صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
158. باب المساجد - ذكر الإباحة للمرء إذا كان معذورا أن يتخذ المصلى في بيته لصلواته
مساجد کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر آدمی معذور ہو تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے گھر میں اپنی نمازوں کے لیے مصلیٰ بنائے
حدیث نمبر: 1612
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهُوَ أَعْمَى، وَأَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا تَكُونُ الظُّلَمْةُ وَالْمَطَرُ وَالسَّيْلُ، وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، فَصَلِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ؟" فَأَشَارَ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ مِنَ الْبَيْتِ، فَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے، وہ نابینا تھے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: بعض اوقات تاریکی زیادہ ہوتی ہے یا بارش ہوئی ہوتی ہے یا راستے میں پانی آ جاتا ہے، تو میں ایک نابینا شخص ہوں۔ یا رسول اللہ! آپ میرے گھر میں کسی جگہ نماز ادا کر لیجئے میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کون سی جگہ کے بارے میں تم یہ چاہتے ہو کہ میں وہاں نماز ادا کروں؟“ تو انہوں نے اپنے گھر کے ایک حصے کی طرف اشارہ کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1612]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 77، 189، 424، 425، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 33، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1653، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 223، 1292، 1612، 2075، 4534، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6560، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 787، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 660، 754، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12579» «رقم طبعة با وزير 1610»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح سنن النسائي» (760): خ (667).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.