🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

70. باب فرض الإيمان - الجنة إنما تجب لمن شهد لله جل وعلا بالوحدانية-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - جنت صرف اسی کے لیے واجب ہے جو اللہ جل وعلا کی وحدانیت کی گواہی دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 200
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَسْكَرِيُّ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ مُعَاذًا لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَ: اكْشِفُوا عَنِّي سِجْفَ الْقُبَّةِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ شَهِدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلَ الْجَنَّةَ" يُرِيدُ بِهِ جَنَّةً دُونَ جَنَّةٍ لأَنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، فَمَنْ أَتَى بِالإِقْرَارِ الَّذِي هُوَ أَعْلَى شُعَبِ الإِيمَانِ، وَلَمْ يُدْرِكِ الْعَمَلَ ثُمَّ مَاتَ، أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ أَتَى بَعْدَ الإِقْرَارِ مِنَ الأَعْمَالِ قَلَّ أَوْ كَثُرَ، أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، جَنَّةً فَوْقَ تِلْكَ الْجَنَّةِ، لأَنَّ مَنْ كَثُرَ عَمَلُهُ عَلَتْ دَرَجَاتُهُ، وَارْتَفَعَتْ جَنَّتُهُ، لا أَنَّ الْكُلَّ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَدْخُلُونَ جَنَّةً وَاحِدَةً، وَإِنْ تَفَاوَتَتْ أَعْمَالُهُمْ وَتَبَايَنَتْ، لأَنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ لا جَنَّةٌ وَاحِدَةٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا، تو انہوں نے فرمایا: خیمے کا پردہ ہٹا دو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص خلوصِ دل کے ساتھ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اس سے مراد یہ ہے: ایک جنت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، کیونکہ جنت کی مختلف قسمیں ہیں، تو جو شخص وہ اقرار کرتا ہے، ایمان کا سب سے بلند تر شعبہ ہے، اور وہ عمل تک نہیں پہنچا اور پھر انتقال کر جاتا ہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ جو شخص اقرار کے بعد اعمال بھی بجا لاتا ہے خواہ وہ کم ہوں، یا زیادہ ہوں، وہ بھی جنت میں جائے گا۔ لیکن یہ وہ پہلے والی جنت سے اوپر ہو گی؛ کیونکہ اس کے عمل زیادہ ہیں، تو اس کے درجات بلند ہوں گے اور اس کی جنت بلند ہو گی، ایسا نہیں ہے کہ تمام مسلمان ایک ہی جنت میں داخل ہوں گے، اگرچہ ان کے اعمال کے درمیان تفاوت اور تباین پایا جاتا ہو، کیونکہ جنت کی مختلف قسمیں ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی جنت ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 200]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2856، 5967، 6267، 6267 م، 6500، 7373، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 30، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 200، 210، 362، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2559، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2643، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4296، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19864، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22413، والحميدي فى (مسنده) برقم: 373»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2355).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں