صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ} الآيَةَ:
باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ”جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود ہیں ان کو عذاب نہیں کرون گا“۔
ترقیم عبدالباقی: 2796 ترقیم شاملہ: -- 7064
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الزِّيَادِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ: " اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ، فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ، فَنَزَلَتْ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ {33} وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة الأنفال آية 33-34 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ".
شعبہ نے عبدالحمید زیادی سے روایت کی انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا: وہ کہہ رہے تھے کہ ابوجہل نے کہا: ”اے اللہ!“ اگر (یہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں) یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔ تو اس پر (آیت) نازل ہوئی: «وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» ”اللہ تعالیٰ اس وقت ان پر (اس طرح کا) عذاب بھیجنے والا نہ تھا جبکہ آپ بھی ان میں موجود تھے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہ تھا جب وہ (علیحدگی میں) استغفار کیے جا رہے تھے۔ اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے جبکہ وہ (ایمان لانے والوں کو) مسجد حرام سے روکتے ہیں۔“ سے آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7064]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوجہل نے دعا کی: «اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» ”اے اللہ! اگر یہی (قرآن) حق ہے، جو تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے، یا ہمیں کسی المناک عذاب سے دوچار کر دے۔“ تو یہ آیت اتری: ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ [سورة الأنفال: 33] ”اللہ ایسے نہیں ہے کہ آپ کی موجودگی میں ان پر عذاب بھیجے اور اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے، جبکہ وہ استغفار کر رہے ہیں،“ اور ﴿وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا كَانُوا أَوْلِيَاءَهُ إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴾ [سورة الأنفال: 34] ”اور انہیں کیا تحفظ حاصل ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے، حالانکہ وہ مسجد حرام سے روک رہے ہیں، جبکہ وہ حقیقتاً اس کے متولی نہیں ہیں، اس کے متولی تو صرف متقی (حدود کے پابند) ہی ہو سکتے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر اس حقیقت کو نہیں جانتے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7064]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2796
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة