صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
888. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن صلاة المرء إنما تقطع من مرور الكلب والحمار والمرأة لا كونهن واعتراضهن
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کی نماز کتے، گدھے، اور عورت کے گزرنے سے ٹوٹتی ہے، نہ کہ ان کے موجود ہونے یا اعتراض سے
حدیث نمبر: 2391
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُعَادُ الصَّلاةُ مِنْ مَمَرِّ الْحِمَارِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالْكَلْبِ الأَسْوَدِ"، قُلْتُ: مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَصْفَرِ مِنَ الأَحْمَرِ؟، فَقَالَ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ:" الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" .
عبداللہ بن صامت سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ”گدھے عورت یا سیاہ کتنے کے (نمازی سے آگے سے گزرنے سے دوبارہ نماز ادا کی جائے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: سیاہ کتا کیوں؟ زرد یا سرخ کیوں نہیں؟ تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم نے ارشاد فرمایا: سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2391]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2384»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3323): م نحوه، وتقدم (2376). تنبيه!! رقم (2376) = (2383) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.