🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

126. باب ما جاء في الشرك والنفاق - ذكر البيان بأن تأخير صلاة العصر إلى أن يقرب اصفرار الشمس صلاة المنافقين-
شرک و نفاق کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازِ عصر کو سورج کے زرد ہونے کے قریب تک مؤخر کرنا منافقین کی نماز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 262
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ، قَالَ: وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ، قَالَ: صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ؟ قُلْنَا: إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ، قَالَ: فَصَلُّوا الْعَصْرَ، فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا الْعَصْرَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ، يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا، لا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَلِيلا" .
علاء بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد بصرہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر گئے، راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا، جب وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے عصر کی نماز ادا کر لی ہے؟ ہم نے جواب دیا: ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر آئے ہیں، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ عصر کی نماز ادا کر لو! چنانچہ ہم نے عصر کی نماز ادا کر لی، جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: یہ منافق کی نماز ہے، (منافق شخص) بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے، تو وہ اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے اور اس نماز میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت تھوڑا سا کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 262]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 622، ومالك فى (الموطأ) برقم: 743، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 333، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 259، 260، 261، 262، 263، 1514، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 509، وأبو داود فى (سننه) برقم: 413، والترمذي فى (جامعه) برقم: 160، والدارقطني فى (سننه) برقم: 999، 1000، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12181، 12704»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں