صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
17. باب التكليف - رفع القلم عن ثلاثة في كتبة الشر عليهم-
تکلیف کا بیان - تین قسم کے لوگوں سے برائی لکھنے کا قلم اٹھا لینے کا ذکر۔
حدیث نمبر: 144
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ إِبْرَاهِيَمَ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا يُخْبِرُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَرَ مِنْ مَكَّةَ، فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ اسْتَقَبْلُهُ رَكْبٌ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: " مَنِ الْقَوْمُ؟" قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، فَمَنْ أَنْتُمْ؟ قَالَ:" رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَفَزِعَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُمْ، فَرَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا مِنْ مِحَفَّةٍ وَأَخَذَتْ بِعَضَلَتِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا حَجٌّ؟، قَالَ:" نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ" ، قَالَ إِبْرَاهِيَمُ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ فَحَجَّ بِأَهْلِهِ أَجْمَعِينَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے واپس تشریف لائے، جب آپ ”روحاء“ کے مقام پر پہنچے تو کچھ سوار آپ کے سامنے آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور دریافت کیا: ”آپ لوگ کون ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ہم مسلمان ہیں، آپ لوگ کون ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(میں) اللہ کا رسول ہوں۔“ تو ان میں سے ایک عورت تیزی سے اٹھی اور اس نے اپنے پالان میں سے اپنے بچے کو بلند کیا، اس نے اس بچے کے بازو کو پکڑا ہوا تھا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! (کیا اس بچے کا) حج ہوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! اور تمہیں بھی (اس کا) اجر ملے گا۔“ ابراہیم نامی راوی کہتے ہیں: میں نے یہ روایت ابن منکدر کو سنائی، تو انہوں نے اپنے تمام گھر والوں سمیت حج کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 144]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1336، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1596، وابن الجارود فى "المنتقى"، 451، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3049، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 144، 3797، 3798، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2644، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3611، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1736، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1923، والحميدي فى (مسنده) برقم: 514»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1525).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.