🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن و حدیث کا پیغام پہنچانے میں ہمارے ساتھ تعاون کیجیے۔
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

65. باب فرض الإيمان - ذكر الخبر الدال على صحة ما ذكرنا أن معاني هذه الأخبار ما قلنا إن العرب تنفي الاسم عن الشيء للنقص عن الكمال وتضيف الاسم إلى الشيء للقرب من التمام-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - ایک خبر کا ذکر جو اس بات کی صحت پر دلالت کرتی ہے کہ ان روایات کا مطلب وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے کہ عرب کمال میں کمی پر نام کو نفی کرتے ہیں اور کمال کے قریب ہونے پر اس کا اطلاق کرتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 195
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدْ، فَانْطَلَقْتُ خَلْفَهُ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ!"، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ ثُمَّ سَعْدَيْكَ، وَأَنَا فِدَاؤُكَ، فَقَالَ: " الْمُكْثِرُونَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا، عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ" قَالَهَا ثَلاثًا، ثُمَّ عَرَضَ لَنَا أُحُدٌ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُ لآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا يُمْسِي مَعَهُمْ دِينَارٌ أَوْ مِثْقَالٌ"، فَقُلْتُ: الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ثُمَّ عَرَضَ لَنَا وَادٍ، فَاسْتَبْطَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَزَلَ فِيهِ، وَجَلَسْتُ عَلَى شَفِيرِهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ حَاجَةً، فَأَبْطَأَ عَلَيَّ وَسَاءَ ظَنِّي، فَسَمِعْتُ مُنَاجَاةً، فَقَالَ:" ذَلِكَ جِبْرِيلُ يُخْبِرُنِي لأُمَّتِي مَنْ شَهِدَ مِنْهُمْ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیعِ غرقد کی طرف تشریف لے گئے، میں بھی آپ کے پیچھے چل پڑا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دنیا میں مال و دولت کے اعتبار سے) کثرت رکھنے والے لوگ قیامت کے دن (اجر و ثواب کے اعتبار سے) قلت والے ہوں گے، ماسوائے اس شخص کے، جو اپنے مال کے بارے میں، اس طرح اور اس طرح کہتا ہے، اپنے دائیں طرف اور اپنے بائیں طرف (یعنی ہر طرف خرچ کرتا ہے)۔ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر ہمارے سامنے اُحد پہاڑ آ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس سونا ہو، اور پھر شام کے وقت ان کے پاس ایک دینار یا ایک مثقال سونا بھی باقی رہ جائے۔ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، پھر ہمارے سامنے ایک وادی آئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نشیبی حصے میں تشریف لے گئے، آپ نیچے اتر گئے اور میں اس کے کنارے پر بیٹھ گیا، میں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ہیں، آپ کو واپس آنے میں تاخیر ہو گئی، تو مجھے برے خیال آنے لگے، پھر میں نے مناجات کی آواز سنی، (بعد میں، میں نے اس بارے میں دریافت کیا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل تھے، جو مجھے میری امت کے بارے میں یہ بتا رہے تھے کہ ان میں سے جو شخص بھی اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔ (سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو، یا اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو، یا اگرچہ اس نے چوری کی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1237، 2388، 3222، 5827، 6268، 6443، 6444، 7487، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 94، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 169، 170، 195، 213، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10889، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2644، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2809، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21717»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (826).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم. حماد بن أبي سليمان من رجال مسلم، وباقي السند على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں