🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

757. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن نسخ الكلام في الصلاة إنما نسخ منه ما كان منه من مخاطبة الآدميين دون مخاطبة العبد ربه فيها
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ نماز میں بات چیت کا منسوخ ہونا صرف انسانوں سے مخاطبت کے بارے میں تھا، نہ کہ بندے کی اپنے رب سے مخاطبت کے بارے میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2247
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِلالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، فَجَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلامِ، وَإِنَّ رِجَالا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ:" ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، وَلا يَضُرُّهُمْ" . قُلْتُ: وَرِجَالا مِنَّا يَأْتُونَ الْكَهَنَةَ؟ قَالَ:" فَلا تَأْتُوهُمْ" . قُلْتُ: وَرِجَالا مِنَّا يَخُطُّونَ؟ قَالَ:" قَدْ كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ" . قَالَ: قَالَ: ثُمَّ بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ، إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمَّاهُ، مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ قَالَ: فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي سَكَتُّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلاتِهِ دَعَانِي، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ، وَلا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللَّهِ مَا ضَرَبَنِي، وَلا كَهَرَنِي، وَلا سَبَّنِي، وَلَكِنْ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ صَلاتَنَا هَذِهِ لا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ، وَالتَّكْبِيرُ، وَتِلاوَةُ الْقُرْآنِ" . قَالَ: قَالَ: وَأَطْلَقْتُ غُنَيْمَةً لِي تَرْعَاهَا جَارِيَةٌ لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فوجدت الذئب قد ذهب منها بشاة، وأنا رجل من بني آدم، آسف كما يأسفون، وأغضب كما يغضبون، فصككتها صكة، فأخبرت بذلك رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَظَّمَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَعْلَمُ أَنَّهَا مُؤْمِنَةٌ لأَعْتَقْتُهَا، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْتِنِي بِهَا"، فَجِئْتُ بِهَا، فَقَالَ: " أَيْنَ اللَّهُ؟" قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ:" مَنْ أَنَا؟"، قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ:" إِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ، فَأَعْتِقْهَا" .
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم لوگ زمانہ جاہلیت سے زیادہ دور نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آیا ہم میں سے کچھ لوگ فال نکالا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: یہ ایک ایسی چیز ہے، جو صرف ان کا گمان ہے یہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ کاہنوں کے پاس جایا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ۔ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ رمل کا عمل کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک صاحب یہ علم جانتے تھے، تو (ہمارے زمانے میں) جس شخص کی لکیر اس کے مطابق ہو جائے، تو وہ (بات درست ثابت ہوتی ہے) راوی بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا۔ اسی دوران حاضرین میں سے کسی صاحب کو چھینک آ گئی تو میں نے کہا:اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے تو لوگوں نے مجھے گھور کر دیکھا۔ میں نے کہا: تم لوگوں کا ستیاناس ہو تم میری طرف گھور کر کیوں دیکھ رہے ہو، تو کچھ لوگوں نے اپنے ہاتھ اپنے زانوں پر مارے۔ راوی کہتے ہیں: جب میں نے ان لوگوں کو دیکھا، وہ مجھے خاموش کروانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو میں خاموش ہو گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، تو آپ نے مجھے بلوایا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے آپ سے پہلے یا آپ کے بعد آپ جتنا معلم نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! نہ آپ نے مجھے ڈانٹا نہ جھڑکا نہ برا کہا: بلکہ آپ نے ارشاد فرمایا: ہماری اس نماز کے دوران لوگوں کے کلام میں سے کوئی چیز مناسب نہیں ہے۔ یہ (نماز) تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت (پر مشتمل ہوتی ہے) راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی کچھ بکریاں کھلی چھوڑیں جنہیں ایک کنیز پہاڑ اور جوانیہ کی طرف چرا رہی تھی۔ میں نے یہ صورت حال پائی، کوئی بھیڑیا ان میں سے ایک بکری کو لے گیا ہے۔ میں بھی آخر ایک انسان ہوں۔ مجھے بھی اسی طرح افسوس ہوتا ہے، جس طرح دوسروں کو ہوتا ہے۔ مجھے بھی اسی طرح غصہ آتا ہے، جس طرح دوسروں کو آتا ہے۔ میں نے اس کنیز کو مکا رسید کیا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اگر مجھے یہ پتہ چل جائے، یہ کنیز مومن ہے، تو میں اسے آزاد کر دوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے لے کر میرے پاس آؤ میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے دریافت کیا۔اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: آسمان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: میں کون ہوں؟ اس نے عرض کی: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ مومن ہے تم اسے آزاد کر دو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2247]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2244»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2/ 111 - 113)، «صحيح أبي داود» (862): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير عبد الرحمن بن إبراهيم -ولقبه: دحيم- فمن رجال البخاري، وغير صحابي الحديث فقد خرج حديثه مسلم، ولم يخرج له البخاري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں