صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
3. ذكر الإخبار عما يستحب للمرء كثرة سماع العلم ثم الاقتفاء والتسليم-
- اس خبر کا ذکر جس میں اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ انسان کو کثرت سے علم سننا، اس کی پیروی کرنا اور اسے تسلیم کرنا پسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 63
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، وأَبِي أُسَيْد أن النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تَعْرِفُهُ قُلُوبُكُمْ، وَتَلِينُ لَهُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ قَرِيبٌ، فَأَنَا أَوْلاكُمْ بِهِ، وَسَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تُنْكِرُهُ قُلُوبُكُمْ، وَتَنْفِرُ عَنْهُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ بَعِيدٌ، فَأَنَا أَبَعْدَكُمْ مِنْهُ" .
سیدنا ابوحمید اور سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم میرے حوالے سے کوئی بات سنو، جو تمہاری عقل میں آئے اور تمہارے بال اور تمہاری جلد اس کے لیے نرم ہو جائیں اور تم یہ سمجھو کہ یہ بات تمہارے قریب ہے، تو میں اس کے بارے میں تم سب سے زیادہ حق رکھتا ہوں اور جب تم میرے حوالے سے کوئی ایسی بات سنو، جس کا تمہارا ذہن انکار کرے اور تمہارے بال اور تمہاری جلد اس سے تنفر محسوس کریں، اور تم یہ سمجھو کہ تم اس سے دور ہو، تو میں اس بات سے تم سب سے زیادہ دور ہوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ العِلْمِ/حدیث: 63]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 63، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16305، 24095، والبزار فى (مسنده) برقم: 3718، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 6067»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (732).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم. أبو خيثمة: زهير بن حرب بن شداد، وأبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو القيسي.