صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
123. باب ما جاء في الشرك والنفاق - ذكر إطلاق اسم النفاق على المؤخر صلاة العصر إلى أن تكون الشمس بين قرني الشيطان-
شرک و نفاق کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص نمازِ عصر کو مؤخر کرے یہاں تک کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہو جائے، اس پر نفاق کا نام بولا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 259
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، بَعْدَ الظُّهْرِ، فَقَالَ: أَصَلَّيْتُمَا الْعَصْرَ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: لا، قَالَ: فَصَلِّيَا عِنْدَكُمَا فِي الْحُجْرَةِ، فَفَرَغْنَا وَطَوَّلَ هُوَ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَكَانَ أَوَّلَ مَا كَلَّمَنَا بِهِ أَنْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ، يُمْهِلُ أَحَدُهُمْ حَتَّى كَانَتِ الشَّمْسُ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَلِيلا" .
علاء بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اور میرے ساتھ ایک اور صاحب تھے، ہم ظہر کے بعد ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے جواب دیا: جی نہیں! تو انہوں نے فرمایا: تم دونوں حجرہ میں نماز ادا کر لو۔ ہم اس سے فارغ ہو گئے، انہوں نے نماز طویل ادا کی، جب وہ نماز پڑھ کر ہماری طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے سب سے پہلے ہم سے یہ کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یہ منافقین کی نماز ہے، ان میں سے کوئی شخص نماز کو مؤخر کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے، تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگیں مارتا ہے، وہ نماز میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت کم کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 259]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 622، ومالك فى (الموطأ) برقم: 743، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 333، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 259، 260، 261، 262، 263، 1514، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 509، وأبو داود فى (سننه) برقم: 413، والترمذي فى (جامعه) برقم: 160، والدارقطني فى (سننه) برقم: 999، 1000، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12181، 12704»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (441): م نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.