🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

261. باب التيمم - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
تیمم کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1307
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّجُلُ يُجْنِبُ، فَلا يَجِدُ الْمَاءَ يُصَلِّي؟ فَقَالَ: تَسْمَعُ قَوْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ لِعُمَرَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا أَنَا وَأَنْتَ، فَأَجْنَبْتُ، فَتَمَعَّكْتُ بِالصَّعِيدِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يَكْفِيكَ هَذَا: وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ وَاحِدَةً" ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الآيَةِ؟ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43، قَالَ: لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذِهِ كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا وَجَدَ الْمَاءَ الْبَارِدَ يَمْسَحُ بِالصَّعِيدِ، قَالَ الأَعْمَشُ: فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ: مَا كَرِهَهُ إِلا لِهَذَا.
شقیق بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے ساتھ موجود تھا، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عبدالرحمن! ایک شخص کو جنابت لاحق ہو گئی اور اسے پانی نہیں ملتا تو کیا وہ نماز ادا کرے گا؟ پھر سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا قول سنا تھا جو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو ایک مہم پر روانہ کیا تھا۔ میں جنابت کا شکار ہو گیا۔ میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا: تمہارے لیے اس طرح کر لینا کافی تھا پھر آپ نے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا ایک مرتبہ مسح کیا۔ اس پر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے اس بات پر قناعت کی ہو، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ اس آیت ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة المائدة: 6] اور تمہیں پانی نہیں ملتا تم پاک مٹی کے ذریعے تیمم کر لو کے بارے میں کیا کہیں گے؟ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر ہم لوگوں کو اس بارے میں رخصت دینا شروع کر دیں تو ان میں سے کسی ایک کو اگر پانی ٹھنڈا لگے گا، تو وہ مٹی سے مسح کر لیا کرے گا۔ اعمش نامی راوی کہتے ہیں: میں نے شقیق سے کہا: کیا وہ (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ) اس وجہ سے اسے ناپسند کرتے تھے؟ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1307]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 345، 346، 347، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 368، 368، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 270، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1304، 1305، 1307، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 319، وأبو داود فى (سننه) برقم: 321، والدارقطني فى (سننه) برقم: 684، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18618» «رقم طبعة با وزير 1304»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر (1301). تنبيه!! رقم (1301) = (1304) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں