صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الرِّقَاقِ
کتاب الرقاق
27. باب قِصَّةِ أَصْحَابِ الْغَارِ الثَّلَاثَةِ، وَالتَّوَسُّلِ بِصَالِحِ الْأَعْمَالِ
باب: غار میں پھنسے ہوئے تین آدمیوں کا قصہ اور نیک اعمال کا وسیلہ۔
حدیث نمبر: 6949
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني محمد بن إسحاق المسيبي ، حدثني انس يعني ابن عياض ابا ضمرة ، عن موسى بن عقبة ، عن نافع ، عن عبد الله بن عمر ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، انه قال: " بينما ثلاثة نفر يتمشون اخذهم المطر، فاووا إلى غار في جبل، فانحطت على فم غارهم صخرة من الجبل، فانطبقت عليهم، فقال بعضهم لبعض: انظروا اعمالا عملتموها صالحة لله فادعوا الله تعالى بها لعل الله يفرجها عنكم، فقال: احدهم اللهم إنه كان لي والدان شيخان كبيران وامراتي ولي صبية صغار ارعى عليهم، فإذا ارحت عليهم حلبت فبدات بوالدي، فسقيتهما قبل بني، وانه ناى بي ذات يوم الشجر، فلم آت حتى امسيت فوجدتهما قد ناما، فحلبت كما كنت احلب، فجئت بالحلاب فقمت عند رءوسهما اكره ان اوقظهما من نومهما، واكره ان اسقي الصبية قبلهما والصبية يتضاغون عند قدمي، فلم يزل ذلك دابي ودابهم حتى طلع الفجر، فإن كنت تعلم اني فعلت ذلك ابتغاء وجهك، فافرج لنا منها فرجة نرى منها السماء، ففرج الله منها فرجة فراوا منها السماء، وقال الآخر: اللهم إنه كانت لي ابنة عم احببتها كاشد ما يحب الرجال النساء، وطلبت إليها نفسها، فابت حتى آتيها بمائة دينار، فتعبت حتى جمعت مائة دينار، فجئتها بها فلما وقعت بين رجليها، قالت: يا عبد الله اتق الله ولا تفتح الخاتم إلا بحقه، فقمت عنها فإن كنت تعلم اني فعلت ذلك ابتغاء وجهك، فافرج لنا منها فرجة ففرج لهم، وقال الآخر: اللهم إني كنت استاجرت اجيرا بفرق ارز، فلما قضى عمله، قال: اعطني حقي، فعرضت عليه فرقه فرغب عنه، فلم ازل ازرعه حتى جمعت منه بقرا ورعاءها فجاءني، فقال: اتق الله ولا تظلمني حقي، قلت: اذهب إلى تلك البقر ورعائها فخذها، فقال: اتق الله ولا تستهزئ بي، فقلت: إني لا استهزئ بك خذ ذلك البقر ورعاءها، فاخذه فذهب به، فإن كنت تعلم اني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج لنا ما بقي ففرج الله ما بقي "،حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ أَبَا ضَمْرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَتَمَشَّوْنَ أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ، فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ، فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ، فَانْطَبَقَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا صَالِحَةً لِلَّهِ فَادْعُوا اللَّهَ تَعَالَى بِهَا لَعَلَّ اللَّهَ يَفْرُجُهَا عَنْكُمْ، فَقَالَ: أَحَدُهُمُ اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَامْرَأَتِي وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ أَرْعَى عَلَيْهِمْ، فَإِذَا أَرَحْتُ عَلَيْهِمْ حَلَبْتُ فَبَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ، فَسَقَيْتُهُمَا قَبْلَ بَنِيَّ، وَأَنَّهُ نَأَى بِي ذَاتَ يَوْمٍ الشَّجَرُ، فَلَمْ آتِ حَتَّى أَمْسَيْتُ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا، فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ، فَجِئْتُ بِالْحِلَابِ فَقُمْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا، وَأَكْرَهُ أَنْ أَسْقِيَ الصِّبْيَةَ قَبْلَهُمَا وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ، فَفَرَجَ اللَّهُ مِنْهَا فُرْجَةً فَرَأَوْا مِنْهَا السَّمَاءَ، وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَتْ لِيَ ابْنَةُ عَمٍّ أَحْبَبْتُهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ، وَطَلَبْتُ إِلَيْهَا نَفْسَهَا، فَأَبَتْ حَتَّى آتِيَهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَتَعِبْتُ حَتَّى جَمَعْتُ مِائَةَ دِينَارٍ، فَجِئْتُهَا بِهَا فَلَمَّا وَقَعْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا، قَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفْتَحْ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ، فَقُمْتُ عَنْهَا فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فُرْجَةً فَفَرَجَ لَهُمْ، وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ أَرُزٍّ، فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ، قَالَ: أَعْطِنِي حَقِّي، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَرَقَهُ فَرَغِبَ عَنْهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرِعَاءَهَا فَجَاءَنِي، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَظْلِمْنِي حَقِّي، قُلْتُ: اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَسْتَهْزِئْ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ خُذْ ذَلِكَ الْبَقَرَ وَرِعَاءَهَا، فَأَخَذَهُ فَذَهَبَ بِهِ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مَا بَقِيَ فَفَرَجَ اللَّهُ مَا بَقِيَ "،
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی جار ہے تھے اتنے میں مینہ آیا وہ پہاڑ میں ایک غار تھا، اس میں گھس گئے۔ پہاڑ پر سے ایک پتھر گرا اور غار کے منہ پر آ گیا اور منہ ہو گیا ایک نے دوسرے سے کہا: اپنے اپنے نیک اعمال کا خیال کرو جو اللہ کے لیے کیے ہوں اور دعا مانگو ان اعمال کے وسیلہ سے شاید اللہ تعالیٰ اس پتھر کو کھول دے تمہارے لیے، تو ایک نے ان میں سے کہا: میرے ماں باپ بوڑھے ضعیف تھے اور میری جورو اور میرے چھوٹے چھوٹے لڑکے تھے کہ میں ان کے واسطے بھیڑ بکریاں چرایا کرتا تھا۔ پھر جب میں شام کے قریب چرا لاتا تھا تو ان کا دودھ دوہتا تھا، سو اول اپنے ماں باپ سے شروع کرتا تھا تو ان کو اپنے لڑکوں سے پہلے پلاتا تھا اور البتہ ایک دن مجھ کو درخت نے دور ڈالا (یعنی چارہ بہت دور ملا) سو میں گھر نہ آیا یہاں تک کہ مجھ کو شام ہو گئی، تو میں نے ماں باپ کو سوتا پایا، پھر میں نے دودھ دوہا جس طرح دوہا کرتا تھا تو میں دودھ لایا اور ماں باپ کے سر کے پاس کھڑا ہوا۔ مجھ کو برا لگا کہ ان کو نیند سے جگاؤں اور برا لگا کہ ان سے پہلے لڑکوں کو پلاؤں اور لڑکے بھوک کے مارے شور کرتے تھے، میرے دونوں پیروں کے پاس، سو اسی طرح برابر میرا اور ان کا حال رہا صبح تک (یعنی میں ان کے انتظار میں دودھ لیے رات بھر کھڑا رہا) اور لڑکے روتے چلاتے رہے، نہ میں نے پیا، نہ لڑکوں کو پلایا، سو الہیٰ اگر تو جانتا ہے کہ ایسی محنت اور مشقت تیری رضا مندی کے واسطے میں نے کی تھی تو اس پتھر سے ایک روزن کھول دے جس میں سے ہم آسمان دیکھیں تو اللہ نے اس میں ایک روزن کھول دیا اور انہوں نے اس میں سے آسمان کو دیکھا۔ دوسرے نے کہا: الہی ماجرا یہ ہے کہ میرے چچا کی ایک بیٹی تھی جس سے میں محبت کرتا تھا، جیسے مرد عورت سے کرتے ہیں (یعنی میں اس کا کمال عاشق تھا) سو اس کی طرف مائل ہو کر میں نے اس کی ذات کو چاہا (یعنی حرامکاری کا ارادہ کیا) اس نے نہ مانا اور کہا: جب تک سو اشرفیاں نہ دے گا میں راضی نہ ہوں گی میں نے کوشش کی اور سو اشرفیاں کما کر اس کے پاس لایا جب میں نے اس کی ٹانگیں اٹھائیں (یعنی جماع کے ارادہ سے) اس نے کہا: اے اللہ کے بندے! ڈر اللہ سے اور مت توڑ مہر کو مگر حق سے (یعنی بغیر نکاح کے بکارت مت زائل کر) تو میں اٹھ کھڑا ہوا اس کے اوپر سے۔ الہٰی اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میں نے تیری رضا مندی کے لیے کیا تو ایک روزن اور کھول دے ہمارے لیے، اللہ تعالیٰ نے اور روزن کھول دیا (یعنی وہ روزن بڑا ہوگیا)۔ تیسرے نے کہا: الہیٰ! میں نے ایک شخص سے مزدوری لی ایک فرق (وہ برتن جس میں سولہ رطل اناج آتا ہے) چاول پر، جب وہ اپنا کام کر چکا، اس نے کہا: میرا حق دے، میں نے فرق بھر چاول اس کے سامنے رکھے، اس نے نہ لیے، میں ان چاولوں کو بوتا رہا (اس میں برکت ہوئی) یہاں تک کہ میں نے اس مال سے گائے بیل اور ان کے چرانے والے غلام اکھٹے کئے، پھر وہ مزدور میرے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ سے ڈر اور میرا حق مت مار، میں نے کہا: جا اور گائے بیل اور ان کے چرانے والے سب تو لے لے۔ وہ بولا: اللہ جبار سے ڈر اور مجھ سے مذاق مت کر، میں نے کہا: میں مذاق نہیں کرتا، وہ گائے، بیل اور چرانے والوں کو تو لے لے اس نے ان کو لے لیا، پھر اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میں نے تیری رضا مندی کے لیے کیا تو جتنا باقی ہے روزن وہ بھی کھول دے حق تعالیٰ نے اس کو بھی کھول دیا۔ (اور وہ لوگ اس غار سے باہر نکلے)۔
15920 - D 6949 - U
حدیث نمبر: 6950
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا إسحاق بن منصور ، وعبد بن حميد ، قالا: اخبرنا ابو عاصم ، عن ابن جريج ، اخبرني موسى بن عقبة . ح وحدثني سويد بن سعيد ، حدثنا علي بن مسهر ، عن عبيد الله . ح وحدثني ابو كريب ، ومحمد بن طريف البجلي ، قالا: حدثنا ابن فضيل ، حدثنا ابي , ورقبة بن مسقلة . ح وحدثني زهير بن حرب وحسن الحلواني ، وعبد بن حميد ، قالوا: حدثنا يعقوب يعنون ابن إبراهيم بن سعد ، حدثنا ابي ، عن صالح بن كيسان كلهم، عن نافع ، عن ابن عمر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعنى حديث ابي ضمرة، عن موسى بن عقبة وزادوا في حديثهم، وخرجوا يمشون وفي حديث صالح: يتماشون إلا عبيد الله، فإن في حديثه: وخرجوا ولم يذكر بعدها شيئا،وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي , وَرَقَبَةُ بْنُ مَسْقَلَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي ضَمْرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَزَادُوا فِي حَدِيثِهِمْ، وَخَرَجُوا يَمْشُونَ وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ: يَتَمَاشَوْنَ إِلَّا عُبَيْدَ اللَّهِ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ: وَخَرَجُوا وَلَمْ يَذْكُرْ بَعْدَهَا شَيْئًا،
‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
15921 - D 6950 - U
حدیث نمبر: 6951
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني محمد بن سهل التميمي ، وعبد الله بن عبد الرحمن بن بهرام ، وابو بكر بن إسحاق ، قال ابن سهل: حدثنا وقال الآخران: اخبرنا ابو اليمان ، اخبرنا شعيب ، عن الزهري ، اخبرني سالم بن عبد الله ، ان عبد الله بن عمر ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " انطلق ثلاثة رهط ممن كان قبلكم حتى آواهم المبيت إلى غار، واقتص الحديث بمعنى حديث نافع، عن ابن عمر غير، انه قال: قال رجل منهم: اللهم كان لي ابوان شيخان كبيران فكنت لا اغبق قبلهما اهلا ولا مالا، وقال: فامتنعت مني حتى المت بها سنة من السنين، فجاءتني فاعطيتها عشرين ومائة دينار، وقال: فثمرت اجره حتى كثرت منه الاموال، فارتعجت، وقال: فخرجوا من الغار يمشون.حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ ابْنُ سَهْلٍ: حَدَّثَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " انْطَلَقَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَتَّى آوَاهُمُ الْمَبِيتُ إِلَى غَارٍ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ غَيْرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: اللَّهُمَّ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ فَكُنْتُ لَا أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلًا وَلَا مَالًا، وَقَالَ: فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّى أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنَ السِّنِينَ، فَجَاءَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ، وَقَالَ: فَثَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّى كَثُرَتْ مِنْهُ الْأَمْوَالُ، فَارْتَعَجَتْ، وَقَالَ: فَخَرَجُوا مِنْ الْغَارِ يَمْشُونَ.
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: تم سے پہلے تین کنبہ والے چلے یہاں تک کہ ان کو رات ہو گئی ایک غار، میں پھر بیان کیا سارا قصہ جیسے اوپر مذکور ہوا۔ اس میں یہ ہے کہ ایک شخص بولا: یا اللہ! میرے ماں باپ بوڑھے ضعیف تھے، میں ان سے پہلے رات کو کسی کو دودھ نہ پلاتا، نہ گھر والوں کو، نہ غلاموں کو، اور یہ ہے کہ اس عورت نے میرا کہنا نہ مانا، یہاں تک کہ ایک سال قحط میں گرفتار ہوئی، اور میرے پاس آئی میں نے اس کو ایک سو بیس دینار دئیے، اور یہ ہے کہ میں نے اس مزدور کی اجرت کو بویا یہاں تک کہ بہت سے مال اس سے حاصل ہوئے اور وہ گڑبڑ کرنے لگے آخر میں یہ ہے کہ پھر وہ نکلے غار میں سے چلتے ہوئے۔
15922 - D 6951 - U