صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
10. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر ثان يدل على أن تارك الصلاة متعمدا حتى خرج وقتها لا يكفر باستعماله ذلك كفرا تبين امرأته به عنه
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نماز کو جان بوجھ کر اس کے وقت کے نکلنے تک ترک کرنے والا اس سے کفر نہیں کرتا جو اس کی بیوی کو اس سے جدا کر دے
حدیث نمبر: 1456
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ فِي السَّفَرِ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنے کا ارادہ کرتے تھے، تو آپ ظہر کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ عصر کا ابتدائی وقت داخل ہو جاتا تھا، تو آپ ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1456]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1110، 1111، 1112، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 704، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 969، 975، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1456، 1592، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 497، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1204، 1205، 1218، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1454، 1455، 1456، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12294» «رقم طبعة با وزير 1454»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1105).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، سعيد بن بحر القراطيسي: ذكره المؤلف في «الثقات» 8/ 272، وقد تحرف فيه «بحر» إلى «بحير»، وترجمه الخطيب في «تاريخه» 9/ 93، ووثقه، وأورده السمعاني في «الأنساب» 10/ 84، وباقي رجال الإسناد على شرطهما.