صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
649. باب فرض متابعة الإمام - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فأذنا وأقيما أراد به أحدهما
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "فأذنا وأقيما" سے مراد ان میں سے ایک ہے
حدیث نمبر: 2130
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، مُنْذُ ثَمَانِينَ سَنَةً، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي وَلِصَاحِبٍ لِي: " إِذَا خَرَجْتُمَا فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدَكُمَا، وَلْيَقُمْ وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا" .
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اور میرے ساتھی سے فرمایا: ”جب تم روانہ ہو جاؤ تو تم دونوں میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور وہ اقامت کہے اور تم دونوں میں سے جو شخص عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2130]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2127»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، وانظر (1658).
حدیث نمبر: 2131
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا إِلَى أَهْلِينَا، سَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا، فَأَخْبَرْنَاهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا، فَقَالَ:" ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَعَلِّمُوهُمْ، وَمُرُوهُمْ، وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي"، لَفْظَةُ أَمْرٍ تَشْتَمِلُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ كَانَ يَسْتَعْمِلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ، فَمَا كَانَ مِنْ تِلْكَ الأَشْيَاءِ خَصَّهُ الإِجْمَاعُ أَوِ الْخَبَرُ بِالنَّقْلِ، فَهُوَ لا حَرَجَ عَلَى تَارِكِهِ فِي صَلاتِهِ، وَمَا لَمْ يَخُصَّهُ الإِجْمَاعُ أَوِ الْخَبَرُ بِالنَّقْلِ فَهُوَ أَمْرٌ حَتْمٌ عَلَى الْمَخَاطَبِينَ كَافَّةً، لا يَجُوزُ تَرْكُهُ بِحَالٍ.
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نوجوان ہم عمر لوگ تھے۔ ہم نے آپ کے پاس بیس دن قیام کیا جب آپ کو یہ اندازہ ہو گیا، ہمارے لیے ہمارے گھر والوں سے علیحدگی دشواری کا باعث ہو رہی ہے، تو آپ نے ہم سے اس بارے میں دریافت کیا: ہم اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کے آئے ہیں۔ ہم نے آپ کو اس بارے میں بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مہربان اور نرم دل تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلے جاؤ۔ انہیں تعلیم دو انہیں حکم دو اور تم اسی طرح نماز ادا کرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، جب نماز کا وقت آ جائے، تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو شخص عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم لوگ اس طرح نماز ادا کرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے“ یہ لفظی طور پر امر کا صیغہ ہے جو ہر اس چیز پر مشتمل ہے جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے دوران عمل کیا کرتے تھے اور ان میں سے دو چیزیں ایسی ہیں۔ جن کو اجماع نے خاص کر دیا ہے۔ یا روایت نقل ہونے کے حوالے سے وہ خاص ہو گئی ہیں تو نماز کے دوران اسے ترک کرنے والے شخص کو کوئی حرج نہیں ہو گا: اور جسے اجماع نے یا کسی منقول حدیث نے خاص نہیں کیا۔ تو وہ لازمی حکم ہو گا جو تمام مخاطب لوگوں کے لیے ضروری ہو گا اور اسے ترک کرنا کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2131]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2128»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، وهو مكرر (1658).