🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

760. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر خبر احتج به من جهل صناعة الحديث فزعم أن أبا هريرة لم يشهد هذه القصة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا صلى معه هذه الصلاة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جسے حدیث کی صنعت سے ناواقف نے دلیل کے طور پر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ ابو ہریرہ نے اس واقعے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا اور نہ ہی ان کے ساتھ یہ نماز پڑھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2250
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاةِ بِالْحَاجَةِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238،" فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا الْخَبَرُ يُوهِمُ مَنْ لَمْ يَطْلُبِ الْعِلْمَ مِنْ مَظَانِّهِ أَنَّ نَسْخَ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ كَانَ بِالْمَدِينَةِ، وَأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَمْ يَشْهَدْ قِصَّةَ ذِي الْيَدَيْنِ، وَذَاكَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ مِنَ الأَنْصَارِ، وَقَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاةِ بِالْحَاجَةِ، وَلَيْسَ مِمَّا يَذْهَبُ إِلَيْهِ الْوَاهِمُ فِيهِ فِي شَيْءٍ مِنْهُ، وَذَلِكَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَانَ مِنَ الأَنْصَارِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا بِالْمَدِينَةِ، وَصَلَّوْا بِهَا قَبْلَ هِجْرَةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا، وَكَانُوا يُصَلُّونَ بِالْمَدِينَةِ كَمَا يُصَلِّي الْمُسْلِمُونَ بِمَكَّةَ فِي إِبَاحَةِ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ لَهُمْ، فَلَمَّا نُسِخَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ نُسِخَ كَذَلِكَ بِالْمَدِينَةِ، فَحَكَى زَيْدٌ مَا كَانُوا عَلَيْهِ، لا أَنَّ زَيْدًا حَكَى مَا لَمْ يَشْهَدْهُ.
سیدنا زید بن ارقم بیان کرتے ہیں: پہلے ہم ضرورت کے پیش نظر نماز کے دوران کلام کر لیا کرتے تھے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیان والی نماز کی بھی اوراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فرمانبرداری کے ساتھ کھڑے رہو۔ تو ہمیں (نماز کے دوران) خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کیا جس نے علم حدیث کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل نہیں کیا اور وہ اس بات کا قائل ہے کہ نماز کے دوران کلام کرنے کے منسوخ ہونے کا حکم مدینہ منورہ میں آیا تھا۔ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے واقعہ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا تعلق انصار سے ہے۔ وہ یہ بیان کرتے ہیں پہلے ہم نماز کے دوران کوئی ضرورت کی بات چیت کر لیا کرتے تھے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے جس غلط فہمی کا شکار یہ شخص ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا تعلق ان انصار سے ہے جنہوں نے مدینہ منورہ میں اسلام قبول کیا تھا۔ اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ میں ہجرت کرنے سے پہلے مدینہ منورہ میں نمازیں ادا کرتے رہے تھے۔ یہ لوگ مدینہ منورہ میں اسی طرح نماز ادا کرتے تھے۔ جس طرح مسلمان مکہ میں نماز ادا کرتے تھے۔ اور اس وقت ان لوگوں کے لیے نماز کے دوران بات چیت کرنا مباح تھا۔ جب یہ حکم مکہ میں منسوخ ہوا تو اسی طرح مدینہ میں منسوخ ہو گیا۔ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے وہ چیز بیان کی ہے جس پر وہ پہلے عمل کیا کرتے تھے۔ ایسا نہیں ہے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کسی ایسی چیز کے بارے میں بیان کیا ہو، جس میں وہ خود شریک نہیں تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2250]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2247»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر (2242). تنبيه!! رقم (2242) = (2245) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں