مَلأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَدْ أَمَرَ الِلَّهِ تَعَالَى جِبْرِيلَ لَيْلَةَ الإِسْرَاءِ أَنْ يُعَلِّمَ مُحَمَّدًا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَجِبُ أَنْ يَعْلَمَهُ كَمَا قَالَ: عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى، ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَى، وَهُوَ بِالأُفُقِ الأَعْلَى سورة النجم آية 5 - 7 يُرِيدُ بِهِ جِبْرِيلَ ثُمَّ دَنَا، فَتَدَلَّى سورة النجم آية 8 يُرِيدُ بِهِ جِبْرِيلَ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى سورة النجم آية 9 يُرِيدُ بِهِ جِبْرِيلَ، فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى سورة النجم آية 10 بِجِبْرِيلَ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11 يُرِيدُ بِهِ رَبَّهُ بِقَلْبِهِ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ الشَّرِيفِ، وَرَأَى جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ يَاقُوتٍ، قَدْ مَلأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ عَلَى مَا فِي خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ﴾ [سورة النجم: 11] ”اس نے جو دیکھا، اس کے دل نے اسے جھٹلایا نہیں۔“ کے بارے میں بیان کرتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو یاقوت سے بنے ہوئے حلے میں دیکھا تھا، اس وقت سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آسمان اور زمین کی درمیانی جگہ کو بھر دیا تھا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: معراج کی رات اللہ تعالیٰ نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو یہ حکم دیا کہ وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان چیزوں کے بارے میں بتائیں جن کا جاننا آپ کے لئے ضروری ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ * ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ * وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ﴾ [سورة النجم: 5-7] ”شدید قوت والے نے اُسے تعلیم دی، جو زبردست ہے، پھر اس نے استواء کیا اور وہ (اس وقت) افق اعلیٰ میں تھا۔“ اس سے مراد سیدنا جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ﴾ [سورة النجم: 8] ”پھر وہ قریب ہوا اور زیادہ قریب ہوا۔“ اس سے مراد سیدنا جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ﴾ [سورة النجم: 9] ”تو وہ دو کمانوں کے کناروں کی مانند یا اس سے بھی زیادہ قریب ہو گیا۔“ اس سے مراد سیدنا جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ﴾ [سورة النجم: 10] ”تو اس نے اپنے بندے کی طرف وہ چیز وحی کی جو اس نے وحی کی۔“ اس سے مراد سیدنا جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ﴾ [سورة النجم: 11] ”اُس نے جو دیکھا (اس کے) دل نے جھٹلایا نہیں۔“ اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اس معزز مقام پر اپنے قلب کے ذریعے اپنے پروردگار کو دیکھا اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو یاقوت سے بنے ہوئے حلے میں دیکھا، انہوں نے اس وقت آسمان اور زمین کے درمیان موجود خلاء کو بھر دیا تھا، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول اس روایت میں یہ بات مذکور ہے، جسے ہم ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِسْرَاءِ/حدیث: 59]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3232، 3233، 4856، 4857، 4858، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 174، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 59، 6427، 6428، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3767، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11467، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3277، 3283، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3817، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 276، 321، 356، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4993، والبزار فى (مسنده) برقم: 1808، والطبراني فى(الكبير) برقم: 9050»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الظلال» (1/ 191): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
مسروق بن المزربان: ذكره المؤلف في "الثقات" 9/ 206، وروى عنه جمع، وقال أبو حاتم: ليس بالقوي، يكتب حديثه، وقد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات، فالسند حسن، ابن أبي زائدة: هو زكريا، وعبد الرحمن بن يزيد: هو ابن قيس النخعي الكوفي.