صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
632. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الخبر المدحض تأويل هذا المتأول لهذه اللفظة التي في خبر حميد الطويل
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حمید الطویل کی خبر میں اس لفظ کی اس متأول کی تأویل کو رد کرتا ہے
حدیث نمبر: 2112
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا بِالْمَدِينَةِ، فَصَرَعَهُ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ فَأَتَيْنَاهُ نَعُودُهُ فَوَجَدْنَاهُ فِي مَشْرَبَةٍ لِعَائِشَةَ يُسَبِّحُ جَالِسًا، فَقُمْنَا خَلْفَهُ فَتَنَكَّبَ عَنا، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ، فَقُمْنَا خَلْفَهُ فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ، قَالَ: " إِذَا صَلَّى الإِمَامُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَلا تَفْعَلُوا كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسٌ بِعُظَمَائِهَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ اللَّفْظَةَ الَّتِي فِي خَبَرِ حُمَيْدٍ حَيْثُ صَلَّى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمْ قَاعِدًا وَهُمْ قِيَامٌ إِنَّمَا كَانَتْ تِلْكَ سُبْحَةً، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلاةُ الْفَرِيضَةُ أَمَرَهُمْ أَنْ يُصَلُّوا قُعُودًا كَمَا صَلَّى هُوَ، فَفِي هَذَا أَوْكَدُ الأَشْيَاءِ أَنَّ الأَمْرَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا وَصَفْنَا أَمْرُ فَرِيضَةٍ لا فَضِيلَةٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں گھوڑے پر سوار ہوئے آپ اس سے ایک کھجور کے تنے پر گر گئے جس کی وجہ سے آپ کے پاؤں میں موچ آ گئی ہم آپ کی عیادت کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے آپ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بالا خانے میں پایا، آپ بیٹھ کر نوافل ادا کر رہے تھے ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، تو آپ ہم سے ہٹ گئے پھر ہم دوسری مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ کو فرض نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، تو آپ نے ہماری طرف اشارہ کیا، تو ہم بیٹھ گئے، جب آپ نے نماز مکمل کی تو ارشاد فرمایا: ”جب امام بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔ جب وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو تم لوگ اس طرح نہ کرو جس طرح، اہل فارس اپنے بادشاہوں کے لئے کرتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ حمید کے حوالے سے منقول روایت کے وہ الفاظ کہ اس میں یہ مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور وہ لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ نفل نماز تھی۔ جب فرض نماز کا وقت ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ ہدایت کی کہ وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں۔ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی تھی۔ تو یہ چیز سب سے زیادہ تاکید والی ہو جائے گی۔ (اور اس بات کو ثابت کر دے گی) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم جس کا ہم نے ذکر کیا ہے لازم قرار دینے کے طور پر حکم ہے۔ فضیلت کے اظہار کا حکم نہیں تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2112]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2109»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2/ 122)، «صحيح أبي داود» (615).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم، أبو سفيان: هو طلحة بن نافع الواسطي، ويقال: المكي صاحب جابر، قال أحمد، والنسائي: ليس به بأس، ابن أبي خيثمة عن ابن معين: ليس بشيء، وقال أبو حاتم: أبو الزبير أحب إلي منه، وقال ابن عدي: أحاديث الأعمش عنه مستقيمة، وقال ابن عيينة: حديثه عن جابر صحيفة، وقال شعبة: لم يسمع من جابر إلا أربعة أحاديث، وكذا قال ابن المديني في العلل عن معلى بن منصور، عن ابن أبي زائدة مثله، أخرج له البخاري أربعة أحاديث، وهو مقرون فيها عنده بغيره، واحتج به الباقون، وقال في «التقريب»: صدوق.