🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. باب مواقيت الصلاة - ذكر الأمر بالصلاة للنائم إذا استيقظ عند استيقاظه
نماز کے اوقات کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ سونے والے کو جب وہ جاگے تو اپنی نماز ادا کرنی چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1488
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ، وَلا يُصَلِّي صَلاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ، فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا قَوْلُهَا: يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتِي وَقَدْ نَهَيْتُهَا عَنْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كَانَتْ سُورَةً وَاحِدَةً لَكَفَتِ النَّاسَ"، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُهَا: يُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ، فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ فَتَصُومُ، وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ وَلا أَصْبِرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ:" لا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا"، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُهَا: لا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ لا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے شوہر سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ) کا یہ حال ہے) کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں، تو وہ مجھے مارتے ہیں اور جب میں نفلی روزہ رکھتی ہوں، تو وہ میرا روزہ تڑوا دیتے ہیں اور وہ خود فجر کی نماز اس وقت تک ادا نہیں کرتے جب تک سورج نکل نہیں آتا۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس خاتون کے بیان کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! جہاں تک اس کا یہ کہنا ہے، جب میں نماز پڑھتی ہوں، تو یہ مجھے مارتے ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے یہ دو سورتوں کی تلاوت کرتی ہے، تو میں اسے اس بات سے منع کرتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر ایک سورت ہوتی، تو وہ بھی لوگوں کے لئے کفایت کر جاتی۔ سیدنا صفوان نے عرض کی: جہاں تک اس عورت کے یہ کہنے کا تعلق ہے، جب میں روزہ رکھتی ہوں، تو یہ میرا روزہ تڑوا دیتے ہیں، تو یہ مسلسل روزے رکھتی رہتی ہے میں نوجوان آدمی ہوں مجھ سے صبر نہیں ہوتا۔ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔ سیدنا صفوان نے عرض کی: جہاں تک اس عورت کے یہ کہنے کا تعلق ہے، میں اس وقت تک نماز ادا نہیں کرتا جب تک سورج نکل نہیں آتا تو ہمارے گھر میں یہ صورت حال ہے، ہم اس وقت تک بیدار نہیں ہوتے جب تک سورج نکل نہیں آتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم بیدار ہو جاؤ تو نماز ادا کر لو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1488]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1486»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (395)، «صحيح أبي داود» (2122).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، أبو خيثمة: هو زهير بن حرب، وجرير: هو ابن عبد الحميد، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو صالح: هو ذكوان الزيات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں