🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

645. باب فرض متابعة الإمام - ذكر البيان بأن هذه الصلاة كانت آخر الصلاتين اللتين وصفناهما قبل
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ نماز ہمارے بیان کردہ دونوں نمازوں میں سے آخری تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2125
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " آخِرُ صَلاةٍ صَلاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْقَوْمِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ" يُرِيدُ قَاعِدًا خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا الْخَبَرُ يَنْفِي الارْتِيَابَ عَنِ الْقُلُوبِ أَنَّ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الأَخْبَارِ يُضَادُّ مَا عَارَضَهَا فِي الظَّاهِرِ وَلا يَتَوَهَّمَنَّ مُتَوَهِّمٌ أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الأَخْبَارِ عَلَى حَسْبِ مَا جَمَعْنَا بَيْنَهَا فِي هَذَا النَّوْعِ مِنْ أَنْوَاعِ السُّنَنِ يُضَادُّ قَوْلَ الشَّافِعِيِّ رَحْمَةُ اللَّهِ وَرِضْوَانُهُ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ أَنَّ كُلَّ أَصْلٍ تَكَلَّمْنَا عَلَيْهِ فِي كُتُبِنَا، أَوْ فَرْعٍ اسْتَنْبَطْنَاهُ مِنَ السُّنَنِ فِي مُصَنَّفَاتِنَا، هِيَ كُلُّهَا قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَهُوَ رَاجِعٌ عَمَّا فِي كُتُبِهِ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ الْمَشْهُورَ مِنْ قَوْلِهِ وَذَاكَ أَنِّي سَمِعْتُ ابْنَ خُزَيْمَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: إِذَا صَحَّ لَكُمُ الْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخُذُوا بِهِ وَدَعُوا قُولِي. وَللِشَّافِعِيِّ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ فِي كَثْرَةِ عِنَايَتِهِ بِالسُّنَنِ، وَجَمْعِهِ لَهَا، وَتَفَقُّهِهِ فِيهَا، وَذَبِّهِ عَنْ حَرِيمِهَا، وَقَمْعِهِ مَنْ خَالَفَهَا، زَعَمَ أَنَّ الْخَبَرَ إِذَا صَحَّ فَهُوَ قَائِلٌ بِهِ، رَاجِعٌ عَمَّا تَقَدَّمَ مِنْ قَوْلِهِ فِي كُتُبِهِ، وَهَذَا مِمَّا ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ الْمُبَيِّنِ، أَنَّ لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ ثَلاثُ كَلِمَاتٍ، مَا تَكَلَّمُ بِهَا أَحَدٌ فِي الإِسْلامِ قَبْلَهُ، وَلا تَفَوَّهَ بِهَا أَحَدٌ بَعْدَهُ، إِلا وَالْمَأْخَذُ فِيهَا كَانَ عَنْهُ: إِحْدَاهَا: مَا وَصَفْتُ. وَالثَّانِيَةُ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: مَا نَاظَرْتُ أَحَدًا قَطُّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يُخْطِئَ. وَالثَّالِثَةُ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ مُحَمَّدٍ الدَّيْلَمِيَّ بِأَنْطَاكِيَّةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: وَدِدْتُ أَنَّ النَّاسَ تَعَلَّمُوا هَذِهِ الْكُتُبَ، وَلَمْ يَنْسِبُوهَا إِلَيَّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ جو آخری نماز ادا کی تھی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی کپڑے میں ادا کی تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «التَّوَشُّحُ» (توشیح) کے طور پر اوڑھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں) یہ روایت دلوں سے شک کو ختم کر دیتی ہے کہ ان روایات میں بظاہر کوئی تضاد پایا جاتا ہے اور کوئی بھی شخص اس غلط فہمی کا شکار نہ ہو کہ ہم نے ان روایات کے درمیان جو تطبیق دی ہے وہ امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول کے برخلاف ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر وہ بنیادی اصول جس کے بارے میں ہم نے اپنی کتابوں میں کلام کیا اور ہر وہ فروعی مسئلہ جس کے بارے میں ہم نے احادیث سے استنباط کیا اور ان سب کو اپنی تصنیفات میں ذکر کیا، وہ سارے کے سارے امام شافعی رحمہ اللہ کے اقوال ہی ہوں گے اور وہ اس بارے میں اس چیز کی طرف لوٹیں گے جو ان کی کتابوں میں مذکور ہیں، اگرچہ یہ بات ان کے مشہور قول کے طور پر ہی کیوں نہ ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے امام مزنی رحمہ اللہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو یہ بیان فرماتے ہوئے سنا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی مستند حدیث تمہارے سامنے ثابت ہو جائے تو تم اس کو اختیار کر لو اور میرے قول کو چھوڑ دو۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے احادیث کے بارے میں بڑی کوشش کی، انہیں جمع کیا اور ان کا فہم حاصل کیا اور جس شخص نے ان کے خلاف رائے پیش کی اس کی بھرپور مخالفت کی، وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی روایت مستند طور پر ثابت ہو جائے وہ بھی اس حدیث کے مطابق مسئلے کے قائل ہوں گے اور اس چیز سے رجوع کرنے والے شمار ہوں گے جو (حدیث میں مذکور مسئلے کے خلاف ہو) اور اس سے پہلے ان کی کتابوں میں تحریر ہو چکا ہو، ہم اس سے پہلے اپنی کتاب ”المبین“ میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے تین کلمات ایسے ہیں جو ان سے پہلے اسلام میں کسی بھی شخص نے بیان نہیں کیے اور نہ ہی ان کے بعد کسی شخص نے کہے ہیں، اگر بعد میں بھی کسی نے بیان کیے ہوں تو اس کا ماخذ امام شافعی رحمہ اللہ ہی ہوں گے، ان میں سے ایک قول وہ ہے جو میں بیان کر چکا ہوں، دوسرا قول وہ ہے جسے محمد بن منذر نے حسن بن محمد کے حوالے سے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے جب بھی کسی کے ساتھ بحث کی تو میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ وہ غلطی کر جائے، تیسرا قول وہ ہے جو موسیٰ بن محمد نے ربیع بن سلیمان کے حوالے سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میری یہ خواہش ہے کہ لوگ ان کتابوں کا علم حاصل کریں لیکن ان کو میری طرف منسوب نہ کریں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2125]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2125، 2335، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 862، والترمذي فى (جامعه) برقم: 363، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12126» «رقم طبعة با وزير 2122»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر التعليق. * [إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ] قال الشيخ: هو ثقة بلا خِلاف، ومن فوقه ثِقات رجال الشيخين غير أيُّوب بن سُلَيمَان، وهو القرشي؛ فهو مِنْ رِجَال البخاري. وقولُ المُعَلِّق (5/ 496) أَنَّهُ من رجال الشيخين من أوهامه الكثيرة؛ انظر «الجمع بين رجال الصحيحين» (1/ 35)، وكتب التراجم؛ كالتهذيب وفروعه. وأبو بكر بن أبي أُويسٍ: هو عبد الحميد بن عبد الله الأصبحيُّ المدنيُّ. وقد أخرجه الترمذيُّ (2/ 36 / 363) من غير طريقه عن حُمَيد الطويل، وقال: «حديث حسن صحيح»، وهو كما قال. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، إسحاق بن إبراهيم بن سويد الرملي، ثقة، روى له أبو داود والنسائي، ومن فوقه من رجال الشيخين، وأبو بكر بن أبي أويس: هو عبد الحميد بن عبد الله الأصبحي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں